ناسور بن گئی ہے لعنت جہیز کی !

مجروح قلم سے

تاریخ    6 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


الف عاجز
 جہیز ایک ایسا ناسورہے جس کی وجہ سے ملت کی کئی بیٹیاں سپرد خاک ہوگئی۔ کہتے تو ہم سب ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس پر عمل پیرا کوئی نہیں ہوتا۔ اس ناسور کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا، اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کی کوئی ترکیب نہیں کی جاتی۔ ہمارے مولوی حضرات، علماء کرام اور باقی سب جہیز کے خلاف تو بولتے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں کرتا، جب لینے کی باری آتی ہے تو سب دل کھول کر لیتے ہیں لیکن کوئی لڑکی والوں سے یہ نہیں کہتا کہ آپ نے اپنی بیٹی، اپنے جگر کا ٹکڑا ہمیں دے دیا یہی کافی ہے۔ نہیں! بلکہ بات کو گھما پھرا کر کہا جاتا ہے ہمیں کچھ نہیں چاہیے باقی آپ لوگ اپنی بیٹی کو جو دینا چاہتے ہیں وہ دے دیجیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ارے اللہ کے بندو ذرا شرم کرو اور یہ دیکھنے کی کوشش کرو کہ لڑکی کا باپ اپنے داماد کو دینے کے بجائے بیٹی کو ہی کیوں نہ دے لیکن وہ دے تو رہا ہے نا اس کو دینا تو پڑتا ہے نا، آخر پہنچ تو سب کچھ لڑکی کے سسرال ہی جاتا ہے، چاہے جہیز کے نام پر ہو یا گفٹ کے نام پر۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچ کر بھی باپ کی دہلیز پر پڑی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیاں خودکشی جیسے بھیانک قدم اْٹھاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی والدین کو یہ فکر لگ جاتی ہے کہ اْن کی بیٹی کا نصیب اچھا ہو۔ یہی وجہ کہ بیٹی کی پیدائش پر سب کو چپی لگ جاتی ہے۔ خدا کاواسطہ ہے معصوم بچیوں کی زندگی جہنم نہ بناؤ۔
حال ہی میں سابرمتی ندی میں کود کر خود کشی کرنے والی احمد آباد کی عائشہ نامی ایک لڑکی کا ویڈیو سامنے آیا جس نے سب کا دل و دماغ جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اْس ویڈیو میں لڑکی کی ذہنی کیفیات اور اْس کے کرب کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے۔ چہرہ کبھی ہنس کر کِھل اْٹھتا ہے تو کبھی غم میں ڈوب جاتا ہے۔ اْس نے کرب میں جو الفاظ ادا کئے وہ صرف الفاظ نہیں بلکہ اِس سماج کی ایک بھیانک تصویر ہیں۔ وہ الفاظ عائشہ پر ہو رہے مظالم کے گواہ ہیں۔ وہ مظالم جو ایک گھرانہ دوسرے گھرانے کی لڑکی پر صدیوں سے ڈھاتے آرہاہے اور صدیوں تک ڈھاتے رہے گا۔
اب ہر کوئی یہ بات کہہ رہا ہے کہ عائشہ کو خودکشی نہیں کرنی چاہیے تھی، اْس کو حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے تھا، وہ جہنمی ہے اْس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لئے جہنم خرید لی۔ لیکن خدارا یہ بتائیں کہ وہ کس کس کا سامنا کرتی، کس کس سے لڑتی اپنے شوہر سے، ساس سْسر سے یا پھر اِس سماج سے ؟۔ اْس کا قصوروار کیا صرف اْس کا شوہر ہے یا پھر یہ پورا سماج، یہ قوم جو لڑکی کی شادی ہوتے ہی یہ کھوج لگانے میں لگ جاتی ہے کہ لڑکی اپنے ساتھ کیا لائی ہے، کہیں خالی ہاتھ تو نہیں آگئی۔ تاکہ اْنہیں دو چار باتیں سْنانے کو مل جائیں۔ اِس خودکشی کا قصوروار صرف ایک فرد نہیں بلکہ یہ پورا سماج ہے۔ یہ پوری قوم ہے جس نے جہیز جیسی غلیظ رسم کو بڑھاوا دے رکھا ہے۔ اس کا ذمہ دار صرف وہ نہیں جو لے رہا ہے بلکہ وہ بھی ہے جو دے رہا ہے اور غریب باپ کی لڑکیوں کے لئے گڑھا کھود رہا ہے اور اسی لینے دینے کے رواج نے اِس ناسور کو زندہ رکھاہے۔
