’ دریائے نیل سے بحرِ قلزم تک‘

حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کی سرگزشت پربہترین تصنیف

تاریخ    6 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل بشیر کار،بارہمولہ
 قرآنی قصص کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ان قصوں میں عظیم ہستیوں کی زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ خاص کر نوجوان نسل کو بہترین اسلوب میں ان قصص سے بہرہ ور کیا جائے تاکہ ان کی زندگی پرسکون ہو اور معاشرہ خوشگواربنیادوںپراستوارہو۔ ان قرآنی قصص کو بہترین اسلوب دینے کی کوشش برادرعبد العظیم معلم ندوی نے کی ہے۔زیر تبصرہ کتاب’ دریائے نیل سے بحر قلزم تک‘ (حق و باطل کی معرکہ آرائی کی ایک دلچسپ اور ناقابل فراموش داستان) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی سرگزشت ہے۔اکثر واقعات قرآن کریم سے لیے گئے ہیں، فرضی اور من گھڑت واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے۔اس سے پہلے انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر دو خوبصورت کتابیں لکھی ہیں۔ بانی و ناظم’ ادارہ امام حسن البنا شہید بھٹکل‘ کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: ’ہمارے نوجوان عالم دین مولانا عبدالعظیم معلم ندوی صاحب نے یہ بیڑا اٹھایا ہے کہ قرآن میں موجود نبیوں کے قصوں کو افسانوی انداز میں لکھ کر عوام کے لئے خصوصاً نوجوانوں کے لئے تشویش کا سامان مہیا کریں۔ اسی بہانے نئی نسل ان قصوں کو پڑھے اور پڑھ کر اپنی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کرے اور اپنے لیے نمونہ و آئیڈیل حضرات انبیاء علیہم السلام کی ذات کو بنائے ۔‘(صفحہ ۳)
 موسیٰ علیہ السلام کے قصہ کو عہد حاضر میں غیر معمولی اہمیت ہے خاص کر موجود ہ حالات میں ان کے دور کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ کتاب کے مصنف لکھتے ہیں:
’زیر نظر کتاب ایک مغلوب و مظلوم قوم کی بے بسی اور غالب اور ظالم حکمران کے ظلم اور تمردکی ناقابل یقین داستان پر مشتمل ہے۔یہ صرف ایک طویل تاریخی داستان نہیںبلکہ ظلم اور عدل کے حق اور باطل کے آزادی و غلامی کے زبردست اور بالادست معرکے و کشمکش کے پر مغز حقائق ہیں جس کی تہہ میں باوجود تمام وسائل کے ظالم و متکبر حکمران ذلیل اور نامراد ہوتا نظر آتا ہے اور مظلوم و مجبور قوم دنیا کے ایک وسیع خطے کی مالک بنتی نظر آتی ہے ۔‘(صفحہ ۹)
یہ کتاب تمام کمزور اور مظلوم انسانوں کے لیے ایک تسلی کا سامان ہے کہ کیسے اللہ رب العزت نے ایک کمزور قوم کو  وقت کے سُپر پاور سے نجات دے کرباعزت زندگی بسرکرنے کاسامان کیا۔ ضرورت ہے صحیح حکمت عملی اور صبر کی۔کتاب کا اسلوب شاندار ہے اور یہ اسلوب ابتدا سے آخر تک ہے۔مصنف کتاب کا آغاز فرعون کے ایک خواب سے کرتے ہیں:
’قصرِ رعمیسی میں فرعون محو خواب تھا۔ وہ چین کی نیند کے مزے لے رہا تھا۔ نرم و نازک گدے اس کو دیر تک بیدار ہونے نہیں دیتے تھے۔ آج خلاف معمول فرعون صبح صبح بیدار ہوا، گھبرایا ہوا تھا۔ ایسے ہانپ رہا تھا جیسے میلوں دوڑ کر آرہا ہو۔ اس نے خواب دیکھا ،وہ اس کے لیے انتہائی لرزا دینے والا تھا۔ اس نے دیکھا بیت المقدس کی جانب سے ایک آگ نے مصر کا رخ کیا اور لمحوں میں پورا مصر اور تمام قبطی اس کی لپیٹ میں آگیے لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ بنو اسرائیل بالکل محفوظ تھے ۔‘(صفحہ ۱۳)
