منشیات کی عفریت اور کشمیر

حسب حال

تاریخ    1 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


سبزار احمد بٹ
دنیا کے تقریباً تمام مذاہب نے نشیلی ادویات کے استعمال اور کاروبار کی ممانعت کی ہے۔ اسلام نے تو ہر نشہ دلانے والی شئے کو حرام قرار دیا  ہے۔ اسلام ہر مسلمان کو پاکباز، راست باز، با حیا اور نیک اور صالح دیکھنا چاہتا ہے جبکہ شراب یا کوئی بھی نشیلی شئے انسان کے ہوش اڑا دیتی ہے اور انسان حواس باختہ ہو کر مختلف قسم کی غلطیوں کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں نشیلی ادوایات انسان کو بے حیا، بزدل ،بے عقل اور رزیل بنا دیتی ہیں ۔نشیلی ادوایات میں سب سے مشہور نام شراب کا ہے جسے عربی میں خمر کہتے ہیں جس کے معنی ہیں ڈھانپنا یعنی پردہ ڈالنا۔شراب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان کے حوش و حواس رخصت ہو جاتے ہیں اور انسان اپنی انسانی خصلت کے دائرے سے نکل کر وحشی بن جاتاہے۔ ایسے میں انسان سچ اور جھوٹ، حق اور باطل یہاں تک کہ رشتوں کی پہچان کھو دیتا ہے۔
 اسلام نے شراب پینے اور پلانے والے کے ساتھ ساتھ شراب سے منسلک دس لوگوں پر لعنت کی ہے چاہیے وہ کسی بھی طرح سے اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہوں یا کسی بھی طرح سے اس کاروبار کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہے ہوں۔ اس کا کاروبار کرنے والوں کی کمائی بھی حرام ہے ۔سائنس کی مانیں تو شراب بہت بری اور خطرناک شئے ہے۔ اس سے انسان کے گردے اور پھیپھڑے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انسان بزدل بن جاتا ہے ۔کوئی انسان چاہیے کسی بھی مذہب کو ماننے والا ہو، شراب اور باقی نشیلی ادویات سے دور رہنے میں ہی اس کی عافیت اور بھلائی ہے۔ کوئی بھی نشیلی شئے کسی بھی مرض کی دوا نہیں ہے بلکہ نشیلی ادویات صرف نقصانات ہی نقصانات کی حامل ہیں ۔لہٰذا جو لوگ نشیلی ادویات کا استعمال بطور دوا لینے کا جواز پیش کرتے ہیں، ان کا یہ دعوای بالکل فضول اور بے بنیاد ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں؛’’اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور پانسے(ہار جیت کے تیر) ناپاک ہی ہیں،شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پائو، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے،شراب اور جوئے میں اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔‘‘(سورۃ مائدہ۔آیت90)
حدیث شریف میں فرمایا گیا''ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے وہ حرام ہے''۔ایک اور حدیث میں حضور ؐنے فرمایا کہ جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے۔مذکورہ آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شراب مکمل طور پر حرام ہے۔ اس لیے پوری دنیا خصوصاً مسلمان نوجوانوں کو شراب سے پرہیز کرناچاہئے تھا لیکن بے حد افسوس کی بات ہے کہ آئے دن وادی کشمیر کے کسی نہ کسی خطے سے شراب اور باقی نشیلی ادویات کے استعمال کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں ایسی ہی ایک افسوسناک خبر ایک جنوبی ضلع سے موصول ہوئی جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ایسی جگہ کا پتہ چلا ہے جہاں نوجوانوں کے مختلف نشیلی ادویات کے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔سوشل میڈیا پر لوگ رو رو کر انتظامیہ اور علمائے وقت سے گزارش کر رہے تھے کہ اس وبا پر قابو پائی جائے ۔یہ صرف اُس مخصوص ضلع کی بات نہیںہے بلکہ ہر ضلع کی تقریباً ایسی ہی تصویر ہے۔ یہ وہی کشمیر ہے جسے کبھی پِر واراور کبھی اولیاوں کی سر زمین ہونے کا شرف حاصل تھا اور جہاں کسی نشہ آور چیز کا نام لینا بھی گناہِ کبیرہ مانا جاتا تھا لیکن اب آئے دن وادی کشمیر سے ایسے معاملات سامنے آ رہے ہیں کہ وادی کا ہر ذی شعور شخص اسی سوچ میں گم ہے کہ آخر ہماری نوجوان نسل کو کیا ہو گیا ہے۔ اقبال کے اس شاہین کو کس کی نظر لگ گئی کہ وہ ان نشیلی ادویات کا عادی ہوتا جا رہا ہے ۔ 
اس وبا سے سماج میں جرائم کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ منشیات میں ملوث نوجوان یہ نشیلی ادویات حاصل کرنے کے لیے چوری کے علاوہ بہت سارے جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔اس طرح سے ایک اچھا خاصا معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں پھر رہنا تو کیا سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔
 اس لئے جموں و کشمیر کے عوام سے خاص کر نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ خدا کے لئے اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت برباد نہ کریں۔ اپنے آپ کو سماج کا بدنما داغ نہیں بلکہ مشعلِ راہ بنانے کی کوشش کریں ۔نوجوانوں پر قوم کابیڑا پار لگانے کی ذمہ داری ہے، اس لیے وہ اس بدعت سے دور رہیں اور باقی نوجوانوں کو بھی اس خباثت سے دور رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری نئی پود بھی اس لعنت سے دور رہے ۔والدین سے بھی استدعا ہے کہ اپنے بچوں کو اس دلدل سے بچائیں اور والدین ہونے کا حق ادا کریں ۔اپنے بچوں کی سنگت اور ان کے چال چلن پر نظر رکھیں ۔خدانخواستہ ایسی کوئی بھی شکایت ہو تو ایسے افراد کو ہسپتال پہنچانے میں دیر نہ کریں یا ایسے کسی سینٹر پر لے جائیں جہاں نشہ چھڑانے کی مختلف ترکیبیں سکھائی جاتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں ایسے بہت سے مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر نشیلی ادویات کا استعمال کرنے والے لوگوں کو نشہ چھڑانے میں مدد کی جاتی ہے ۔ایسے لوگ رحم کے قابل ہیں جو اس مصیبت میں پڑ گئے ہوں نشہ چھڑانے میں ان کی مدد کر لینی چاہیے۔
پتہ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر
�������������
 

تازہ ترین