اپنی خواہشات کیلئے بچوں کی خواہشات قربان نہ کریں

بچوں کو وہی پڑھنے دیں جس میں اُن کی دلچسپی ہو

تاریخ    2 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


غازی سہیل خان
چندروز قبل یعنی 26؍فروری کی صبح کوبورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں جماعت کے امتحان کے نتائج جیسے ہی منظر عام پر لائے تو سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ چار سُو لوگ ایک دوسرے کو مبار ک بادی کے پیغامات دینے شروع ہو گئے ۔کہیں پہ غربت کے باوجود کسی بچے کو امتخان میں کامیابی کی مبارک باد دی جا رہی تھی تو کہیں پہ قوت گویائی اور سماعت سے محروم اننت ناگ کے ایک مضافاتی گائوں کی ایک معذور بچی کا حیرت انگیز طریقے سے90فیصد نمبرات سے کامیاب ہونے پر اسکو فیس بُک صارفین کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔اس امتحان میں بھی ایک بار پھر لڑکیوں نے لڑکوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اچھے نمبرات حاصل کیے۔بورڈ حکام کے مطابق 75فی صد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔اعداد و شمار کے مطابق لڑکوں میں کامیابی کی شرح 74.04فیصد جب کہ لڑکیوں میں 76.09فیصدرہی ۔اخباری رپورٹس کے مطابق اس امتحان میں مجموعی طور پر 75132اُمیدوار شامل تھے جن میں 38340لڑکے جبکہ 36772لڑکیاں شامل تھیں ۔مجموعی طور پر 56348اُمید وار کامیاب اور 18626ناکام ہوئے ہیں۔جب ہم الگ الگ اضلاع پر کامیابی کی شرح پر نظرڈالتے ہیں تو اس میں سب سے پہلے نمبر پر شوپیاںہے جہاں طلبہ کی کامیابی کی شرح 88.20فی صد رہی ،اسکے بعد پلوامہ84.25فی صد،سرینگر 80.20فی صد ،کولگام 78.84فی صد،بڈگام 75.87فی صد،کپواڑہ72.19فی صد بارہمولہ71.54فی صد، اننت ناگ71.30فی صد،گاندربل64.32فی صد،بانڈی میں 61.52فی صد کامیابی کی شرح رہی ہے۔
مجموعی طور پردسویں جماعت کے یہ نتایج انتہائی حوصلہ افزا لگ رہے ہیں ۔جہاں ایک طرف غیر سرکاری سکولوں نے اچھی کار کردگی دکھائی ہے وہیں چند سرکاری سکولوں کے بچے کسی سے کم نہ نکلے تاہم 23سرکاری سکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی بچہ امتحا ن میں کامیاب نہیں ہو پایا جو کہ ایک تشویشناک امر ہے جس پر انتظامیہ کو سوچنا چاہئے ۔اکثر بچوں نے بہت اچھے نمبرات حاصل کیے ہیں اوریہ لمحات بچوں سے زیادہ اُنکے والدین کے لئے خوشی اور مسرت کے ہوتے ہیں کیوں کہ والدین جانتے ہیں کہ ان کے مستقبل کا تعین دسویں کے بعد ہی ہوتا ہے ۔و ہ بچہ کس میدان میں اپنی صلاحتیں استعمال کرنا چاہتا ہے ایک طرح سے دسویں جماعت پاس کرنا اس کے اکیڈیمک کیرئیر کی بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تو ایک وجہ ہے والدین کی خوشی کی، دوسری وجہ یہ ہے کہ کشمیر اس دھرتی پر ایک شورش زدہ خطہ ہے جہاں پہ کبھی بھی ان بچوں کو اپنی تعلیم کو حاصل کرنے کیلئے موافق حالات و ماحول نصیب نہیں ہوا اور اس تنازعہ کے سبب یہاں رونما ہونے والے حالات کی مار سب سے پہلے اور سب سے زیادہ یہاں کے طلبہ پر پڑتی ہے۔گذشتہ چند سال سے تو وادی کے حالات طلبہ کے لئے انتہائی نا موافق اور مایوس کن رہے ،جن میں خصوصی طور 5اگست 2019ء کے بعد ایک سال طلبہ اپنی تعلیم سے محروم ہو گئے۔ اس کے بعد کورونا وائرس کی مار کے سبب ملک کے دوسرے سکولوں کی طرح کشمیر میںبھی سکول بند کر دئے گئے تاہم ملک کی دیگر ریاستوں میںبچے گھر بیٹھے انٹرنیٹ کی مدد سے تعلیم حاصل کر پائے لیکن کشمیر کے یہ بد قسمت بچے انٹرنیٹ کی بندش اور بڑی مشکلوں سے 5gکے زمانے میں طلبہ کو 2gکی رفتار سے چلنے والے انٹرینٹ کے سبب ان پر مشکلات کے پہاڑ گر گئے ۔