خواب کی تعبیر نجومی اور جادوگر یہ بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ہاں ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں مصری ہولناک تباہی کے شکار ہونگے اور وہی بچہ بنی اسرائیل کو مصریوں کی غلامی سے نجات دلا کر بیت المقدس کی طرف لے جائے گا۔خواب سن کر فرعون جو پہلے سے ہی بنی اسرائیل پر ظلم و جبر کر رہا تھا ،اب بنی اسرائیل کے ہر بچہ کو مارنے لگا۔ جو بھی بچہ پیدا ہوتا، اگر وہ لڑکا ہوتا تو اس کو مار دیا جاتا لیکن اسی دور میں اللہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرنا تھا اور رہتی دنیا تک ظالموں کے لیے نشان عبرت اور اہل ایمان کے لیے باعثِ سکون رکھنا تھا، مصنف لکھتے ہیں:
’قدرت کی نگاہیں اس ظلم کو دیکھ رہی تھی، آسمان اشک آلود نظروں سے اس نظارے کو گھور رہا تھا اور زمین ماتم کر رہی تھی، لیکن فرعون نے جس بچے کے خوف سے یہ سب کیا اس کی زندگی قدرت کو منظور تھی، پھر بھلا اس کی کوئی تدبیر کیسے کارگر ہوتی۔‘(صفحہ ۱۶)
جب موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو ان کی ماں انہیں ایک لکڑی کے صندوق میں ڈالتی ہے اور صندوق کو دریا کے سپرد کیا تاکہ وہ قتل نہ ہو جائے اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ملکہ دریا کے کنارے تھی ۔یہ صندوق اس کو مل گیا ۔بچے کامعصوم مہ رُخ چہرہ ملکہ کے دل کوبھاگیا،مامتانے انکڑائی لی جس کی وجہ سے وہ بچے کو مار نہ سکی اور فیصلہ کیا کہ اس بچے کی پرورش محل میں ہی کی جائے۔ حضرت موسیٰ کی بہن جو دریا کنارے اس منظر کو دیکھ رہی تھی، سائے کی طرح اپنے بھائی کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔محل میں سب کوشش کر رہے تھے کہ بچہ کسی کا دودھ پئے ۔لیکن کلیم اللہ محل میںکسی کاپستان قبول نہیںکررہے تھے۔موسیٰ علیہ السلام کی بہن نے کمال ہوشیاری سے اپنی ماں کا پتہ دیا اس طرح یہ بچہ رضاعت کے لیے نہایت شان سے اپنی ماں تک پہنچ گیا اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام کی پرورش اعلٰی ماحول میں کروانا چاہتے تھے، لکھتے ہیں:
’جب مدت ِرضاعت ختم ہوئی تو ام موسیٰ نے بادل ناخواستہ اپنے لخت جگر کو قصر رعمیسی میں آسیہ کے حوالے کر دیا،موسٰی شہزادوں کی طرح محل میں پرورش پانے لگے۔شاہی آداب سے بھی واقف کرایا گیا۔ فنونِ حرب کے ماہرین سے انھوں نے حرب و ضرب کے تمام ہنر سیکھ لیے، جو اس وقت مصر میں جمع تھے۔ اس لیے اس وقت میں مصری حکومت کا سکہ چلتا تھا، یہی وجہ تھی کہ ہر فن مصر کے دارالحکومت میں جمع تھے۔ ‘(صفحہ ۲۲)
چند سالوں بعد ان کے ہاتھ سے ایک قبطی کا قتل ہوا، جس وجہ سے انہیں مصر چھوڑنا پڑا۔ وہ بھاگتے بھاگتے مدین پہنچ گیے جہاں ان کا نکاح حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی سے ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک معاہدہ کے تحت وہاں دس سال رہنا پڑا، اللہ کے ہر فیصلے میں ایک خاص مشیت ہوتی ہے مصنف لکھتے ہیں :
