۔62000عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کی سرکاری پالیسی گُم | 4برس گذر گئے عملدر آمد نہ ہوسکا، تنخواہوںکے سکیل پر بھی عمل نہیں کیا گیا

تاریخ    1 مارچ 2021 (01 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//سابق مخلوط سرکار کی عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کی پالیسی سیول سیکریٹریٹ کے کمروں میں کہیں کھو گئی ہے جو پچھلے 4سال سے کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔اس صورتحال سے60ہزار سے زائد عارضی ملازمین اور کیجول لیبروں کو خدشات لاحق ہو رہے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ پی ڈی پی اور بھاجپا کی مخلوط سرکار کی طرف سے سال 2017 میں تشہیر کے ساتھ جموں کشمیر کے مختلف سرکاری محکوں میں کام کر رہے سینکڑوں نیڈ بیس اور کیجول لیبروں کو مستقل کرنے کے اعلان کے3سال بعد ان عارضی ملازمین کو اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔سابق حکومت نے اس حوالے سے ایک پالیسی بھی مرتب کی تھی،جو حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی سرد خانے کی نذر ہوگئی ہے۔ مختلف محکموں میں  20برسوں کے دوران کام کرنے والے  62ہزار کے قریب عارضی ملازمین کو مستقل کرنے اور انکی تنخواہ سکیل بھی مرتب کی گئی تھی لیکن اسکے بعد یہ پالیسی کہیں نظر نہیں آئی۔سابق حکومت کی جانب سے ایس آر او520 میںکہا گیا تھا کہ ہنر مند کیجول،سیزنل و دیگر ورکروں جو 10سے15برس تک مصروف عمل رہے ہو کو13ہزار ماہانہ جبکہ 15برس سے20برس تک18ہزار ماہانہ اور 20برس سے زائد کو24ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ فراہم کیا جائے گا۔اس ایس او کے مطابق 10برس سے15برس تک کے کامگاروں کو10ہزار جبکہ 15برس سے20برس تک کے زمرے میں15 ہزار اور 20برس سے زائد کے زمرے میں20ہزار ماہانہ مشاہرہ مقرر کیا گیا تھا۔ دس سال تک کے کامگار ڈیلی ویجروں کیلئے6750 روپے ماہانہ مشاہرہ مقرر کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ5برسوں کے دوران صرف578عارضی ملازمین کو مستقل کیا گیا،جبکہ2ہزار ملازمین کی اسناد محکمہ فائنانس کی  بااختیار کمیٹی کے دفتر میں زیر التواء ہے۔ محکمہ پی ایچ ای (جل سکتی)کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قریب6ہزار500کیس اس وقت انتظامی محکمہ میں التوا میں ہے،اور ان میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی سطح پر10ہزار سے زائد کیس متعلقہ کمیٹی کے پاس زیر غورہیں،جبکہ محکمانہ سطح پر 50ہزار کے قریب معاملات بھی التوا میں پڑے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فائنانس کمیٹی کے پاس محکمہ سیاحت کے350،محکمہ زراعت کے450،محکمہ جنگلات کے150،اعلیٰ تعلیم  کے670،محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے800اور محکمہ تعمیرات عامہ کے150معاملات کی جانچ ہورہی ہے۔کیجول و ڈیلی ویجرس فورم کے صد ر سجاد پرے نے بتایا’’ گزشتہ2برسوں سے ان معاملات کی فائلیں سیکریٹریٹ اور دیگر محکموں میں دھول چاٹ رہی ہیں،اور ان پر کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جارہا ہے‘‘۔انہوں نے حکومت پر دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ان کی مستقلی کیلئے کوئی بھی پالیسی نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کے عمل کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے،جس کے نتیجے میں ہزاروں عارضی ملازمین ذہنی تنائو میں مبتلا ہوچکے ہیں۔پی ایچ ای جوائنٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن کے صدر سجاد احمد کا کہنا  ہے ’’ مستقلی تو دور ،اب محکمہ کو ہی ختم کیا جا رہا ہے اور بلدیاتی ادارے کے ماتحت حسب ضرورت عارضی ملازمین  کئے جارہے ہیںجبکہ دیگر کیجول ملازمین کا مستقبل مخدوش ہونے کے خدشات ہیں‘‘۔محکمہ بجلی میں قریب2 سال قبل2600ملازمین کو محکمانہ ترقیاتی کمیٹی نے ایس آر او381کے تحت مستقلی کرنے کی ہری جھنڈی دکھائی تھی تاہم ابھی تک انہیں مستقل نہیں کیا گیا ہے۔محکمہ میں قریب12ہزار مستقل و عارضی ڈیلی ویجر ہیں،جن میں سے قریب9ہزار ملازمین کے کیس التوا میں پڑے ہیں۔
 

تازہ ترین