غرض کشمیر میں اگر کوئی ان نا مساعد حالات کی مارجھیل رہا ہے تو وہ یہاں کی طلبہ برادری ہی ہے ۔اس سب کے باوجود جب ایک بچہ کسی امتحان میں کامیاب ہوتا ہے تو والدین کی جانب سے اپنی خوشی کا اظہار واجب بنتا ہے ۔لیکن ستم بالاے ستم جہاں ان طلبہ کو باہر سے موافق ماحول نصیب نہیں ہوتا وہیں ان کو گھر کے اندر بھی امتحانات میں کامیابی کے بعد خاصے مشکلات کا سا منا کرنا پڑتا ہے بلکہ یوںکہنا جائز ہوگا کہ ان کی خواہشات اور انکی مرضی کا خون کیا جاتا ہے بھلے ہی وہ محبت بھرے انداز میں کیا جائے۔ان بچوں کی خواہشات کا خون کچھ ایسے ہوتا ہے کہ کہ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد اکثر والدین اپنے بچوں کی اُن کی مرضی کے خلاف مضمون (subject) زبر دستی اختیار کرواتے ہیں اس کی صلاحیتوں کو مد نظر رکھے بنا ہی ،بھلے ہی وہ بچہ اُس مضمون کو پڑھنے کی دلچسپی رکھتا ہو یا نہ بس والد ین کی مرضی ہے تو پڑھنا ہے نہیں تو والدین کی اور سے اُنکو دھمکیاں ملنا کوئی خلاف معمول نہیں ۔یہاں ایک اور المیہ یہ ہے کہ جب کوئی بچہ 50فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کرتاہے تو اسکے والدین اور دیگر رشتہ دار اسکو سائینس،کامرس یا اور کوئی مضمون، جو اسکی صلاحیتوں کے خلاف ہو، اختیار کرواتے ہیں ۔پھر ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے بچے پھر نہ ہی ڈاکٹر بن پاتے ہیں اور نہ انجینئر ،بلکہ اْلٹا جب یہ ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن پاتے تو سماج میں انکو اپنا آپ اچھوت لگنے لگتا ہے، وہ کلاس میںباقی بچوں کے مقابلے میں تعلیم ٹھیک سے حاصل نہیں کر پاتا، اسکا سکول میں دل نہیں لگتا ،اس کے لئے ایک ایک لمحہ قیامت ہوتا ہے ،وہ سکول کے دیگر طلبہ سے کھل کر بات نہیں کر سکتا،وہ سکول میں مختلف پروگرامات کا حصہ نہیں بنتااور آخر کار وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتاہے ۔وہ تو لازماً احساس کمتری کا شکار ہوں گے ہی جب والدین اپنے بچوں کو یہ کہتے ہوئے ذہن سازی کریں کہ اگر کامیاب ہونا ہے یا زندگی میں کچھ کرنا ہے تو سائنس یا کامرس کا مضمون یا ہماری مرضی کا مضمون ہی پڑھنا پڑے گا لیکن وہ بچہ اپنے اندر کچھ اور بننے کی صلاحیت رکھتا ہو اس صورت میں تو وہ یہ سوچے گا ہی کہ میرے گھر والوں کی خواہش کے مطابق میں ڈاکٹر اور انجینئر کے بغیر زندگی میں ناکام ہوں، ایسی ذہنیت والا بچہ زندگی میں کیا کر پائے گا۔؟یہاں یہ کہنے کا ہر گز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم کسی بچے کی یہ کہتے ہوئے حوصلہ شکنی کر رہے ہیں کہ سائینس اور کامرس نہ پڑھیں بلکہ اچھی بات ہے اگر ہمارے سماج میں ایمان دار ڈاکٹرس اور انجینئرزبنتے ہیں لیکن کسی کو زبردستی ڈاکٹر یا انجینئر بنانا بچوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
میں تو یوں کہوں گاکہ ایسے والدین بچوں سے شعوری اور غیر شعوری طور پر تعلیم کے نام پر بیگار لے رہے ہیںاور یہ بھی بچہ مزدوری کی ایک قسم مانتا ہوں۔ہمارے معاشرے کا ایک ستم یہ بھی ہے کہ ا کثر والدین بچوں کو یہ کہتے ہوئے تعلیم دلاتے ہیں کہ فلاں ہمسائے کے بچے نے اور فلاں رشتہ دار کے لڑکے نے سائینس کے مضامین اپنے لئے منتخب کیے ہیں، کہیں وہ آپ سے پہلے ڈاکٹر یا انجینئر نہ بن جائے، اس لئے آپکو بھی ان ہی مضامین میں تعلیم حاصل کرناہو گی ۔