تازہ ترین

جموں میں 9ہزار اور کشمیر میں5ہزار ہیکٹر سے زائد جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی قبضہ

۔250کیخلاف بیدخلی کی نوٹیسیں جاری،1870کنال پر قبضہ ہٹایا گیا،727ہیکٹر سڑکوں کی تعمیر کیلئے منظور

تاریخ    3 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر میں جنگلاتی اراضی پر نا جائز قبضہ ایک ایسی گلے کی ہڈی ثابت ہو رہی ہے، سرکار جس کو نہ ہی نگل پا رہی ہے اور نہ ہی اگل پا رہی ہے۔وادی میں قریب ایک لاکھ کنال جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی طور پر لوگ قابض ہیں ۔ جموں میں قریب9ہزار ہیکٹر اور کشمیر میں 5ہزار96 ہیکٹر جنگلاتی اراضی پر قبضہ ہے۔محکمہ جنگلات کے اعداد وشمار کے مطابق جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ڈویژن میں سب سے زیادہ796ہیکٹروں پر غیر قانونی قبضہ ہے،جبکہ اربن ڈویژن میں جنگلاتی اراضی پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی قبضہ نہیں ہے۔ لدر ڈویژن میں261ہیکٹر اور کولگام ڈویژن میں185ہیکٹروں کے علاوہ شوپیاں ڈویژن میں476ہیکٹروں پر ناجائز قبضہ ہے۔ ان اعدادو شمار کے مطابق اونتی پورہ ڈویژن میں145ہیکٹر،سندھ ڈویژن میں464ہیکٹر اور پیر پنچال ڈویژن میں620کے علاوہ، بانڈی پورہ ڈویژن میں187ہیکٹروں پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ٹنگمرگ ڈویژن میں18ہیکٹر، جہلم ویلی ڈویژن میں368ہیکٹر، کامراج ڈویژن میں460اورلنگیٹ ڈویژن میں695کے علاوہ کہمل ڈویژن میں574ہیکٹروں پر ناجائز قبضہ ہے۔ محکمہ جنگلات نے اپنی ویب سائٹ پر گزشتہ برس کے آخر میں جو فہرست مشتہر کی ہے،اس کے مطابق جموں کے رام بن ڈویژن میں2106ہیکٹر، راجوری میں1973ہیکٹر،پونچھ ڈویژن میں1472ہیکٹر،پیر پنچال ڈویژن میں655ہیکٹر،نوشہرہ ڈویژن میں577ہیکٹر جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضہ ہے۔محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران جموں و کشمیر میں قریب 94.6 ہیکٹر (1870کنال) پر ناجائز قبضہ ہٹایا گیا،جبکہ مجموعی طور پر جموں کشمیر میں550 ہیکٹر اراضی کو خالی کیا گیا۔ ذرائع کا تاہم کہنا ہے کہ جموں صوبے میں قریب9 ہزار ہیکٹر جنگلاتی اراضی( ایک لاکھ77ہزار کنال)بدستور غیر قانونی قبضے میں ہیں۔جموں و کشمیر حکومت کی جنگلات سے متعلق مشاورتی کمیٹی (ایف اے سی) ، جو جنگلاتی اراضی سے گزرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری پر فیصلے کرنے کے مجاز تھی ، نے گزشتہ برس 727 ہیکٹر (تقریبا 14ہزار371کنال) سے زیادہ اراضی کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔727 ہیکٹر رقبے والی زیادہ تر زمین سڑکوں کی تعمیر کے لئے ہے جس کی وجہ سے 200 چھوٹی آبادی والے دیہات تک سڑکیں پہنچیں گی۔محکمہ جنگلات کے ایک سنیئر افسر نے کہا’’جموں و کشمیر جنگلات (تحفظ) ایکٹ کے تحت ، ہم دفعہ A 48  کے تحت قابضین کو بے دخلی کے نوٹس بھیجتے تھے اور دفعہ  370 کی منسوخی کے بعد انڈئن فاریسٹ ایکٹ کے سیکشن 79A  کے تحت نوٹسیں اجراء کی جاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کہ فی الوقت قریب250کے قریب ان لوگوں نے عدالتوں سے رجوع کیا ہے،جنہیں بے دخلی کی نوٹسیں جاری کی گئی ہیں۔ محکمہ نے63ہزار ان لوگوں کے ناموں کی بھی نشاندہی کی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر15ہزار ہیکٹر کے قریب جنگلاتی اراضی پر قبضہ کیا ہے۔کنرویٹر فارسٹس زبیر احمد کا کہنا ہے کہ جنگلاتی اراضی پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جن لوگوں نے غیر قانونی طور پر اس اراضی پر قبضہ کیا گیا ہے،ان سے یہ اراضی واپس لی جائے گی۔