میر واعظ بدستور خانہ نظر بند

حکام نے فیصلہ واپس لیا: حریت(ع)

تاریخ    6 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر // حریت کانفرنس(ع) نے کہا ہے کہ سرکاری حکام نے میر واعظ عمر فاروق کو اگست 2019 کے بعد 20 ماہ کی طویل نظربندی سے رہا کرنے کے اپنے فیصلے واپس لے لئے ۔جمعرات کی شب پولیس عہدیدار یہ پیغام دینے کیلئے میر واعظ کی رہائش گاہ پر آئے اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا گیاکہ وہ بدستور ابھی بھی نظربند رکھے گئے ہیں اور انہیں پروگرام کے مطابق جمعہ کی نماز اور بقول بیان اپنی منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔بیان کے مطابق علی الصبح ہی میرواعظ کی رہائش گاہ کے باہر مزید ون ٹن گاڑیاں کھڑی کرکے بڑے پیمانے پر اضافی دستے تعینات کردیئے گئے۔حریت نے حکومت کے اس دہرے معیار اور آمرانہ طرز عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حد درجہ افسوسناک اور جمہوری و انسانی قدروں کی پامالی سے تعبیر کیا ہے۔بیان میںمزید کہا گیا کہ حال ہی میںبھارتی پارلیمنٹ میں ہندوستان کے وزیر مملکت برائے امور داخلہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں کوئی بھی رہنماگھر میں نظربند نہیں ہے اگر ایسا ہے تو پھر میر واعظ کو حراست میں کیوںرکھا گیا ہے؟۔حریت نے یہ بات دہرائی کہ حکام کے اس مذموم فیصلے سے لوگوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔حریت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہرگز مایوس نہ ہوں  اور کسی بھی طرح کے تشدد آمیز حرکات سے گریز کریں۔ادھر میرواعظ عمر فاروق کا جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے موقعہ پر لوگ انتظار کر رہے تھے اور انہیں گمان تھا کہ19ماہ کی خانہ نظربندی کے خاتمے کے بعدوہ جمعہ کا خطبہ دینگے۔ جامع مسجد کے اطراف و اکناف میں ڈیوڈیاں لگائی گئیں تھیں۔عینی شاہدین کے مطابق اس موقعہ پر جامع مسجد سرینگر میں احتجاج بھی ہوا اور سنگبازی بھی ہوئی،جس کے دوران ایک خاتون زخمی ہوئی۔2صحافیوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں احتجاج کے دوران فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔وادی کشمیر کی صحافتی انجمنوں نے نوہٹہ میں صحافیوں کو فورسز کی طرف سے نشانہ بنانے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کی مذمت کی ہے۔

تازہ ترین