افسوس پھر یہی بچے سماج میں کوئی خاص کارنامہ انجام دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں بلکہ سماج تو دوراپنی زندگی بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں گزار پاتے۔ایسے ہی احساس کم تری کے شکار بچے پھر ڈرگس اور دوسرے اخلاق باختہ کاموں میں لگ کر اپنا اور اپنے خاندان کا نام مٹی میں ملا کرسماج کے لئے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں ۔اس انتہائی نازک اور گھمبیر مسئلہ کے حوالے سے راقم نے چائلڈ گائڈینس سنٹر (child guidance center) بادام واری کے کلنیکل سائیکالوجسٹ (clinical psychologist)مظفر احمدسے جب جاننا چاہا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے مطب پہ ایسے طلبہ بطور مریض آتے ہیں جوہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں گھر والے فلاں فلاں مضمون پڑھنے کے لئے دبائو ڈال رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم ذہنی دبائو کاشکار ہو گئے ہیں ۔جو مضمون گھر والے ہمیں زبردستی پڑھانا چاہتے ہیں ہمیں اس کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے، اس کے باوجود بھی ہمیں وہ مضمون اختیار کرنا پڑ رہا ہے ۔ایسے بچے بھی اکیڈمک یا exam stressکا شکار ہو جاتے ہیں ۔ایسے بچوں میں ہم نے خود کشی کے خیالات کا آنا بھی پایا ہے، اسی طرح سے یہ بچے منشیات کا استعمال بھی شروع کر دیتے ہیں ۔پھر یہی بچے جب ان مضامین میں کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے پاتے ہیں تو یہ آگے جا کے اپنے مضامین بدل دیتے ہیں ،اور کچھ بچے تو بیچ میں پڑھائی کو ہی خیر باد کہہ دیتے ہیں ‘‘۔ تو یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم بحیثیت والدین اپنی خواہشات کی ناکام تکمیل کی خاطر اپنے بچوں سے اُن کی آزادی اور انکی تعلیم کا حق کہیں غصب تو نہیں کر رہے ہیں ؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ جذبات سے پرے اپنے بچوں کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو جانچا جائے، انکی اچھی گائیڈینس کسی ماہر سے کروائی جائے اور اسی کے مطابق انکے لئے مضامین کا انتخاب کیا جائے۔ ہمیں بحیثیت والدین اپنے بچوں کی نفسیات کو جانچتے رہنا چاہئے، اُنکی کے شوق ،اچھائی اور بُرائیوں کے مطابق ہی اُن کو اپنے مستقبل بنانے کا حق دینا چاہئے ۔اگر ہمارے سماج میں والدین کو اپنے بچوں کی نفسیات ،شوق اور صلاحیتوں کو سمجھنے میں دشواریاں آرہی ہیں یا وہ اس قابل نہیں ہیں کہ اپنے بچوں کو سمجھ سکیں گے تو اُن کو چاہئے کہ کسی ماہر سے مشورہ لیں ۔اگر اتنا بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اُس بچے کے سکول ٹیچر سے تو مشور لے سکتے ہیں ؟کیونکہ ایک اُستاد ہی والدین سے بھی زیادہ اپنے شاگردوں کو سمجھ سکتا ہے ۔غرض بچوں کو اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرنے دیں، تبھی جا کر وہ اپنے اور سماج کے لئے کوئی کارنامہ انجام دے پائیں گے، وہ اپنی زندگی اچھے سے گزارسکیں گے۔وہ اپنی صلاحیت اور شوق کے مطابق اپنی تعلیم جب حاصل کریں گے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے پسندیدہ مضمون میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کر سکیں گے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آپکا بچہ استاد، بزنس مین، سماجی کارکن، سیاسی لیڈر یا کچھ اور بننے کی صلاحیت رکھتا ہو اور آپ اس کا انمول وقت ڈاکٹر یا انجینئر بنانے میں برباد کر رہے ہوں!۔
��������
 

تازہ ترین