حضرت علیؓ شیرِ خدا

معلومات

تاریخ    2 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


مسکان گُل
اسلامی تاریخ میںحضرت علی رضی اللہ عنہ کا شمار انتہائی اہم اور عظیم شخصیات میںہوتا ہے ۔آپ ؓ نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین ساتھی تھے بلکہ آپؐ کے چچہیرے بھائی بھی تھے ،ساتھ ہی آپؓ کو حضور پاک ؐ کے داماد کا شرف بھی اُس وقت حاصل ہوا جب آنحضرت ؐ نے اپنی پیاری دختر حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح آپؓ سے کردیا ۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ کی پرورش کی ذمہ داری اُس وقت لے لی جب آپؓ کی عمر دس سال کی تھی اور اس طرح حضرت علیؓ نے اپنا دورِ بچپن حضور اکرم ؐ کے زیر سایہ گزارااورحضور اکرمؓ سے ہی براہِ راست تعلیم و تربیت حاصل کی ۔حضرت علیؓ کی نبی اکرم ؐ کے ساتھ نزدیکی قربت کے باعث آپ ؓ نے نبی اکرمؐ کے اوصافِ حمیدہ کو بخوبی دیکھا  اور سمجھاتھا جس کے نتیجہ میںعمر بھرآپؓ بھی اُنہیں اصولوں پرکاربند رہ کر عمل پیرا رہے۔جناب ِ رسول اکرم ؐ نے جب اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو عرب کے کفار اور بے دین لوگوں نے آپؐ کی زبردست مخالفت شروع کی اور اسلام کی راہ میںہر قسم کے روڑے اٹکانے لگے ۔اُس وقت حضرت علیؓ نے نہ صرف حضور ِ اکرم ؐ  کے تبلیغ دین کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ خود ایمان لاکر اسلام میں داخل ہوگئے۔آپ ؓ نہایت بہادری ،ہمت وشجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مصمم ارادے پر قائم رہے اور کبھی بھی نہ ڈگمگائے،گویا حضرت ِ علی ؓ نے بچپن میں ہی اسلام پر ایمان لانے اور اسلام کے اصولوں پر چلنے کا عظیم مرتبہ بھی حاصل کرلیا تھا ۔حضرت علیؓ کااسلام میں داخل ہونے کے بعد مکہ لے لوگوں نے حضوراکرمؓ کا مذاق اُڑانا بھی شروع کردیا تھا کہ دیکھو محمد ؐ کا ساتھ اب صرف بچے دینے لگے ہیںاور پھر جب اسلام فروغ پاگیاتو فتح مکہ کے بعد خانہ کعبہ میں بُت گرانے کے دوران بُتوں کے سردار کو حضرت علیؓ نے آنحضور ؐ کے شانۂ مُبارک پر چڑھ کر توڑ دیا۔حضرت علیؓ نے اپنی زندگی میں دین ِ اسلام کی خاطر بہت سے کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ جن کو سُن کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔تاریخ اسلام میں حضرت علی ؓ کی اہمیت اور فضیلت میں اُس وقت مزید اضافہ ہوا جب آپؓ کو اسلام کے چوتھے خلیفہ ہونے کا شرف ملا ۔آپؓ کی زندگی کے چند ایسے واقعات ذیل میں بیان کرنے کی جسارت کررہی ہوں جو آج بھی آپؓ کی عظمت اور عالیشان ہونے کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔
ا ۔ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپؐ کے جانی دشمنوں یعنی کُفارِ مکہ نے آپؐ کے گھر کا گھیرائو کرلیا ،اُس رات حضرت علیؓحضور اکرم ؐ کے بستر پر سوئے رہے تاکہ دشمن یہی سمجھیں کہ نبی کریمؐ اپنے گھر میں ہی موجود ہیں۔اس طرح آپؓ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر رسول اللہ ؐ کی جان کی رکھوالی کی۔مزید برآں ہجرت پر روانہ ہونے سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو مکہ والوں کواُن کی امانتیں ،(جو وہ مکہ کے امین جنابِ محمدؐکے پاس رکھے ہوئے تھے )واپس کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی جو حضرت علیؓ نے بہت خوش اسلوبی سے انجام دی۔حضرت علیؓ  نے اُس وقت تک مدینہ کا رُخ نہیں کیا جب تک کہ مکہ والوں کی ساری امانتیں واپس نہ ہوئیں۔
