یہ کشمیر ہے ! یہ کشمیر ہے!!

شورِ نشور

تاریخ    3 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
فروری کی19تاریخ کو مشتبہ جنگجوئوں نے سرینگر کے باغات برزلہ علاقے میں دو پولیس اہلکاروں پر انتہائی قریب سے گولیاں چلاکر دونوں کو ہلاک کردیا۔یہ پہلا موقعہ نہیں تھا جب پولیس اہلکار جنگجویانہ حملے کا شکار ہوگئے ،بلکہ عسکری تحریک کے ابتدائی عرصہ کو چھوڑ کر اب کم و بیش اڑھائی دہائیوں سے مقامی پولیس اور جنگجو ایک دوسرے کیخلاف بر سر پیکار ہیں۔دونوں ایک ہی سر زمین کے شہری ہیں لیکن فکر وعمل میںطرفین کا فرق۔ایک سرکاری نوکری کی انجام دہی اور ملک کے دفاع میں مصروف تو دوسرا ’اجتماعی مفاد‘ کیلئے تگ و دو کرنے کا دعویدار،اور دونوں اپنے اپنے ماننے والوں کے ہاں ’شہید‘۔ ہمارے یہاں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیںجہاں ایک مسلح معرکہ آرائی کے دوران ایک ہی ضلع یاعلاقے سے تعلق رکھنے والے سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹر جاں بحق ہوگئے۔کہا جاتا ہے کہ تنازعات سے متعلق یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ اپنے ہی افراد کو تر نوالہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی المناکی میںمزید اضافہ ہوتا ہے ۔
باغات ،برزلہ حملے میں جو دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے، ان میں جنوبی ضلع اننت ناگ کے عشمقام علاقے میں واقع لوگری پورہ گائوں کا سہیل احمد آہنگر اور شمالی ضلع کپوارہ کا محمد یوسف شامل تھے۔سہیل دو کمسن بچوں ،چار سالہ سہل اور دو سالہ عثمان کا باپ تھا، جنہیں ابھی یتیم ہونے کا کوئی احساس تک نہیں ہے اور جو اب بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ اُن کا والد، جسے وہ اپنی معصوم طوطلی زبان میں ’جانو‘ کہہ کر پکارتے ہیں، آنے ہی والا ہوگا۔
فروری کی19تاریخ کو 30سالہ سہیل اور یوسف کے ساتھ ساتھ ایک اور پولیس اہلکارالطاف احمد سمیت چھ کشمیری افراد ہلاک شدگان میں شامل تھے۔الطاف وسطی ضلع بڈگام میں جنگجوئوں کے ساتھ ایک معرکہ آرائی کے دوران جان گنوا بیٹھا جبکہ جنوبی ضلع شوپیان میں تین مقامی جنگجو بھی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہوگئے۔
سہیل کی پرورش اس کی ماں نے تھی کیونکہ اُس کا باپ اکتوبر1990میں لاپتہ ہوکر تاایں دم لاپتہ افراد کی فہرست میں ہی شامل ہے۔کشمیر میں اُن لاپتہ افراد کی تعداد بھی کم و بیش آٹھ ہزار ہے جنہیں حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والے افراد کے مطابق مبینہ طور فورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ بنایا۔ سہیل کا باپ مشتاق احمد آہنگربھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ مشتاق کے لاپتہ ہونے کے بعد اُس کی اہلیہ اور سہیل کی ماں نے اپنے شوہر کی تلاش کیلئے جیلخانوں، اذیت خانوں اور پولیس تھانوں کی خاک چھانی، مگر لاحاصل۔ سہیل اُس وقت محض سات ماہ کا نوزائد تھا جب اُس کی ماں اپنے لخت جگر کو سینے سے لگائے اُس کے باپ کی تلاش کیلئے سرگرداں تھی۔مشتاق کے والد محمد عبد اللہ آہنگر بھی اپنے بڑھاپے کی لاٹھی کی بازیابی کیلئے دن رات ماہی بے آب کی طرح تڑپتا رہا ،لیکن کسی کی کوشش کا کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ یہاں  تک کہ سابق ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن کے پاس بھی مشتاق کے لاپتہ ہونے کے بارے میں معاملہ درج کرایا گیا ،لیکن سب بے سود۔ 
تین دہائیاں گذر جانے کے بعد عبد اللہ اور اس کی بہو یعنی سہیل کی والدہ ایک بار پھر پرانے جیسے حالات کے بھنور میں پھنس کر رہ گئے ہیں، البتہ اب کے بار ہر ایک کا کردار ذرا تبدیل ہوگیا ہے اور ان میں اب سہیل کی بیوہ بھی شامل ہوگئی ہے ۔سہیل کی والدہ کی دنیا تو اُسی دن اُجڑ گئی تھی جب اُس کے شوہر نامدار کو لاپتہ کرکے اُسے ’’آدھی بیوہ‘‘ اور اس کے بیٹے کو ’’آدھا یتیم‘‘ بنایا گیا۔لیکن تب سہیل کی صورت میں اُسے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک وجہ موجود تھی۔