’مدین کی دس سالہ زندگی نے ایک طرف جہاں موسیٰ کے مزاج کو بدلا وہیں موسیٰ علیہ السلام کو ہر واقع کے حالات کا مقابلہ کرنا بھی سکھایا۔ کہاں مصر کا شاہی محل جہاں ان کی پرورش ہوئی۔ جہاں ناز و نعم میں پروان چڑھے، جہاں ان کی ایک آواز پر خاد ماوں اور ملازموں کی قطار لگ جاتی تھی اور کہاں زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم یہ بستی، جہاں نہ صرف انہیں خود اپنا کام کرنا پڑتا تھا بلکہ ایک پورے گھرانے کا کام بھی انجام دینا پڑتا تھا۔ اس زندگی نے جہاں موسیٰ علیہ السلام کو بہت سارے تجربات سے روشناس کرایا وہیں غریبوں سے بھی ہمدردی، ضرورت مندوں کی دادرسی اور خوشحالی پر شکر اور مشکلات پر صبر سے کام لینا بھی سکھا دیا۔ اسی دس سالہ زندگی میں سیدنا شعیب کے زیر سایہ موسیٰ نے روحانی طور پر اتنی ترقی کر لی تھی کہ وہ عبادت میں چاشنی، ذکر میں لذت اور ایمان کی راہ میں مشکلات پر حلاوت محسوس کرنے لگے تھے۔اب موسیٰ کی تربیت مکمل ہو چکی تھی۔اب وہ نبوت کے اہل بن چکے تھے اور وقت کے طاغوت کے خلاف سر اٹھانے کی بات کرنے اور ان کو قائل کرنے کی سکت ان میں پیدا ہو چکی تھی ۔‘(صفحہ ۳۵)
موسیٰ علیہ السلام کو جب نبوت عطاہوئی ،مصنف نے اس دلکش منظر کی بہترین عکاسی کی ہے۔ساتھ ہی ان واقعات کو عمدہ طریقہ سے قلم بند کیا گیاہے جن میں موسیٰ علیہ السلام اپنی دعوت فرعون کو پیش کرتے ہیں۔کس طرح جادوگر ایمان لاتے ہیں۔ اس دوران بنی اسرائیل پر ظلم و جبر اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کو خوبصورت الفاظ دیے گئے ہیں۔جب اس ظلم سے بچنے کے لیے موسیٰ اپنی قوم کو لے کربھاگ رہے تھے اور فرعون نہایت جلال میں موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کا پیچھا کر رہا تھا اس واقعہ کو مصنف اس طرح بیان کرتے ہیں :
’فرعون طوفانی رفتار سے رعمسیس سے بنو اسرائیل کا تعاقب کرتے ہوئے نکلا تھا۔ صبح کی پوپھٹنے سے پہلے ہی اس نے 'بحیرات مرہ' کے قریب بنو اسرائیل کو جولیا۔ مصریوں کے چہرے بنو اسرائیل کو دیکھ کر کھل اٹھے۔ فرعون اور اس کے لشکر کو دیکھ کر بنو اسرائیل کی بدحواسی سے وہ لطف اندوز ہونے لگے۔ابھی وہ آپس میں چہ میگوئیاں کر ہی رہے تھے کہ انھوں نے اپنی زندگی کا ناقابل یقین منظر دیکھا، اگر کوئی یہ بات بطور خواب بھی کسی سے بیان کرتا تو کوئی یقین نہ کرتا بلکہ پاگل قرار دیتا، جب کہ یہ تو ان سب نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اچانک پرسکون ہوا اور پانی پھٹ گیا، بیچ میں ایک خشک راستہ بن گیا۔ بنو اسرائیل موسیٰ کی رہنمائی میں اس میں اتر گیے اور اطمینان سے دریا پار کرنے لگے ۔‘(صفحہ ۷۸)
اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت سے موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم آزاد ہوئی اور اس کے بعد فرعون اورآلِ فرعون ڈوب گئے حالانکہ ان کے پاس وسائل تھے۔ اس واقعہ سے مصنف امت مسلمہ کو خاص پیغام دیتے ہیں :
’ ۱۸۲۴ق م کا یہ دن بنو اسرائیل کے لیے عید کا دن بن گیا، اس لیے کہ اس دن ان کا سب سے بڑا دشمن فرعون بحر قلزم میں غرق ہوا تھا۔ یہ وہی دن تھا جس کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا، جس کو اپنی دولت پر ناز تھا، جس کو اپنی حکومت پر بھروسا تھا۔ انہی کے بل پر اس نے’ اَنا ربکمُ الاعلی ‘کا اعلان کیا تھا۔ خدا کے بندوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، ناحق معصوم بچوں اور بے گناہ لوگوں کاخون بہایا اور ہر ستم روارکھالیکن جب خدا کا عذاب آیا تو ان میں سے کوئی چیز اس کے کام نہ آسکی۔سب کچھ دھرا کا دھرا رہ گیا۔نہ اس کی فوج اس کو ڈوبنے سے بچا سکی، نہ دولت اور حکومت کے بل بوتے پر وہ موت کا سودا کرسکا۔خدائی کا دعویٰ کرنے والا جس بے بسی کی موت مرا تاریخ اس پر شاہد ہے۔ مصری دستور کے مطابق اس فرماں روا کا مقبرہ نہ بن سکا۔‘(صفحہ ۸۲)
