تازہ ترین

صحت سکیم کے تحت22 لاکھ گولڈن کارڈجاری | ابتک 22 ہزار نے مفت علاج کا فائدہ اُٹھایا

تاریخ    1 مارچ 2021 (01 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں//جموں وکشمیریوٹی میں صحت نگہداشت کی خدمات کی ترقی کے لئے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا( اے بی ۔پی ایم جے آر آئی ) ایس ای ایچ اے ٹی سکیم کے تحت پہلے دو مہینوں میں زائد از 22ہزار اہل مستحقین کو مفت اور بغیر نقدی علاج مہیا کیا گیا ہے۔اِس سکیم کووزیر اعظم نے 26 ؍دسمبر 2020ء کو شروع کی تھی اور اس کا مقصد یونیورسل ہیلتھ اِنشورنس کوریج کو اِجتماعی طور پر ہر گھر کو 5 لاکھ روپے مرکزی حکومت کی آیوشمان بھارت پردھان منتری جن ن آروگیہ یوجنا (اے بی ۔ پی ایم جے اے ای) کے ساتھ فراہم کرنا ہے۔ سکیم شروع ہونے بعد سے جموں و کشمیر کے زائد اَز 30 لاکھ باشندوں نے پہلے ہی اس سکیم کے تحت اندراج کیا ہے جس میں تقریبا ً  56 فیصد کنبے شامل ہیں ۔ اس سکیم کے تحت اِبتدائی دو ماہ میں ، اے بی  پی ایم جے اے وائی کے تحت پہلے ہی جاری کردہ 13.28 لاکھ گولڈن کارڈوں کے علاوہ اہل مستحقین کو اے بی  پی ایم جے اے وائی کے تحت 22.05 لاکھ گولڈن کارڈوں کو جاری کردیئے گئے ہیں۔ اس طرح 70 فیصد اہل کنبے رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم اَتل ڈولو نے سکیم کے فوائد کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کے شروع  ہونے کے بعد سے ہی زائد اَز450 مریضوں نے اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی سکیم کے پورٹیبلٹی فیچر کا استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر سے باہر کے معروف ہسپتالوں میں فوائد حاصل کئے ہیں۔ اَنکیتا بارہمولہ کے ایک دور دراز گاؤں سے تعلق رکھنے والی 67 سال کی عمر کو کینسر کے علاج کے لئے جموں کے نجی نامزد ہسپتال سے امریکن آنکولوجی سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کواے بی  پی ایم جے اے وائی  ایس ای ایچ اے ٹی کے تحت مفت اور بغیر نقدی علاج فراہم کیا گیا تھا۔ ایک اور مریضہ نیلم کا خیبر میڈیکل اِنسٹی ٹیوٹ سری نگر میں علاج کیا گیا تھا اور اس کا دل کے عارضے کے علاج کے لئے تین لاکھ روپے کی سہولیت  مفت علاج فراہم کر کے  آپریشن کیا گیا تھا ۔ ایک اور مریض راشد سری نگر سے تعلق رکھنے والا 67 سال کا ہے ، جس کی موت آل اِنڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، نئی دہلی سے کرونری آرٹری بائی پاس گرافٹنگ سے ہوئی۔اس سکیم میں جموں و کشمیر کے تمام باشندوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں حکومت جموں و کشمیر کے ملازمین / پنشنروں اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔اس میں ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے 3 دن اورہسپتال میں 15 دن کے بعد کے اخراجات جیسے تشخیصی اَدویات شامل ہیں۔ خاندانی سائز ، عمر اور جنس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