سیول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

راہ نمائی

تاریخ    3 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


ساحل احمد لون
یوپی ایس سی سیول سروسز امتحان کے مختلف مرحلوں یعنی پرلمز ،مینز اور انٹرویو پر اس اس سے قبل بات ہوچکی ہے۔اس بات پر بھی روشنی ڈالی جاچکی ہے کہ یوپی ایس سی کی چاہ رکھنے والے طلاب میں کون سے خصائص ہونے چاہئیں۔اب آئیں دیکھتے ہیں کہ کیاسیول سروسز میں پہلی بار ہی کامیاب ہونا شرط ہے؟یعنی ایک بار اس امتحان میں شامل ہوئے تو کیا یہ شرط ہے کہ آپ کو بہر صورت کامیاب ہونا ہی ہے؟اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یوپی ایس سی نے آپ کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ آپ کو موقعہ فراہم کرتا ہے کہ ناکام ہونے کی صورت میں آپ کئی بار اس امتحان میں از سر نو شامل ہوسکتے ہیں۔اب یو پی ایس سی تو آپ کو موقعہ دے رہا ہے،پر کیا آپ بھی چاہیں گے کہ ہم اس امتحان میں بار بار ناکام ہوجائیں اور یوپی ایس سی نے اس امتحان میں بار بار شامل ہونے کی جو سہولیت فراہم کی ہے ،اُس کا فائدہ اُٹھائیں؟ہر گز نہیں۔کم از کم اتنا بے وقوف تو کوئی نہیں ہوگا جو یہ چاہے کہ اولین فرصت میں وہ ناکام ہوجائے۔ہر کسی کی چاہ ہوتی ہے کہ پہلی ہی کوشش میں وہ اس امتحان میں سرخرو ہوجائے لیکن اعداد و شمار پر نظر دوڑا کر آپ کو یہ پتہ چلتا ہے کہ کامیاب ہونے والے طلاب کی ایک طویل فہرست ایسی ہے جو پہلی ہی کوشش میں اس امتحان کو پاس نہیں کرپائے یا بعض اگر کرنے میں کامیاب بھی ہوئے، پھر بھی اُن کا درجہ(Rank) کم تھا جس کی وجہ سے وہ اس امتحان میں پھر شامل ہوئے۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر آپ اس امتحان میں شامل ہوتے ہیں اور خدا نخواستہ آپ پہلے ہی کوشش میں کامیاب نہیں ہوتے تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے بلکہ یوپی ایس سی سیول سروسز کی دُنیا میں یہ چیز بالکل نارمل ہے۔اب اگر آپ خود کو کوسنے لگ جاتے ہیں ،اس قدر تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ابھرنا محال ہوجاتا ہے ،یا پھر خود کو نا اہل سمجھتے ہیں تو یہ غلط وطیرہ ہے۔میں ہر گز یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ کو پہلی بار ہی کامیاب ہونے کی کوشش نہیں کرنی۔جب آپ پہلی بار اس امتحان میں شامل ہوں تو یہ سوچ کر محنت کریں کہ یہی میرا پہلا اور آخری موقعہ ہے اور مجھے بہر صورت کامیاب ہونا ہی ہے۔محنت بھی اتنی کریں کہ شکایت کی گنجائش نہ رہے۔جب آپ اتنی محنت کریں گے جتنی آپ سے ہوسکتی تھی،اُس کے بعد ا گر آپ خدانخواستہ ناکام بھی ہوتے ہیں تو کم از کم آپ کا ضمیر آپ کو یہ کہہ کر نہیں کوسے گا کہ ’تم نے برابر محنت نہیں کی ورنہ کامیاب ہوچکے ہوتے‘۔مکمل کوشش اور محنت کے بعد بھی اگر آپ ناکام ہوتے ہیں تو میں اُس کے بعد آنے والے مرحلے کی بات کررہا ہوں کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی ہے کہ ہر کامیاب طالب علم پہلی ہی کوشش میں کامیاب نہیں ہوتا۔بالفاظِ دیگر ’پہلی بار ہی کامیاب ہونا شرط نہیں ہے۔