خودکشی … اسباب و سدباب

اصلاح معاشرہ

تاریخ    1 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


عبید احمد آخون
اسلام نے موت کی دعا کرنے کی ممانعت کی ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مصائب و مشکلات اور بیماری وغیرہ سے دوچار ہونے کے بعد انسان کو خودکشی کی اجازت دے دے۔ اگر کوئی شخص خودکْشی کرتاہے تو وہ فعل حرام کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی سزا بڑی سخت ہوگی۔ آپ ؐ نے فرمایا ( کبیرہ گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی نفس کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔)
 خودکشی کا اقدام مشکلات سے فرار کا راستہ ہے۔ یہ دنیادارالامتحان ہے۔ ہر وقت اور ہر منزل پرآدمی کا  واسطہ نئے نئے مسائل سے پڑتا ہے اور وہی شخص اس میں کامیاب ہے جو ہر طرح کی پریشانیوں کا جم کر مقابلہ کرے اور زندگی کی آخری منزل تک پہنچ جائے۔ جو شخص شدائد ومشکلات میں صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے اور جلد بازی و بے صبری میں متاع حیات ہی کو ختم کردے، وہ موت بعد جو اس کی دوسری زندگی شروع ہونے والی تھی، کو اپنے ہی کرتوتوں سے درہم برہم کردے گا۔ اس دوسری زندگی میں بھی وہی شخص کامران ہوگا اوراس کا لطف اٹھائے گا جس نے اس دنیا میں نازک ترین لمحات میں بھی خدا کا بندہ ہونے کا ثبوت دیا اور زندگی کے آخری سانس تک وہ اس پر قائم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس دنیا کو آنے والی دوسری دنیا کا ضمیمہ قرار دیا ہے۔ یہاں جو عمل اچھا یا برا کیاجائے گا اس کا بدلہ اسے دوسری زندگی میں مل کر رہے گا۔ خودکشی بھی ایک غلط اورناپسندیدہ عمل ہے۔ جس سے آدمی کی آخرت خراب ہوگی۔
فقہ اسلامی میں یہ اصول موجود ہے کہ مشقت اپنے ساتھ سہولت لاتی ہے۔ اسی لئے فقہا نے لکھا ہے؛’’اس دنیا میں انسان کی ساری حالتیں مشقت کی ہیں، حتیٰ کہ کھانا پینا اور دوسرے تمام کام مشقت سے خالی نہیں ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی قدرت وطاقت دی ہے کہ وہ ان مشقتوں پر حاوی ہے نہ یہ کہ مشقتیں انسان پرحاوی ہیں‘‘۔
خودکْشی کرنے والے کے ساتھ نہ صرف خدا کا معاملہ دردناک ہوگا بلکہ دنیا میں بھی ایسے لوگوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور اس کے برے نتائج سے اس کے گھروالے اور عزیز واقارب دوچار ہوتے ہیں اور ان کے گھر والوں کے ساتھ طعن و تشنیع کا معاملہ کرتے ہیں اور سماج ومعاشرہ کی ہمدردی سے بھی وہ محروم ہوجاتا ہے۔ خودکشی کرنے والا تو چلا گیا مگر اس کے اس غلط عمل سے ان کے احباب کو کتنا نقصان پہنچتا ہے اس کا اندازہ اگراسے ہوجائے تو کوئی شخص اس فعل حرام کا مرتکب نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ ؐکو ایک مسلمان کے خودکشی کرنے کی خبر ملی تو آپ ؐبرہم ہوگئے اور فرمایا کہ میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔
آپ ؐ نے فرمایا  ’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے‘‘۔حکم نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ آپ ؐ نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
شریعت کے اصولوں کو اگر انسان نے اپنے ذہن میں جگہ دے دی تو وہ زندگی بھر کے مشکلات ومصائب اور تکالیف کو بآسانی جھیل سکتا ہے اور اس طرح نہ خودکْشی کا فعل انجام پاسکتا ہے اور نہ ہی لاعلاج اور شدید تکلیف میں مبتلا مریض اپنے لیے موت کو دعوت دے سکتا ہے۔حیرانی ہے کہ اسلام میں خودکْشی کے بارے میں اتنی واضح تصریحات کے باوجود آج ہمارے معاشرے میں یہ بہت عام ہوگئی ہے۔معاشرے میں مسائل اور پریشانیاں ضرور بڑھ گئی ہیں لیکن ایک مسلمان کو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ہمت و حوصلے سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے نہ کہ ہمت ہار کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے اور پس ماندگان کو مزید پریشانیوں کا شکار بنادے۔ 