۲۔ حضرت علیؓ نے نبی کریم ؐ کی زندگی میں لڑی جانے والی اسلامی جنگوں میں ایسے بے مثال شجاعت کے عظیم الشان کارنامے رقم کئے جو رہتی دنیا تک مسلم اُمہ کے لئے مشعل راہ ہیں۔اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے آپؓ نے کبھی پیٹھ نہ پھیری۔آپ ؓ کی شجاعت کے اعتراف میں ہی آپؓ کو ’’اسد اللہ‘‘ کے لقب سے نوازا گیا جس مطلب ہے ’’شیر خُدا‘‘۔
۳۔حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں جب بغاوت نے زور پکڑا تو دشمنوں نے حضرت عثمانؓ کے گھر کا گھیرائو کرلیا تھا اور گھر میں کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل روک دی تھی،ایسے میں حضرت علیؓ نے زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹوں کے ذریعے حضرت عثمانؓ کے محصور خاندان کے لئے کھانے پینے کی اشیاء بھیجدیںاور اس طرح غضب ناک باغیوں کی خواہش کے خلاف عظیم فرزندان اسلام کی جان کو خطرے میں ڈال دی ۔
ایک مرتبہ حضرت علیؓ اور آپؓ کی زوجہ حضرت فاطمتہ الزہرا ؓ نے اپنے دو نوں فرزندان (حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ)کے بیمار ہونے پر تین دن کے روزے رکھنے کا فیصلہ لیا ۔پہلے دن روزہ رکھنے کے بعد افطار کے وقت ایک بھوکا شخص آپؓ کے دروازے پر صدا دے گیا تو حضرت علیؓ اور آپؓ کی اہلیہ حضرت فاطمہؓ نے اپنے گھر میں افطار کے لئے رکھی گئی روٹی اُس بھوکے شخص کو دے دی او ر خود بھوکے رہ کر دوسرے دن کا روزہ رکھ لیا ۔غرض کہ دوسرے اور تیسرے دن بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا اور آپؓ بدستو ر بھوکے رہے ۔یہ سب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک آیت ِ کریم نازل کی کہ’’تم اتنے بھی اپنے ہاتھ نہ پھیلائو کہ خود کی جان کو نقصان پہنچے۔‘‘حضرت علی ؓایک ایسی عظیم ہستی ہیں جنہوں نے راہِ حق میں ایسی عظیم قربانیاں دی ہیں جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،آپ ؓ پر ایسے ستم ڈھائے گئے کہ دِل کانپ جاتے ہیں اور اس طرح وہ اسلام میں انتہائی اعلیٰ مقام کے مستحق ٹھہرے۔
میںنے ۱۳؍ رجب المرجب کے د ن حضرت علیؓ کی یوم ولادت پر آپؓ کی سیرت اور آپ ؓ کے رتبے پر روشنی ڈالنے کی مختصر سی کوشش کی ہے جبکہ آپؓ کی شان ،آپؓ کی سیرت مبارکہ،آپ ؓ کے قول کو بیان کرنے کے لئے ساری عمر کم پڑجائے گی۔میری اتنی حیثیت ہی کہاں کہ اُنؓ کے بارے میں لکھوں،جن کے بارے میں حضور ِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا : کہ ایک منافق حضرت علیؓ سے محبت نہیں کرے گا اور ایک ماننے والا حضرت علیؓ سے کبھی نفرت نہیں کرے گا ۔‘‘
حضرت علیؓ نے اپنی ذہانت کے جوہروں اور بلند پایہ کردار سے انسان کی آنے والی نسلوں کی رہنمائی کے لئے کبھی نہ بجھنے والی ایک مشعل روشن کی ہے ۔آپؓ نے پیغمبر اسلام ؐ کی جانثاری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور اپنی زندگی میں ہی جنت کی بشارت حاصل کرکے عشرہ مبشر میں شمار ہوگئے۔تمام عالم اسلام میں حضرت علی ؓ کو نہایت ادب و احترام سے یاد کیا جاتا ہے اور لوگ آپؓ کی مثالی شخصیت سے سبق حاصل کرکے ایک کامیاب انسان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
چیوڈارہ بڈگام، بیروہ
 

تازہ ترین