‘یہ ایک غیر متوقع (Unpredicted) امتحان ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس قدر وسیع کہ اس کی تیاری میں غیر دانستہ طور پر ہی سہی،مگر بھول چوک ہوسکتی ہے۔اس سے قبل ہم نے آل انڈیا درجہ اول حاصل کرنے والے انودیپ دروشیٹی کا موقف جانا کہ کوچنگ پر مکمل اکتفا نہیںکیا جاسکتا،اب آئیں اُن کی جدوجہد سے بھی آپ کو روشناس کرائیںتاکہ یہ بات اور واضح ہوجائے کہ ’پہلی کوشش میں ہی کامیاب ہونا شرط نہیں ہے‘،اور ساتھ ہی ساتھ اس بات سے بھی آگاہ ہوں گے کہ جب ایسی صورتحال پیش آتی ہے تو اُس سے کیسے نکلا جاتا ہے ۔وہ کیاغلطیاں کررہے تھے،وہ بھی جانتے ہیں تاکہ آپ ایسی غلطیوں سے مستقبل میں احتراز کریں ۔
انودیپ دروشیٹی ریاست ِ تلنگانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔جب وہ چھوٹے تھے تو بہت سارے بچوں کی طرح ہی اُنہیںبھی سکول اچھا نہیں لگتا تھا۔وہ یہ سوچتے تھے کہ ایک مرتبہ سکولنگ مکمل ہوجائے پھر میں آزاد ہوں۔لیکن گیارہویں اور بارہویں میں آزادی کو ترجیح دینے کی بجائے وہ اس باگ دوڑ میں لگ گئے کہ کسی طرح میرا داخلہ کسی اچھے کالج میں ہوجائے۔خیر اُن کا یہ مقصد پورا ہوگیا اور اُنہیں ایک اچھے کالج میں بی ٹیک کے لئے داخلہ ملا۔بات یہی پر ختم نہیں ہوئی۔اس کے بعد اُنہیں آئی اے ایس میں آنے کی سوجھی اور اُن کی جدوجہد کا سلسلہ شروع ہوا۔وہ امتحان میں پہلی بار شامل ہوئے تو ناکام ہوگئے۔اُس کے بعد اُنہوں نے پھر امتحان دیا اور اس بار وہ کامیاب تو ہوئے لیکن اُنہیں آئی اے ایس نہیں بلکہ آئی آر ایس یعنی Indian Revenue Serviceملی۔اُنہیں آئی اے ایس کی طلب تھی،اس لئے اُنہوں نے پھر سے امتحان میں شمولیت اختیار کی مگر پھر ناکام ہوگئے۔یہی پر اُن کا سفر ختم نہیں ہوا ،بلکہ چوتھی مرتبہ پھر اس امتحان میں شامل ہوئے اور چوتھی بار بھی ناکام ہی رہے۔اس بار اُنہیں کُل 565نمبرات حاصل ہوئے تھے۔اتنی ناکامیوں کے بعد شاید ہی کوئی ہوگا جو ذہنی پریشانی اوراحساسِ کمتری میں مبتلا نا ہو۔اُن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔اگر اُن کے اپنے لفظوں میں کہا جائے تووہ ایک زندہ لاش بن گئے۔("I was a walking dead man.")۔اب اُن کے پاس ایک مرتبہ پھر یہ امتحان دینے کی ہمت نہیں تھی۔اب اُنہوں نے کتابوں وغیرہ کو کسی کونے میں دفنا دیا تاکہ حادثاتی طور پر بھی اُن کی نگاہیں ان (کتابوں وغیرہ) کے ساتھ نہ ٹکرائیں۔اپنی جدوجہد اور طویل سفر کے بارے میں اپنی کتابFundamentals of Essay and Answer Writing میں لکھتے ہیں:
"My UPSC journey was long and brutal,consisting of three failures,five attempts and six long years. Throughout the journey ,there were moments of absolute despair and deep disappointment.But, what agonised me the most was that I couldn't figure out the reason why I was failing."
یعنی میرا یوپی ایس سی کا سفر طویل اور سخت(مشکل) تھا،جو تین ناکامیوں،5 کاوشوں (یعنی5 بار امتحان میں شمولیت) اور چھ طویل برسوں پر مشتمل تھا۔اس سفر کے دوران ایسے بھی مرحلے آئیں جب میں مکمل طور پر نا اُمید اورغمگین ہوا۔مگر جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ تکلیف دی ،وہ یہ تھی کہ میں اس بات کا تخمینہ لگانے سے قاصر تھا کہ میں کہاں غلطی کررہا ہوں۔
