اُن رہنمائوں کی تعریف کرتا ہوں جو حقیقت نہیں چھپاتے | وزیراعظم کی حق گوئی لائق ِ تعریف

جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ ختم ہونے سے ترقیاتی عمل جمود کا شکار | بے روزگاری عروج پر ، آمدن اور ٹیکسوں میں کوئی مماثلت نہیں :آزاد

تاریخ    1 مارچ 2021 (01 : 01 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

سید امجد شاہ
جموں //وزیراعظم نریندر مودی کو بقول ان کے حق گوئی کیلئے سراہتے ہوئے راجیہ سبھا میں سابق قائد حزب اختلاف غلام نبی آزا د نے کہاکہ وہ ان رہنماؤں کی تعریف کرتے ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی کی طرح اپنے بارے میں حقیقت کو کبھی نہیں چھپاتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقیاتی عمل جمود کا شکار ہے اورٹیکسوں میں 110 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بیروزگاری میںبھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔غلام نبی آزاد نے چھنی ہمت کے گجر دیش چیریٹیبل ٹرسٹ میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان رہنماؤں کی تعریف کرتے ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی کی طرح اپنے بارے میں حقیقت کو کبھی نہیں چھپاتے ہیں۔انہوںنے کہا ’’میں رہنماؤں کی بہت سی چیزوں کی تعریف کرتا ہوں۔ جیسے میں بھی ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں اور اس پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کچھ سینئر قائدین جو کہتے ہیں کہ وہ برتن دھوتے تھے، کہ وہ کچھ بھی نہیں تھے اور چائے بیچتے تھے۔ اگرچہ ہم سیاسی حریف ہیں لیکن میں ان کی تعریف کرتا ہوں کہ وہ اپنے بارے میں حقیقت کو چھپاتے نہیں ہیں۔ جو لوگ اپنے بارے میں حقائق چھپاتے ہیں وہ بلبلوں میں رہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں فخر کرنا چاہئے کہ ہم کیا ہیں اور کہاں سے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ جب میں دنیا بھر کا دورہ کرچکا ہوں ، فائیو اسٹار یا سات اسٹار ہوٹلوں میں رہا لیکن پھر بھی جب میں اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو اس کی خوشبو مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مجھے خاص محسوس ہوتا ہے‘‘۔جموںوکشمیر میں ترقیاتی عمل سے متعلق انہوںنے کہا ’’ہم ٹرپل شفٹوں میں کام کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اب یہ نصف شفٹ میں بھی نہیں چل رہا ہے،میں حکومت ہند سے اپیل کروں گا کہ زمین پر کام ہونا چاہئے‘۔آزاد نے کہا کہ انہوں نے ریاستی درجہ کی بحالی ، ترقی ، تعلیم کے نظام ، صنعتی شعبے(جوبند ہیں)،بے روزگاری میں زبردست اضافہ ، ٹول ٹیکس (پلازہ) کے قیام اور پراپرٹی ٹیکس کے امور کو اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس آمدنی کے ساتھ ہونا چاہئے ، لیکن جموں و کشمیر کی آمدنی صفر ہوگئی ہے جبکہ ٹیکس 110فیصد تک جا پہنچا ہے، یہاں بالکل مطابقت نہیں ہے۔آزاد نے کہا’’سب سے پہلے ہمیں جموں و کشمیر کی معاشی حالت کو درست کرنا ہے ، ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے ، یعنی دوگنا سے تین گنا ، دہلی کو جموں و کشمیر کو تین سے چار گنا زیادہ فنڈ بھیجنا چاہئے ، بجٹ کے علاوہ ، ہمیں اضافی فنڈ ملتے تھے جو استعمال ہوتا تھا۔ڈبل اور ٹرپل شفٹوں میں ترقیاتی کام کرنے ہونگے۔"انہوں نے کہا "ہم نے جموں میں زمین پر کچھ نہیں دیکھا۔ میں لوگوں سے ملنے کے لئے اندرونی گلیوں اور سڑکوں کا دورہ کرلیا۔ سڑکوں کی بدترین حالت ہے۔ صنعتیں بند ہوگئیں۔ پورے جموں و کشمیر میں ایک ہی حالت ہے۔ ترقی صرف کاغذات پر ہے ، نہ کہ زمین پر "۔آزاد نے جموں میں سینک فارمز میں منعقدہ گروپ 23 کانگریس قائدین کی تقریب ، جسمیں جے کے پی سی سی چیف جی اے میراور رمن بھلہ کی عدموجودگی کے بعد سے پردیش کانگریس کمیٹی میں گروہ بندی کے بارے میں قیاس آرائیاں پیدا کردی ہیں،سے متعلق پوچھے جانے پر بتایا’’میں ڈیڑھ سال بعد واپس آیا ہوں۔ لوگوں کا یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا کہ کسی تقریب کا اہتمام کیا جائے۔ کل کی تقریب محض 10فیصد تھی ، اور 90 فیصد تقریبات ابھی باقی ہیں ‘‘۔ریاست کو یوٹی میں تنزلی کرنے پر احساسات کا اظہار کرتے ہوئے آزاد نے ردعمل کا اظہار کیا کہ "ایسا احساس ہے جیسے پولیس کے ایک ڈائریکٹر (ڈی جی پی) کوکانسٹیبل بنایاگیا ہے"۔اس موقع پر آزاد نے ایک ہال کا افتتاح کیا جس کا نام پہلے گجر صحافی اور مصلح چودھری سروری کسانہ (چودھری فتح علی کسانہ )کے نام سے رکھاگیا ہے۔ ٹرسٹ کے چیئرمین عبدالحمید چودھری نے سرپرست اعلیٰ مسعود چودھری کی طرف سے غلام نبی آزاد کو ’’ شاہانِ گجر ‘‘ ایوارڈ بھی پیش کیا۔ یہ ایوارڈ مسعود چودھری نے آزاد کو دینا تھا ، لیکن وہ بیمار تھے جس کی وجہ سے حمیدچوہدری نے یہ ایوارڈ پیش کیا۔
 

تازہ ترین