کشمیر پر امن ،صورتحال پر سکون

پتھرائو، احتجاج ، ہڑتال اور تشدد میں کمی واقع: لیفٹیننٹ جنرل راجو

تاریخ    2 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// فوج نے کہا کہ کورونا وائرس کے اثرات وادی میں پرامن صورتحال کا موجب نہیں بنے بلکہ یہ اس لئے پرامن ہے کیونکہ لوگ ایسا چاہتے ہیں۔15ویں کور کے آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’سال 2020  میںایک پرامن وقت رہا ۔ وادی میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، تشدد کے تمام طریقے، چاہے وہ پتھراؤ ، احتجاج ہو یا ہڑتال تمام میں کمی واقع ہوئی‘‘۔راجو ، جو نئے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے عہدے کا چارج سنبھالیں گے ، نے کہا  اس بات کا یقین کرنا چاہیں گے کہ وادی میں صورتحال کورونا وبائی امراض کی وجہ سے ’’پْرسکون‘‘  نہیںہے ،بلکہ ایسا  لوگ چاہتے ہیں۔ چنار کور کے کمانڈر نے کہا کہ یہ خاموشی اس لئے ہے کیونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ پرسکون رہیں، اگر کچھ اچھا ہو رہا ہے تو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ چاہتے ہیں ،جبکہ ہمیں سال 2021 سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں‘‘۔ جی او سی نے کہا کہ ایسے عناصر موجود ہیں جو تشدد کو جنم دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہاں کچھ گنے چنے واقعات رونما ہوئے۔راجیو نے کہا’’ انہیں اندرون اور لائن آف کنٹرول کے پار سے ہدایات موصول ہوئیں،اورحال ہی میں کرشنا ڈھابہ حملہ ہوا، یہ صرف یورپی یونین کے آنے والے وفد کو یہ پیغام دینے کے لئے کیا گیا تھا کہ صورتحال پْر امن نہیں ہے اور حالات معمول پر نہیں ہیں،جبکہ یہ ایک کلاسک انداز میں دہشت گردی تھی ۔لیفٹیننٹ جنرل  نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین سیز فائر معاہدے کے اعادہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے ، اسے ایک مثبت قدم اور دونوں ممالک کی شعوری کال قرار دیا۔ ،تاہم انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن کے اس پار سے عسکریت پسندوں کی دراندازی ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔انہوں نے کہا ’’جب جنگ بندی ہوتی ہے تو دراندازی کو  قابوکرنے اور ان پر قابو پانے کی ہماری صلاحیت میں بہتری آجاتی ہے۔‘‘جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ہندوستانی فوج کس طرح ردعمل ظاہر کرے گی تو ، لیفٹیننٹ جنرل نے کہا کہ فوج مناسب طریقہ کار کے ذریعہ اس مسئلے کو اٹھائے گی۔ لیفٹنٹ جنرل راجیو نے کہا’’ہمارے پاس مقامی سطح پر بھی اور دہلی میں بھی ایک طریقہ کار موجود ہے۔‘‘
 

تازہ ترین