ہاں یہ بات صحیح ہے کہ عائشہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اْس نے غلط کیا اور لوگوں نے تو اْس کو جہنم کی بشارت بھی دے دی، اْس کو باقاعدہ جہنمی قرار دے دیا گیا حالانکہ جنت اور جہنم بھیجنے کا اختیار ا للہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا اور رہا خودکشی جیسا غلط قدم اْٹھانے کا سوال تو یہ بات وہ خود بھی جانتی تھی تبھی تو جاتے وقت اتنی بڑی بات کہہ گئی "دعاؤں میں یاد رکھنا کیا پتہ جنت ملے نا ملے۔‘‘  اِس سب کے باوجود بھی اْس نے خودکشی کر لی کیوں؟ اگر اْس کو پتہ تھا کہ خودکشی کر کے وہ غلط کر رہی ہے پھر بھی اْس نے یہ غلط قدم کیوں اْٹھایا۔کیونکہ اْس کی زندگی بھی جہنم بنی ہوئی تھی اور اْس نے خود کو دنیا کے جہنم سے نجات دلائی۔جیسا آپ سب نے سْنا ہوگا اپنے والدین سے بات کرتے ہوئے وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ ’’میں تھک چکی ہوں، بس بہت ہوگیا اب اور نہیں سہہ سکتی میں تھک چکی ہوں امی، میں تھک چکی ہوں۔ کب تک خود کے لئے پریشان ہوتی رہوں اور آپ لوگوں کو پریشان کرتی رہوں کب تک؟‘‘ حالانکہ اْس کے والدین نے اْس کی کتنی منتیں کی، کتنے واسطے دئے۔ یہاں تک کہ حضرت امہ عائشہ صدیقہؓ کا واسطہ تک دے دیا، کلام پاک کی قسم تک دے دی لیکن پھر بھی وہ نہیں مانی کیوں؟ کیونکہ وہ دنیا کے جہنم میں جل کر ختم ہو چکی تھی اور اپنے والدین کو اْس آگ میں جلنے سے بچانا چاہتی تھی جس میں وہ خود جل رہی تھی۔ اِس سماج کی بنائی ہوئی جہنم نے اْس کو جیتے جی راکھ کر ڈالا تھا۔
ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اْس کو خودکشی کے بجائے طلاق لینی چاہیے تھی لیکن کیا طلاق لے کر بھی اْس کو سکون میسر ہوتا؟ کیا یہ سماج اْس کو جینے دیتا؟ آپ ہی بتائیں خدارا جب کوئی لڑکی طلاق لے کر آتی بھی ہیں تو کیا یہ سماج اْس کو مشکوک نظروں سے نہیں دیکھتا؟ کیا یہ سماج بات بات پر اْس کو یہ احساس نہیں دِلاتا کہ وہ باپ کا بوجھ بن کر آئی ہے؟ کیا یہ سماج اْس کو بار بار یہ نہیں کہتا کہ طلاق لے کر باپ کے گھر آنے کی کیا ضرورت تھی، صبر کر لیتی، اپنے بچوں کا سوچتی، اپنے والدین کا سوچتی، مر جاتی لیکن باپ کے گھر کیوں آئی۔ یہ سماج ہی تو ہے جنہوں نے زندگی حرام بنا رکھی ہے، ایسے ایسے رواج روا رکھے ہیں کہ بیٹی باپ کے گھر آنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچتی ہے اور اگر وہی لڑکی خود کو ختم کر لے تو اْس کو جہنمی، ڈرپوک، کمزور، ذہنی مریض اور پتہ نہیں کیا کیا القاب دئے جاتے ہیں۔ ہاں یہ بات صحیح ہے کہ خودکشی حرام ہے لیکن اِس سماج نے لڑکیوں کی زندگی جو حرام بنا رکھی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ 
اْس کی ویڈیو دیکھنے کے بعد ہر کوئی جہیز کا مخالف نظر آرہا ہے، ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اِس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ لیکن عمل کوئی نہیں کرتا۔ ایسا صرف آج نہیں ہو رہا بلکہ تب تب ہوتا آیا ہے جب جب ہماری بیٹی جہیز کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اگر سب جہیز کے مخالف ہیں تو جہیز کے حمایتی پیدا کہاں سے ہوتے ہیں۔ اصل میں ہم لوگ منافق ہیںجو وقت دیکھ کر رنگ بدل لیتے ہیں اور لینے کی باری آجائے تو دل کھول کر لیتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی بہو سے کچھ نہیں لیا ہاں اْس کے باپ نے پیار سے اپنی بیٹی کو یہ یہ سامان دے دیا ہے،ایسے ایسے زیورات دئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور بیٹے کی شادی مال و جائیداد دیکھ کر طے کی جاتی ہیں، تربیت اور شرافت دیکھ کر نہیں۔ بیٹے کی شادی لڑکی کی کمائی دیکھ کر طے کی جاتی ہے، اُس کی تعلیم و تربیت دیکھ کر نہیں۔ ہم جہیز کے خلاف تو بولتے رہتے ہیں لیکن عمل کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہم جہیز کے مخالف تو ہیں لیکن دوسروں کے لئے ،اپنے لئے نہیں۔ ہاں کسی کی بیٹی جہیز کی بھینٹ چڑھ کر خودکشی کر لے تو بڑے بڑے فتوے دئے جاتے ہیں لیکن جب اُس بچی پر ظلم و ستم ہو رہا ہوتا ہے تو اُسے صبر و تحمل کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ اُسے یہ کہتے رہتے ہیں کہ نصیب میں یہی لکھا تھا۔ اُس کی تکلیفوں کا قصوروار نصیب کوٹھہرایا جاتا ہے لیکن اْس کی حمایت میں کچھ کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اْس کے حق میں کچھ بولا نہیں جاتا۔ ہاں اگر وہ خود اپنے خلاف بول اْٹھے تو اْس کو جاہل، گوار اور نافرمان کا لقب دے دیا جاتا ہے اور اگر اْس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ خودکشی کر لے تو اْس کو جہنمی قرار دیا جاتا ہے۔ 
عائشہ نے اتنے ظلم سہے کہ اْس کو انسانوں سے وحشت ہونے لگی اور مرتے وقت اتنے دلدوز الفاظ ادا کئے’’میں خوش ہوں کہ میں آج خدا سے ملنے جا رہی ہوں اور اْس کو جاکر بتاؤں گی کہ مجھے انسانوں کی شکل دوبارہ کبھی نہ دکھائے‘‘۔
جہیز کے نام پر بیٹیوں کو اس قدر تڑپایا جاتا ہے کہ وہ انسانوں سے پناہ مانگنے لگتی ہیں۔ اِس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ ہماری بیٹیوں کو جہیز کے نام پر لوٹا جا رہا ہے، مارا جا رہا ہے، قتل کیا جا رہا ہے، آئے روز ایسے دلدوز واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ ہماری بیٹیاں زندگی سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنا خاتمہ نہیں کرتیں بلکہ اْس درد کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں جس سے وہ گزر رہی ہوتی ہیں۔ عائشہ نے جاتے وقت جو الفاظ ادا کئے وہ انسانیت کو شرمسار کر گئے کیونکہ اْس کا واسطہ انسان کے روپ میں جانوروں سے پڑا تھا اور اْس نے اپنے خاتمے میں ہی بہتری سمجھی۔
یہ صرف ایک عائشہ کی کہانی نہیں ہے، ہر اْس بیٹی کی کہانی ہے جو جہیز کے نام پر لٹتی آ رہی ہے، جو جہیز کی بھیٹ چڑھ گئی ہے۔ خودکشی پر فتویٰ دینے والو! خدا کا واسطہ جہیز کے نام پر بھی کوئی ایسا فتویٰ دے دو کہ یہ سماج سدھر جائے۔ اْس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کا کچھ ایسا اقدام کرو کہ آنے والی نسل بچ جائیں۔ کوئی ایسا فتویٰ دے دو کہ جہیز کا نام و نشان مٹ جائے تاکہ پھر سے کسی لیاقت علی کو اپنی بیٹی کو زندگی جینے کی منتیں نہ کرنی پڑیں، تاکہ پھر سے کسی عائشہ کو خدا کے پاس جاکر یہ نہ کہنا پڑے ’’مجھے انسانوں کی شکل دوبارہ کبھی نہ دکھائیں۔‘‘ کچھ ایسا کرو کہ بیٹی کی رخصتی پر کوئی باپ خوفزدہ نہ ہو۔ کچھ ایسا کرو کہ کوئی بیٹی جہیز ادا نہ کر پانے کی وجہ سے اپنا وجود نہ ختم کرے۔ کچھ کرو خدا کا واسطہ اِس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے کچھ کرو۔
رابطہ۔متعلم کلسٹر یونیورسٹی، سرینگرکشمیر
فون نمبر۔  9622697944
����������
 

تازہ ترین