پھر عمر بھی اُس کے حق میں تھی اور اُس نے ہمت جٹاکر حالات کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ لیکن آج جب وہ بے بس خاتون اپنے لخت جگر کے دو یتیموں اور بیوہ کو دیکھ رہی ہے تو اُس پر کیا بیت رہی ہوگی؟اب کے وہ جسمانی طور اتنی طاقتور بھی نہیںہے اور نہ اس کی ہمت میں پہلے سا دم ہے۔اپنے یتیم سہیل کے دو یتیموں کی یتیمی نے اس بے چاری کی کمر ہی توڑ کے رکھ دی ہے۔دوسری طرف عبد اللہ ہے ،جو سہیل کے اندر اپنے فرزند کی پرچھائی دیکھ کر خود کو تسلیاں دیتا تھا، لیکن اب تو اُس کی دنیا مکمل طور ویران ہوگئی ہے اور بڑھاپے میں اُس کے قلب و ذہن پرکیسی قیامت برپا ہوگی؟اس کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے۔
شوپیان کے بڈی گام نامی گائوں میں جو تین جنگجو19فروری کو فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہوگئے اُن میں بھی ایک کا نام سہیل احمد تھا۔مذکورہ سہیل کا تعلق ترکہ وانگام، شوپیان سے تھا جبکہ اُس کے دو ساتھی جنگجوئوں میں سامبورہ ، پانپورکا رہنے والا شاہد احمد اور چک سانگڑن شوپیان کا رہنے والا مدثر احمد شامل تھے۔یعنی اس دن وردی پوش سہیل اپنے ایک ساتھی سمیت باغات میں جنگجوئوں کی گولیوں کا نشانہ بنا جبکہ جنگجو سہیل شوپیان میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ وردی پوشوں کی گولیوں کا شکار بن گیا۔ضلع بڈگام کے زنیگام میں ایک وردی پوش اہلکار جنگجوئوں کو جاں بحق کرنے والی ٹیم میں شامل تھا لیکن خود ہی جنگجوئوں کی گولیوں کا شکار ہوا۔وردی پوش اہلکاروں کی میتوں کوان کے آبائی علاقوں میں لیجاکر آخری رسومات انجام دی گئیں لیکن تین جنگجوئوں کی میتوں کو اطلاعات کے مطابق شمالی ضلع کے شیری علاقے میں خاموشی کے ساتھ سپرد لحد کیا گیا۔ چھ کے چھ حیات تھے تو فکر و عمل میں مختلف تھے، مرے تو تجہیز و تکفین میں تفریق موجود رہا لیکن مہلوکین  کے گھروالوں کے غم و الم میں کوئی فرق نہیں۔وردی پوش سہیل کے گھر والوں پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تو جنگجو سہیل، شاہد اور مدثر کے اپنے اپنوں کی بھی کمر ٹوٹ کے رہ گئی۔ 
انسانی تاریخ کے المناک پہلو کا سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی نوعیت کے تنازعات نے کروڑوں انسانوں کو اپنا ترنوالہ بنایا ہے۔یہ تنازعات دنیا کے اندر ہر دور میں مختلف ناموں پر موجود رہے ہیں اور کہیں کہیں جان بوجھ کر پیدا کئے گئے ہیں ۔ان میں کام آنے والے انسانوں کو کسی نے’’ شہید‘‘ تو کسی نے ’’غدار‘‘ قرار دے رکھا ہے اور یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ 
خطہ کشمیر، جو اصل میں پورے جموں کشمیر کا نمائندہ نام ہے،کے ساتھ بھی لفظ ’تنازع‘ جڑا ہے۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے شواہد فراہم کرنے کیلئے سیاہ ہیں کہ یہ تنازع کیوں اور کس طرح معرض وجود میں آیا ۔اس تنازع کے ساتھ جنوب ایشیا کے دو ممالک بھی جڑے ہیں، بلکہ اُن کی حیثیت اس تنازع کے فریقوں کی ہے۔ان دو ممالک میں کشمیر تنازع سے متعلق اپناا پنا نقطہ نظر ہے،دونوں کے مختلف بلکہ متضاد نظریات کی وجہ سے یہ مسئلہ ہر گذرنے والے ماہ و سال کے بعد پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا آرہا ہے جس کے نتیجے میںخون انسانی کی ارزانی میں بھی کسی ٹھہرائو کا عندیہ نہیں مل رہا ہے۔البتہ دونوں نے حال ہی میں فوجی سطح ایک فیصلہ عمل میں لایا ،جس کے مطابق کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر پہلے سے ہی موجود جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ایک موہوم سے اُمید جاگ اٹھی ہے ۔یہ فیصلہ کس کے کہنے پر لیا گیا اور دنیا کے کس ملک نے ایسا کرنے کیلئے دونوں کو راضی کیا ؟ اس سے پرے، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آخر کار کسی کو انسانوں کے جان و مال کی فکر دامن گیر ہونے لگی ہے اور کسی کی دھیان تو کشمیر کی طرف بھی ہے۔سیاسی حلقوں کے مطابق اگر یہ احساس صحیح ہے اور دونوں ممالک کی فوجی سطح کے حالیہ فیصلے پر اخلاص سے عمل کیا جائے تو اُمید کی جانی چاہئے کہ آنے والے عرصے میں مزید پیش رفت کے تحت ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے جن کا مقصد تنازع کا مستقل ہوگا۔
 

تازہ ترین