خودکشی کے چند اسباب
خودکشی کے اسباب کا حساب لگانا آسان نہیں کیونکہ انسانی سوچ ہر فرد کی جداگانہ ہوتی ہے پر ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں آئے دن خودکشی کی خبریں جو ہم سنتے ہے اور اِن خودکشیوں کے وجوہات کو اگر ہم اسباب مان کر چلیں تو کچھ وجوہات یوں ہوسکتی ہیں؛
والدین کی ازدواجی زندگیوں میں تنائو کا اثر بچوں کے ذہن پر پڑتا ہے جو آگے بڑھ کر خودکشی کا سبب بھی بنتا ہے۔ والدین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچے کی نشوونما میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے ذاتی تنازعات خوش اسلوبی سے حل کریں۔
غمِ روزگار؛۔ پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری نوکریوں کی آس میں اور اچھے پوسٹ کی تمنا دل میں لیے ہوئے جب سلاسل ناکام ہوتے ہیں تو زندگی کو الوداع کرنے سے بھی گْریز نہیں کرتے۔کوئی کام چھوٹا بڑ انہیں ہوتا ۔نوجوانوں کو چاہیے کہ سرکاری نوکریوں کو حاصل کرنے کی چاہ میں اپنے وقت کا زیاں نہ کریں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے مواقع تلاش کریں یا خود کا کوئی چھوٹا موٹا بزنس شروع کریں۔ اس سلسلے میں بہت ساری سرکاری سکیموں سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔
 کاہلی؛۔ سماج میں بہت سارے ایسے فرد بھی موجود ہیںجو بنا کام من وسلوا کی چاہت رکھتے ہیں۔ محنت کئے بغیر سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جب انہیں ایس زندگی نہیں ملتی تو ذہنی مرض کا شکار ہوکر خود کشی بھی کرتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں میں کام کرنے کا جذبہ بچپن سے ہی پیدا کریں نہ کہ انہیں اتنا لاڈ پیار دیں کہ وہ لاگر بن جائیں اور سماج پر بھی بوجھ بن جائیں۔
 تعلیمی کونسلنگ کی کمی ؛۔کچھ بچے دسویں جماعت کے بعد subjects اور stream کا انتخاب کرتے وقت جلد بازی کرتے ہیں اور جب آگے جا کر اْن streams میں اْنہیں کامیابی نہیں ملتی یا دلچسپی نہیں رہتی تو ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوکر خودکش کو ہی اپنا سبجیکٹ بناتے ہیں۔ کشمیر میں کونسلنگ کی بہت زیادہ کمی ہے۔ طالب ِ علم کون سے مضامین وقت کی ضرورت کے حساب سے Choose کرے، اس پر نہ تو والدین سوچتے ہیںاور نہcouncelors   subject سے مشورہ لیتے ہیں۔ بس دیکھا دیکھی میں وہی subjects بچوں پر تھوپتے ہیں جسے وہ اپنے خاندان میں اور قریبی رفقاء میں اپنی جھوٹی انا قائم رکھ سکیں اور کچھ معاملوں میں بچے ہی غلط فیصلے لینے پر والدین کو مجبور کرتے ہیں۔ایک اچھا subject کونسلر ہی دونوں معاملوںمیں رہنمائی کرسکتا ہے۔
منشیات :۔منشیات کی لت میں آج کشمیر سر فہرست ہے ۔تمباکو نوشی، شراب نوشی، و دیگر نشوں میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اپنی زندگیوں کا خاتمہ خود کشی کر کے مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکر انجام دیتی ہے. والدین پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں پر توجہ مرکوز رکھیںاور انکی خبر رکھیں۔
 معاشرے میں اگر اسلامی تعلیمات عام ہوں تو خودکشی کے رجحان کو کم کیا جاسکتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ انتشار کا شکار ہے اور ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے جس کی وجہ سے پریشان حال لوگ مایوس ہوکر خودکْشی جیسے گناہ کا ارتکاب کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اللہ کی رحمت سے بالکل مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ خدارا اب مہنگائی، بے روزگاری اور افرا تفری کا خاتمہ کریں تاکہ لوگ اپنی قیمتی جانوں کو خودکشی کرکے ضایع نہ کریں۔
پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
فون نمبر۔ 9205000010
ای میل۔akhoon.aubaid@gmail.com
�������
 

تازہ ترین