۔18ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے

۔ 9ویں سے 12ویں جماعت کے طلاب کی حاضری سے سکول دوبارہ آباد

تاریخ    2 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی

۔24گھنٹے موبائل فونوں پر گیمز کھیلنے کا سلسلہ رُک گیا

 
سرینگر//وادی میں پیر کو قریب 18ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے۔ تاہم یکم مارچ سے صرف 9ویں سے لیکر 12ویں جماعت تک کے طلاب کو آنے کی اجازت تھی جبکہ پرائمری اور مڈل کلاسز 8مارچ سے شروع ہورہے ہیں۔5اگست2019کو وادی میں بندشیں نافذ کرنے کے بعد تعلیمی ادارے مقفل ہوئے اور بندشوں کے دوران ہی امتحانات لئے گئے اور سرمائی چٹھیاں کی گئیں۔2020میں 26فروری سے تعلیمی ادارے کھل گئے لیکن 6مارچ سے کورونا وائرس کی وجہ سے بند ہوگئے اور مشکل سے 8دنوں تک تعلیمی اداروں میں طلاب کی تدریسی سرگرمیاں رہیں۔اسکے بعد طلاب کو پورا سال آن لائن طریقے سے پڑاھایا گیا، امتحانات لئے گئے یا پھر بچوں کی پروموشن کی گئی۔اب قریب 18ماہ تک سکول بند رہنے کے بعد پیر کو9ویں جماعت لیکر12ویں جماعت تک کے بچوں کیلئے کھل گئے ہیں۔ طلاب نے بتایا کہ صرف ان طلباء و طالبات کو اسکولوں میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی جن کے والدین نے پیشگی ہی اسکولوں میں تحریری طور پر اپنی مرضی سے بچوں کو بھیجنے کی رضامندی ظاہر کی تھی۔بچوں کو سینی ٹائزر اور ماسک اپنے ساتھ لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔لاک ڈائون کے دوران ڈرائیوروں کو نوکری سے فارغ کرنے کے سبب کئی سکولوں  کے بچوں کو از خود سکول آنے کیلئے کہا گیا تاہم واپسی پر انہیں سکول کی بسیں دی گئیں۔ مرحلہ وار بنیادوں پر اسکول کھلنے کے دوران بھی اسکولوں میں جفت و طاق فارمولہ اپنایا گیاہے۔اسکولوں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں شروع کرنے سے قبل وضع کئے گئے کووڈ19 کے تمام رہنما خطوط عملائے جا رہے ہیں۔ طالب علموںکی اسکولوں میںداخل ہونے کے ساتھ ہی تھرمل سکریننگ کی جارہی ہے۔ کسی بھی طالب علم کو بنا ماسک کے اسکول میںداخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ طلبا نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کافی خوش ہیں کہ وہ ایک سال کے بعد پھر سے اسکول آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے اسکول بند رہے جس کی وجہ سے انکے ذہن متاثر ہوئے۔ ساتھ ہی اسکول بند رہنے کی وجہ سے تعلیم پر بھی برا اثر پڑا ۔سکول کھلنے سے زیادہ تر خوشی والدین کو ہے۔ بیشتر والدین کا کہنا ہے کہ تقریباً 90فیصد بچے موبائل فونوں پر گیمز کھلینے کے عادی بن چکے ہیں جس کی وجہ سے انکی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی تھی اور وہ کتابوں کی طرف قطعی طور پر راغب نہیں ہورہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ کم سے کم سکولی اوقت کے دوران وہ مابل فونوں کے استعمال کرنے سے دور تو رہیں گے۔ پانچ اگست2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے پوری وادی میں اسکول بند رہے۔ رواں سال جنوری میں  انتظامیہ نے یکم فروری سے اسکولز ، کالجز ، اعلی تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی تھی۔سرکاری ذرائع کے مطابق8مارچ سے 8ویں جماعت تک کے طلاب کیلئے بھی اسکولوں میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوگا۔8ویں جماعت تک کے اساتذہ کو  پیر کو ہی اسکولوں میں تیاریوں کے سلسلے میں حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔گزشتہ ہفتے قریب11ماہ کے بعد کالجوں میں تدریسی عمل شروع ہوا تھا۔
 

سکولوں میں طلاب کی صحت جانچ شروع

نیوز ڈیسک
 
جموں//مشن ڈائریکٹوریٹ نے قومی صحت مشن کے اشتراک سے صوبہ کشمیر اور جموں کے سرمائی زون سرکاری سکولوں کے طلاب کی صحت جانچ پیر کو مڈ ڈے میل سکیم کے تحت شروع کی ۔واضح رہے یہ صحت جانچ یونین ٹریٹری کے سرکار ی سکولوں میں حال ہی میں شروع کی گئی تاکہ اوّل سے بارہویں جماعت تک کے طلاب کی صحت کی جانچ کر کے اُن میں وٹامن اور معدنیات کی کمی کو تجزیہ کیا جاسکے۔ ان طلاب کے حق میں اس سے قبل سٹوڈ نٹ ہیلتھ کارڈ جاری کئے گئے۔انتظامی سیکریٹری محکمہ تعلیم نے مشن ڈائریکٹر مڈڈ ے میل کو سرکاری سکولوں کے طلاب کے لئے صحت جانچ شروع کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکول میںدرج  طالب علموں کا صحت سے متعلق ریکارڈ کی معقول دیکھ ریکھ کی جائے گی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ 12.07لاکھ صحت کارڈ اب تک سرکاری سکولوں کے طلاب میں قومی صحت مشن کے اشتراک سے راشٹریہ بال سواستھ کاری کرم کے حصے کے طور پر تقسیم کئے گئے ہیں۔
 

تازہ ترین