ہند و پاک پیشرفت| بہتر تعلقات کے متمنی

پُرامن طریقے سے مسائل حل کرنے کے خواہاں: وزارتِ خارجہ

تاریخ    6 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی//بھارت نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات کا خواہشمند ہے اور دو طرفہ طور پر تمام مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کی جانب سے یہ ردعمل پاکستانی وزارت خارجہ کے گذشتہ روز اسی طرح کے دیئے گئے بیان کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔گذشتہ روز ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستانی وزارت خارجہ ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے مستقبل میںبھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کے کسی امکان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ’’ پاکستان کبھی بھی بات چیت سے بھاگا نہیں ہے بلکہ اس نے ہمیشہ پر امن طریقے سے سبھی حل طلب بشمول جموں کشمیر کے معاملات کو حل کرنے پر زوردیا ہے‘‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان ہمسائیوں کیساتھ قریبی تعلقات استوار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور سبھی معاملات پر بات چیت کی وکالت کرتا آیا ہے۔پاکستان کے اس بیان کے تناظر میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ ترجمان انوراگ شری واستو انے کہا’’ جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمد کے اس معاملے پر وزارت دفاع سے رجوع کیا جانا چاہیے‘‘۔ انہوں نے کہا’’بھارت پاکستان سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کا خواہاں ہے،ہم نے مستقل طور پر یہ بات برقرار رکھی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین اگر کوئی مسئلہ ہو تو وہ دو طرفہ اور پر امن طور پر حل ہونا چاہئے۔ اہم امور کے بارے میں ہمارا موقف بدلا نہیںہے۔‘‘ پاکستانی اور ہندوستانی فوج کی جانب سے2003کے جنگ بندی معاہدے کو سختی کے ساتھ عملانے پر اتفاق کے چند روز بعد بھارت نے کہا ہے کہ وہ تمام ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان کے ساتھ معمول کے رشتے بنائے رکھنے کا خواہشمند ہے اور اس بات پر زور دیا کہ وہ دونوں ملکوں کے مابین تمام مسائل کو پرامن اور باہمی طور پر حل کرنے کا متمنی ہے۔گذشتہ ماہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے مابین ہاٹ لائن گفتگو کے بعد ، دونوں فریقین نے لائن آف کنٹرول اور دیگر تمام شعبوں کے ساتھ تمام معاہدوں ، افہام و تفہیم اور جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا۔ہندوستان اور پاکستان نے 2003 میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔ہندوستانی فوج کے افسراں نے زور دیا ہے کہ ملی ٹنسی کے خلاف ان کی لڑائی یا سرحدوں کے ساتھ فوجیوں کی تعیناتی میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی ، جسے انہوں نے خطے میں امن کی تازہ کوشش قرار دیا ہے۔ 

تازہ ترین