وین پانپور میں کان کنی پر پابندی ہٹانے کی مانگ

کریشرپلانٹ مالکان اور مزدوروں کا احتجاج

تاریخ    5 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


سید اعجاز
پانپور//وین پانپور میں 2برسوں سے کان کنی پر عائد پابندی کو ہٹانے کیلئے کریشر پلانٹ مالکان اور مزدوروں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا جن میں ان کے بچے بھی شامل تھے۔احتجاجی لوگوں کاکہنا ہے کہ کان کنی ان کی معاش کا واحد ذریعہ ہے لیکن سرکار نے اس پر 2 سال قبل پابندی عائد کی ہے جس کے نتیجے میں اس سے وابستہ افراد فاقہ کشی کے شکار ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ’ہم تمام قانونی لوازمات پورے کر نے کے لئے تیار ہیں لیکن ہمیں اپنا روز گار کمانے کا موقع دیا جائے تاکہ ہم دو وقت کی روٹی کیلئے نہ ترسیں‘‘۔ احتجاجی افراد نے کہاکہ گزشتہ دوبرسوں سے عائد پابندی کی وجہ سے وہ بڑے پیمانے متاثر ہوئے ہیں اور سخت مالی مشکلات کی وجہ سے وہ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کا فیس تک ادا نہیں کر سکتے ہیں اور صورت حال یہی رہی تو انہیں اپنے بچوں کوسکولوںسے نکالنا پڑے گا۔ احتجاجی لوگوں کاکہنا ہے کہ ان کے علاقے میں اس کے علاوہ اور کوئی وسیلہ روزگار نہیں ہے اس لئے کریشر پلانٹ چلانے کی اجازت دی جائے جس کے لئے وہ تمام لوازمات پورے کرنے کے لئے تیار ہیں۔  احتجاج میں شامل کچھ تعلیم یافتہ افراد نے بتایا کہ ان پلانٹوں کے ساتھ سینکڑوں افراد کا روز گار جڑا تھا جو ان سے چھین لیا گیا ہے۔احتجاج میں شامل نوجوانوں نے بتایا نہ سرکار ہمیں روز گار فراہم کر رہی ہے اور نا ہی خود کمانے کا موقع دیا جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ انکی بات کسی بھی دفتر میں سنی نہیں جاتی ہے ۔انہوں نے متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام اور ایل جی جموں و کشمیر سے اس سلسلے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
 

تازہ ترین