سرحدی جنگ بندی معاہدہ

خاموشی بجا لیکن بات آگے بڑھے تو بات بنے!

تاریخ    3 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


محمد ارشد چوہان
22فروری کو بھارت ۔پاکستان کی افواج کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز کی ہاٹ لائن پر بات چیت کی جس کے بعد جمعرات کو دونوں طرف سے 2003 کے سیز فائر معاہدے پر جلد سے جلد عملدرآمد کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ ایک طرف جہاںجموں و کشمیر کی مین اسٹریم و علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسکا خیر مقدم کیا گیا ہے وہیں دوسری طرف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کی عام عوام کے دلوں میں امید کی ایک کرن جاگی ہے کیونکہ اس معاہدہ کے طفیل اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ کم از کم ہندوپاک سرحدوںپر سکون لوٹ آئے گا اور سرحدی آبادی کو طویل عرصہ بعد چین سے سونے کا موقعہ میسر آئے گا۔سرحدی آبادی اب کئی برسوں نے توپ کی رسد بن چکی تھی اور آئے روز کی گولہ باری سے سرحدی آبادی کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران جنگ بندی خلاف ورزیوںکے معاملات کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے اور اب ایسا لگ رہاتھا کہ آمنے سامنے نا سہی ،لیکن سرحدوںپر سرد جنگ چل رہی ہے جس کی رفتار مدہم ہی سہی لیکن یہ جنگ دونوںجانب نہتے عوام کو نگل رہی تھی ۔
ایک زمانہ ایسا تھا جب سرحدوں پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کاایک بھی واقعہ پیش نہیں آتا تھا۔26نومبر2003کو جنگ بندی معاہدہ عمل میں آیا تو اس کے بعدمسلسل تین برسوں تک سرحدوں پر بندوقیں خاموش رہیں اور2004،2005اور2006میں ایک بھی خلاف ورزی کا واقعہ پیش نہ آیا ۔یہ وہ دور تھا جب واجپائی اور مشرف کے درمیان مذاکراتی عمل اپنی انتہا پر تھااور یہی وہ دور ہے جب بھارت حد متارکہ پر تار بندی کرنے میں کامیاب بھی ہوا ۔تاہم2006سے حالات بدلنا شروع ہوگئے اور سرحدوں کا سکون قائم نہ رہ سکا۔2006میں تین دفعہ جبکہ2007میں21اور2008میں77دفعہ اس معاہدہ کی دھجیاں بکھیری گئیں تاہم بعد ازاں اس میں پھر قدرے کمی ہوئی او2009میں یہ تعداد28تک پہنچ گئی لیکن پھر گراف بڑھنے لگا اور 2010میں 44 جبکہ 2011 میں 62 ، 2012 میں114اور2013میں347دفعہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
ہندوپاک تعلقات میں کشیدگی کا گراف جوں جوں بڑھتا گیا ،سرحدی کشیدگی بھی بڑھتی گئی اور2014میں سرحدی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی تعداد583اور2015میں405تک پہنچ گئی۔2014کے بعد سے سرحدیں عملی طور آگ برسا رہی ہیں اور آہنی گولہ باری ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔2016میں سرحدی گولہ باری کے 500سے زیادہ واقعات پیش آئے جبکہ2017میںیہ تعداد971تک پہنچ گئی اور 2018میں کشیدگی کی اُس وقت حد ہی ہوگئی جب یہ تعداد3ہزار تک پہنچ گئی۔2019میں اس میں مزید اضافہ ہوا ہے اور مرکزی وزارت دفاع و داخلہ کے مطابق سال رفتہ میںجنگ بندی خلاف ورزیو ں کے3200سے زائد واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
جہاںتک سال رفتہ کا تعلق ہے تو ایسی خلاف ورزیوں کے سارے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے اور اب تو کسی ایک مخصوص سیکٹر میں ہی سرحدی گولہ باری نہیں ہوتی تھی بلکہ کشمیر سے جموں صوبہ تک بین الاقوامی سرحد اور حد متارکہ پر بیک وقت کئی محا ذ کھول دئے جاتے تھے جہاں دونوں طرف کی افواج زمین دوزبنکروں میں گولے داغ کر شہری آبادی کی ناک میں دم کئے ہوتے تھے۔
صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم تھاکہ 2003کے جنگ بندی معاہدہ کے بعد2020کو اس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کیلئے سب سے بدترین سال قرار دیاگیا جس دوران جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں3گنا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس میں مجموعی طور 6گنا اضافہ ہوا ہے ۔پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 2019 میں ایل او سی پر 3479 جبکہ سال 2020 میں 5133 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ۔یہ پچھلی دو دہائیوں میں ریکارڈ اضافہ تھا۔ایل او سی پر گولہ باری کے دوران ہمیشہ جو دلچسپ مرحلہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہ کہ دونوں ایکدوسرے کو پہل کے لئے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
