کیا ہم مسلمان ہیں ؟

نو بہ نو

تاریخ    2 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


غازی ادیب الاسلام /سرینگر
اگر اقوام عالم کی تاریخ کا موازنہ مسلمانوں کی تاریخ کے ساتھ کیا جائے تو مسلمان وہ واحد ملت ہوگی جسکی تواریخ میں اپنے فرائض کے تئیں وفادار کم اور منافق وغدار زیادہ ہونگے ۔ یہ بات اظہر من الشمس کی طرح عیاں و بیاں ہے کہ مسلمانوں نے جتنی بھی جنگیں لڑی اور فتوحات حاصل کیں وہ ظاہری اسباب مثلاً افواج کی تعداد و لوہے کی بنیادپر حاصل نہیں کیں بلکہ اللہ پاک پر راسخ ایمان و اعتماد ہونے کی وجہ سے حاصل کی پھر چاہے میدان بد ہو یا کوئی اور اُسکے بعد ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ میدان بدر رونما ہونے کے بعد پیغمبر اعظم ﷺ کے مبارک دور میں پھر اسکے بعد خصوصاً خلیفہ اول و دوم کے ادوار میں جس طرح مسلمان فتوحات سے ہمکنار ہوتے چلے گئے، تواریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے شائد اب ایک قلیل عرصے میں ہی پوری دنیا پر اسلامی نظام نافذ ہونے والا ہے مگر بدقسمتی سے یہ نہ ہوسکا جسکی وجہ خاصکر مسلمانوں میں ناچاقی و نااتفاقی ہے اور یہ وجہ بھی انہی غداروں اور منافقین کی وجہ سے پیدا ہوئی جنہوں نے خود کو مسلمانوں کے صفوں میں ایمانداروں کے لباس میں چھپا کر رکھا تھا اور مسلمانوں کی بیخ کنی کرتے گئے اور غیر اقوام کے ہاتھوں کی کٹ پتلی بنکر اپنے ضمیر کو فروخت کرتے گئے اور مسلمانوں کے راز فروخت کرتے گئے اور دوسری طرف سے ان سادہ لوح مسلمانوں میں جو صرف اعتبار و اعتماد کرنا جانتے تھے میں نفرتوں و نااتفاقی کے بیچ بوتے گئے۔ جسکا نتیجہ نہ صرف یہ نکلا کہ مسلمان بہت سی فتوحات سے پچھے رہ گئے اور مالی اعتبار سے کمزور ہوتے گئے بلکہ ہزاروں اور لاکھوں میں مسلمانوں نے اپنے جانباز بھی گنوائے اور آج بھی یہی سب کچھ ہورہا ہے جبکہ مسلمان آج پہلے کی نوعیت سے بالکل مختلف ہیں۔
اب سوال یہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف مسلمان ہی ایسے کردار کا حامل کیوں ہے جو اپنے ہی آشیاں، تہذیب کو خود مٹانے پر تلا ہوا ہے جبکہ باقی اقوام میں مسلمانوں کی نسبت یہ عنصر نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اس سوال کا جواب پیغمبر اعظمﷺ کے اس شاندار وجاندار فرمان مبارک میں ڈھونڈنا پڑے گا جس میں آقائے نامدار نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ’’مسلمانوں میں حب دنیا، مال کی جاہ اور موت سے نفرت ہوگی‘‘ جسکی وجہ سے ان میں وہ انسانیت، ہمدردی و خیرخواہی کا جذبہ مفقود ہوگا جسکے لئے یہ کبھی ساری کائنات میں مشہور ہوا کرتے تھے اور ایمانداری، حق پرستی اور ظلم کے خلاف ان کا جذبہ و عزم بھی ختم ہوجائے گا جو کسی زمانے میں ان کی پہچان ہوا کرتا تھا۔اگر مسلمان ہونے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں تو کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے کہ محض چند ٹکوں کیلئے ہم اپنا ضمیر آسانی سے فروخت کرتے ہیں۔ کیا خود غرضی ہمارے خون میں اتنی سرایت کرچکی ہے کہ ہم آرام سے اپنوں کا لہو بہتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اسکو بہانے کیلئے بھی ہم ہی غیروں کے لئے آلہ کار بنتے ہیں۔
ہر قوم ہر مذہب کے پیروکاروں کا تجزیہ اگر کیا جائے تو سب اپنے قوم و مذہب سے وفادار اور پُرخلوص ہے مگر دوسری طرف صرف مسلمان ہیں جو بالکل اسکے برعکس نظر آتے ہیں جبکہ مسلمان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہیں اور ہمیں صفہ ہستی سے مٹانے کیلئے ہر ممکن حربہ آزمارہی ہے اور وہ کامیاب بھی ہورہے ہیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ ہمیں اس اس بات سے آگاہ کرچکے ہیں کہ وقت آنے والا ہے کہ جب مسلمان ایک تر نوالہ ہونگے اور غیر مسلم اقوام مل جل کر ان پر ٹوٹ پڑیں گے جیسا بھوکے دوسترخواں پر کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی ہم اس فرمان نبیﷺ کا مصداق بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں بجائے اسکے کہ وہ تدابیر اختیار کرتے جو محمد عربی ﷺ نے اس قہر سے بچنے کیلئے فرمائی ہیں۔ 
سارے عالم میں مسلمان کسی بھی جگہ میں متحد نہیں ہیں، بکھرے ہوئے ہیں اور مررہے ہیں، اب اگر اتنا سب ہونے کے باوجود بھی مسلمان غور و فکر نہ کرپائے اور بچنے کا سامان اختیار نہ کرپائے تو بار بار یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ۔۔۔کیا ہم مسلمان ہیں؟
 

تازہ ترین