اس صورتحال سے نکلنے میں اُنہیں کئی مہینے لگ گئے۔اب تک وہ یوپی ایس سی،اپنے قلم ،اپنے آپشنل اور اُس کلرک کو ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے جو کمپیوٹر پر مارکس لکھتا (ٹائپ کرتا)ہے۔لیکن اپنے بغیر باقی چیزوں کو قصوروار ٹھہرانے سے اُن کی انا کو تسکین تو ملتی تھی لیکن اس طرح کا رویہ اپنا کر وہ امتحان پاس نہیں کرسکتے تھے کیونکہ انسان غلطیوں کو تبھی سدھار سکتا ہے جب وہ پہلے قبول کرے کہ وہ واقعی غلطی کررہا ہے۔اُنہوں نے گہرائی سے اس بارے میں سوچا۔امتحان کے پہلے مرحلے یعنی پرلمز میں انہیں اچھے نمبرات ملتے تھے ،اس لئے یہ ناکامی کی وجہ نہیں ہوسکتا تھا۔انٹرویو میں وہ ایک ہی مرتبہ شامل ہوئے تھے اور اُس میں بھی اُن کو 204نمبرات حاصل ہوئے تھے۔اب یہ بات واضح تھی کہ مسئلہ پرلمز اور انٹرویو کا نہیں بلکہ مینز کا ہے۔اسی مرحلے میں وہ ہار جاتے تھے۔اب اُنہوں نے ٹاپروں کے جواب ناموں کو کھنگالنا شروع کیا ۔مزید برآں اُنہوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن (Public Administration) کو اختیاری مضمون کے طور پر لیا تھا ۔اس میں اُنہیں کم نمبرات حاصل ہوتے تھے ۔اب کی بار اُنہوں  نے سرے سے ہی اس مضمون کو خیرباد کہا اور ا س کے بدلے Anthropology کو بطورِ آپشنل لیا۔ اُنہوں نے فورم آئی اے ایس نامی اکیڈمی بھی جوائن کی۔وہاں ٹیسٹ سیریز پرچوں میں جو تاثرات ملتے تھے،وہ اُس پر بھی مزید بہتری لانے کے لئے کام کرتے ۔اسی دوران اُنہوں نے پرجیت نائر نامی ایک کامیاب اُمیدوار کے جوابی پرچوں کو دیکھا اور جوابات لکھنے کا انداز (Style) اُن ہی سے لیا۔اب کی بار جب وہ امتحان میں شامل ہوئے تو یہ اُن کی آخری کوشش (Attempt) تھی۔ہار جیت کا بس یہ آخری موقعہ تھا ۔جب نتائج کا اعلان ہوا تو وہ یوپی ایس سی سیول سروسز میں آل انڈیا ٹاپر آچکے تھے۔
اب آپ ہی بتائیں ،کیا پہلی کوشش میں کامیاب ہونا شرط ہے؟اس حقیقی کہانی سے اور بھی کئی باتیں واضح ہوگئی۔مثلاً:
۱۔جو لوگ ٹاپ کرتے ہیں وہ کوئی تیس مار خا ن نہیں ہوتے بلکہ باقیوں کی طرح ہی اُن کو جہد مسلسل کرناپڑتی ہے۔
۲۔اپنی غلطیوں کے لئے دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے سے اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔اس لئے اپنی غلطیوں کو اپنا کر اُنہیں خود ہی سدھارنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
۳۔مشکلات کے باوجود ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہئے اور ٹھوکر کھا کر ایک مرتبہ پھر اُٹھ کر منزل کی جانب سفر جاری رکھنا چاہئے۔
۴۔صحیح آپشنل کا انتخاب کرنا ضروری ہے (حالانکہ آپشنل پر اس سے قبل روشنی ڈالی جاچکی ہے)۔
۵۔کامیاب اُمیدواروں سے استفادہ کرنا چاہئے ،اُس سے آگہی ملتی ہے کہ کیا کام کرتا ہے اور کیا نہیں۔… (ختم شد)
پتہ۔برپورہ پلوامہ کشمیر
ای میل۔lonesahilahmadkmr@gmail.com
 
 
 

تازہ ترین