میانمار فوج بچوں کے خلاف تشدد سے بچے: یونی سیف

تاریخ    6 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
واشنگٹن// (اسپوتنک) اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال (یونیسف) نے میانمار کے سلامتی دستوں سے بچوں کے خلاف تشدد سے بچنے کی اپیل کی ہے۔ فروری میں احتجاجی مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم پانچ بچوں کے مارے جانے کی رپورٹ ہے۔ بیان میں جمعرات کو کہا گیا،’یونیسیف نے بچوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں زندہ گولہ بارود کا استعمال اور بچوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جانا شامل ہے۔ یونیسیف نے میانمار سکیورٹی فورسز سے فوراً تشدد سے بچنے، بچوں اور نوجوانوں کو نقصان نہ پہنچانے کی اپیل کی ہے‘۔ یونیسیف کے مطابق میانمار میں احتجاجی مظاہروں میں اب تک کم از کم پانچ بچے اور کئی نوجوان مارے جا چکے ہیں جبکہ کم از کم چار بچے سنگین طور پر زخمی ہو گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیسیف کے شرکاء کا اندازہ ہے کہ 500 سے زیادہ بچوں کو من مانے ڈھنگ سے حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے بہتوں کو ایسے مقامات پر رکھا گیا ہے جہاں وہ کسی سے بات چیت بھی نہیں کر سکتے ہیں اور انھیں کوئی قانونی مدد بھی نہیں دی گئی ہے۔ گذشتہ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے حکومت کا تختہ پلٹ کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا جس میں بر سر اقتدار نیشنل لیف فار ڈیموکریسی پارٹی پر انتخابی دھوکہ دہی میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی ایک ایک سال کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا۔ فوج نے صدر ون منٹ اور کئی دیگر اعلیٰ افسران کو حراست میں لے لیا ہے۔ 
 

تازہ ترین