 ڈی جی لیول کی ہاٹ ٹاک پہلے بھی کئی بار ہوتی رہی ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد دونوں اطراف سے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری شروع ہو جاتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر ایشو کا اصل حل دونوں ممالک کے مابین سیاسی مذاکرات کا فقدان ہے ۔ سرحد پر گولہ باری کئی بار اتنی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ دونوں طرف ملٹری نقصانات کے علاوہ سویلین نقصان بھی بھاری تعداد میں ہوتا ہے یہاں تک کہ گھروں کے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ مال مویشی، املاک اور سویلین بھی اسکی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔
  دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی ایسے عزم کا اعادہ کیا جاتا رہا ہے لیکن کوئی نہ کوئی ایسی وجہ آڑے آ جاتی ہے جو اس سلسلے کو آگے نہیں بڑھنے دیتی ۔ 2013 میں پاکستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت بنی ۔اس کے بعد ڈی جی ایم اوز کی ون۔ٹو ون ملاقات ہوئی ۔ اسکو بڑا خوش آئند بھی سمجھا گیا لیکن چونکہ اگلے سال 2014 میں بھارت میں نئے الیکشنز ہوئے جس سے سرکار بدلی اور اب تک حالات معمول پر نہیں آئے۔ مودی سرکار کیا پاکستان کے تئیں جارحانہ رویہ، انڈین فضائیہ پر بالاکوٹ میں حملہ، اس کے بعد پلوامہ، بھارت کی طرف سے سرجیکل اسٹرائیک اور نئی دہلی کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنا وہ عناصر تھے جن سے دونوں دیشوں کی تلخیوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔
حالیہ ہاٹ ٹاک کو اسلئے خوش آئند اور امید کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ جموں و کشمیر سے خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بعد امن کی طرف بھارت اور پاکستان کا یہ پہلا قدم ہے۔ 05 اگست 2019 کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین تلخی شدید بڑھی تھی یہاں تک پاکستانی پرائم منسٹر عمران خان نے کہا تھا کہ 370 کی بحالی تک مودی حکومت سے بات چیت نہیں ہوسکتی ۔370 کے خاتمے کے بعدالحاق ہندوستان کی حامی سیاسی جماعتیں بھی آن بورڈ نہیں لی گئیں، انہیں بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا۔ڈیڑھ سال تک جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ سروسز معطل رہیں ۔مذکورہ حالیہ ٹاک اسلئے توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ 05 اگست 2019 کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے یہ پہلا خوشگوار اعلان ہے۔ہندوستان اور پاکستان جب بھی مذاکرات کی میز پر آنے کی بات کرتے ہیں تو سرحد کے دونوں طرف جموں و کشمیر کی عوام اس پر بڑی دلچسپی سے کان دھرتے ہیں کہ شاید کوئی بات بنتی نظر آئے ۔جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت و عوام نے ہمیشہ ہند۔پاک مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے یہاں تک کہ مختلف سیاسی قیادت (مین اسٹریم و علیحدگی) میں کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں لیکن ہند-پاک مذاکرات کے سب حامی ہیں۔بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب کچھ دن پہلے لائن آف ایکچول کنٹرول پر بھی بھارت اور چین اپنی فوجیں واپس لینے پر متفق ہوگئے ہیں
 دونوں ممالک کی افواج کی طرف سے اس اعلان کو کسی بڑی پیش رفت سے تشبیہ دینا فی الحال بعید از قیاس ہوگا کیونکہ یہ دونوں ممالک کی آرمی ٹو آرمی ٹاک ہے ۔پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف بھی کسی قسم کی بیک ڈور ڈپلومیسی کے دعوؤں کو رد کر چکے ہیں ۔وقتی طور پر ایل او سی پر بسنے والے غریب عوام کو اس سے راحت ضرور ملے گی اور وہ چین کی سانس ضرور لیں گے کیونکہ ہندوپاک کی اس کشیدگی کا خمیازہ آر پارجموںوکشمیرکی عوام کو ہی بھگتنا پڑرہاتھا اور ایل او سی کے دونوں جانب عام لوگ اس ہند وپاک کشیدگی میں توپ کی رسد بن رہے تھے اور یوں اگر کسی کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو وہ کشمیری عوام ہی تھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام نے ہی اس تازہ معاہدہ کا سب سے خیر مقدم کیاہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس معاہدہ کا سب سے زیادہ فائدہ ہی آرپار کشمیری عوام کو ہی ملے گا۔
تاہم مسئلہ کشمیر کے کسی پائیدار حل کے لئے دونوں ممالک کے مابین سیاسی ڈائیلاگ کا شروع کیا جانا نہایت ہی اہم ہے۔ ایل او سی پر مستقل فائر بندی تبھی ممکن ہو سکے گی جب تینوں فریقین مل بیٹھ کر اس سیاسی مسئلے کا کوئی سیاسی حل تلاش کرینگے ۔امید کی جانی چاہئے کہ یہ معاہدہ دیر پا ثابت ہوگا اور اس معاہدہ کے طفیل دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کا ایک سلسلہ چل پڑے گا جس سے یقینی طور پر اعتماد سازی کی فضاء قائم ہوسکتی ہے جس کے ثمرات دونوں جانب کروڑوں عوام کو یقینی طور پر ملیں گے جو اب برسہا برس سے امن کے متلاشی ہیں ۔
(کالم نگار کا تعلق پونچھ ،جموںوکشمیر سے ہے اور آپ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں) 
ای میل۔Email: mohdarshid01@gmail.com 
 

تازہ ترین