تازہ ترین

۔30برسوں کے دوران زرعی اراضی سکڑتی گئی، باغات بڑھتے گئے

۔ 1,54,659ہیکٹر اراضی کا اضافہ ہوا، میوہ کی پیداوار1,77,129 میٹرک ٹن بڑھ گئی

تاریخ    2 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //شہری علاقوں کے پھیلائو کی وجہ سے جہاں زرعی اراضی کا خاتمہ ہورہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں کمی آرہی ہے ،وہیں گذشتہ 30برسوں کے دوران25فیصد زرعی اراضی کو باغات میں تبدیل کردیا گیا۔ظاہر سی بات ہے کہ میوہ کی پیداوار بھی کئی لاکھ میٹرک ٹن بڑھ گئی۔اگر پچھلے 45سال کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو باغاتی اراضی میں 33فیصد کا اضافہ ہوا اور پیدوار23لاکھ 24ہزار میٹرک ٹن بڑھ گئی ۔محکمہ باغبانی کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1975سے زرعی اراضی کو نئی کالنیوں اور باغانی اراضی میں تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس میںہر سال اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال  1974.75میں محکمہ باغبانی کا رقبہ 8,28,46ہیکٹر تھا اوروادی میں 216167میٹرک ٹن میوہ کی فصل اُگائی جاتی تھی۔ سال2019.20میں یہ اراضی بڑھ کر 3,30,956ہیکٹر ہو گئی جبکہ یہاں میوہ کی پروڈیکشن 25,41,158میٹرک ٹن ہو گئی ہے اور اس کا اگر تناسب نکالا جائے تو  45برسوں میں 2,48,470ہیکٹراراضی کا اضافہ ہوا جبکہ 23,24,991میٹرک ٹن میوہ بھی بڑھ گئی ہے۔سرکاری  اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ1990-91  میں باغاتی اراضی 1,76,297ہیکٹرتھی اور میوہ کی پیداوار 7,69,949میٹرک ٹن ہوا کرتی تھی۔اگلے 10برسوں کے دوران سال2000-2001 تک باغاتی اراضی 2,19,039ہیکٹرتک پہنچ گئی اور پیدوار9,31,800میٹرک ٹن ہوگئی۔اگلے 10برسوں کے دوران سال 2010-11میں باغاتی اراضی3,25,137ہیکٹرتک بڑھ گئی اور22,21,992 میٹرک ٹن پیدوار ہوئی۔آئندہ 10برسوں 2020-21 تک باغاتی اراضی کا کل رقبہ3,30,956ہیکٹرتک پہنچ گیا اورکل پیداوار25,41,158میٹرک ٹن ہوگئی۔گویا پچھلے 30برسوں کے دوران باغاتی اراضی میں 1,54,659ہیکٹرکا اضافہ ہوا اورپیداوار میں بھی1,77,129میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا ۔ باغبانی شعبہ سے جموں وکشمیر کوسالانہ 7ہزار 5سو کروڑ کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔فی الوقت باغبانی شعبہ کے ساتھ 7لاکھ کنبے براہ راست منسلک ہیں اور کل  33لاکھ افراد جڑے ہوئے ہیں۔ اس وقت وادی میں 2لاکھ 75ہزارمیٹرک ٹن اخروٹ کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ سیب کی پیداوار18لاکھ 83لاکھ میٹرک ٹن اوربادام کی پیداوار 3ہزار1سو9میٹرک ٹن ہوتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ چری (گلاس ) کی اراضی 28سو ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے جس میں سے 11ہزار میٹرک ٹن میوہ کی پیداوار ہوتی ہے۔اسی طرح انگور کی اراضی 332ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور900ٹن انگور سالانہ پیداوار ہوتی ہے۔جموں وکشمیر میں محکمہ باغبانی کی جانب سے لگائے گئے پودوںپودوں کی کل تعداد 10کروڑ ہے۔محکمہ کے ڈائریکٹر اعجاز احمد بٹ کا کہنا ہے کہ 1952سے لیکرآج تک کشمیر میں باغبانی شعبہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کرتا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اراضی میں اضافہ ہونے کا مقصد لوگوں کو باغات سے فائدہ مل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک کنال دھان کی فصل کو اگر فروخت کیا جائے تو اس کا صرف 3سے4ہزار منافع آتا ہے لیکن اگر ایک کنال باغات پر پھلوں کی کاشت کی جائے تو اس  سے کسانوں کو 40ہزار کا فائدہ ملتا ہے اور اگر اعلیٰ معیار کا میو ہ اُگایا جائے تو منافع کئی گناہ زیادہ ملے گا۔