کتاب یہی ختم نہیں ہوتی اس کے بعد کے واقعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، بنی اسرائیل پر اللہ کی خاص نعمتیں تھیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ظالم و جابر فرعون کا انجام دیکھا تھا، حضرت موسی علیہ السلام انہیں ایک آئیڈیل امت بنانا چاہیے تھے مگر یہ قوم غلامی کی وجہ سے بد فطرت بن گئی تھی، مصنف لکھتے ہیں: 
’اللہ کے بے شمار احسانات و انعامات کے باوجود ان کی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ان کا مزاج ذرہ برابر نہیں بدلا۔ نہ صرف ان کا ذوق بگڑا اور اخلاق فاسد ہوگئے تھے بلکہ صدیوں کی غلامی نے انھیں جہاں پست ہمت اور کمزور بنادیا تھا وہیں غیر مستقل مزاج اور ناشکرا بنا دیا تھا ۔‘(صفحہ ۸۸)
کتاب میں ان تمام واقعات کو بیان کیا گیا ہے جو اس قوم کے ساتھ پیش آئے۔جو کچھ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ کس طرح ہر بات میں کج روی اختیار کی، اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا لیکن ایسی عجیب قوم تھی کہ جب انہیں گائے ذبح کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کس طرح عجیب سوالات کیے مصنف اس کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
’بڑی آسان صورت تھی جس پر عمل کرنے سے فورا َمسئلہ حل ہو جاتا لیکن بنو اسرائیل ٹھہرے بنو اسرائیل بھلا کیسے بات کو فوراً مانتے۔ہر بات پر سوالات، نکتہ چینی، کج بحثی اور بہانہ تراشی ان کی فطرت بن چکی تھی۔‘(صفحہ ۱۰۰) 
اللہ تعالیٰ اس قوم کو سرفراز کرنا چاہتے تھے لیکن اس قوم کی فطرت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ اب وہ کسی منصب کو نہیں سنبھال سکتی تھی لہٰذا اللہ نے چالیس سال تک اس قوم کو صحراؤں میں رکھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد رشید یوشع بن نون کے ذریعہ انہیں خلافت عطا کی گئی مصنف لکھتے ہیں :
"اب چالیس سال مکمل ہوگئے تو کافروں سے جہاد کرنے سے انکار کرنے والوں میں سے کوئی نہ بچا تھا۔ ارض مقدس سے محرومی کی مدت ختم ہو چکی تھی۔یوشع بن نون نے بنو اسرائیل کو وعظ و نصیحت کی اور اللہ کے انعامات و احسانات یاد دلا کر انھیں جہاد پر آمادہ کیا۔ بنو اسرائیل نے یوشع بن نون کی سرکردگی میں دریائے اردن پار کرکے پہلے فلسطین کے نواحی علاقے اریحا کو فتح کر لیا، انھوں نے بڑی جرات مندی اور بے جگری سے دشمنوں کا صفایا کیااور مردانہ وار آگے بڑھتے گئے۔یہاں تک کہ وہ پورے فلسطین پر قابض ہوگئے۔اللہ نے جو وعدہ اپنے نبی کی زبانی کیا تھا وہ پورا ہوگیا اور بنو اسرائیل کو ارض مقدسہ میں غلبہ نصیب ہوا اور مدتوں ان کی حکومت رہی۔ "(صفحہ ۱۲۰)
۱۲۰ صفحات کی کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جہاں مستند واقعات بیان کیے گئے ہیں وہیں ان واقعات سے آج کل کے انسان کے لیے باریک سے باریک نکات کو بھی highlight کیا گیا ہے ۔کتاب اعلی کاغذ پر ’ادارہ مام حسن البنا شہید بھٹکل ‘سے چھپی ہے۔ قیمت بھی مناسب ہے۔امید ہے مصنف کی ایسی کاوشیں مستقبل میں بھی جاری رہیںگی۔
 

تازہ ترین