بیٹی کی پیدائش پر عورت ہی قصور وار کیوں؟ | جنین کی جنس مرد کا کروموزوم طے کرتا ہے ،عورت کا نہیں

سائنس وٹیکنالوجی

تاریخ    1 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


بلال احمد پرے
دنیا کے رسم و رواج بھی بڑے عجیب ہوتے ہیںجہاں فطری اصولوں کے بجائے غیرفطری رسموں کو اہمیت اور فوقیت دی جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے سماج میں آئے روز دیکھنے کو ملتا ہے کہ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیع دی جا رہی ہیں۔ لڑکی کی پیدائش کو نہ صرف جاہلانہ عرب میں بلکہ آج کل کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ان کے ساتھ یہ غیر منصفانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟
بچے کی پیدائش کے فوراً بعد سے یہی معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ 'کیا آیا لڑکا ہوا ہے یا لڑکی ہوئی ہے؟ '۔ مبارک باد پیش کرنے والے بھی لڑکی کی پیدائش پر ہمت و حوصلہ دیتے رہتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لڑکی کی پیدائش کو آج بھی سماج کھلے دل سے قبول نہیں کرتا ہے۔ اس کے برعکس اس سے ایک بوجھ سمجھا جاتا تے ہے۔ اِن کی پیدائش کے وقت باپ کے ساتھ دیگر رشتہ داروں کو نہ صرف چہرے پر ناراضگی چھا جاتی ہے بلکہ بیٹی کی جنم دینی والی ماں کو بھی نفرت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے جب کہ لڑکے کی پیدائش پر اس کے مترادف کھل کر اظہارِ مسرت کیا جاتا ہے اور ڈھیر ساری مٹھائیوں کے ساتھ ساتھ ایک موٹی رقم بھی ہسپتال عملہ میں بطور چائے کے تقسیم کی جاتی ہے۔
بعض اوقات پے در پے لڑکیوں کو جنم دینے پر بنت ِ حوا کو طلاق جیسی انتہائی ظلم و ستم کی تلوار پر سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس سے جسمانی ایزا رسانی پہنچانے کے ساتھ ساتھ ذہنی مرض میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ذرا سوچو تو صحیح ! کیا بیٹی کی پیدائش ہونے پر سزا کی مستحق صرف ایک عورت ہے؟ کیا مرد اس کا ذمہ دار نہیں ہے ؟ آخر یہ مصیبت عورت اکیلی کیوں جھیل رہی ہے ؟ 
بعض سماجی حلقوں میں لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم تر حیثیت دی جاتی ہے۔پڑھے لکھے سبھی یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں پیدا ہونے کا سبب صرف ایک عورت ہے۔ اسی بناء پر بعض اوقات ایک مرد کو اس طرح کا مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر اپنی نسل آگے چلانی ہے تو دوسری شادی کرلینی چاہئے تاکہ لڑکا پیدا ہو سکے۔اس پر بنت حوا کو طعنے دئے جاتے ہیں۔ اْسکا سسرال میں جینا محال کیا جاتا ہے۔ طرح طرح کی ذہنی تکالیف دے کر خودکشی جیسے سنگین اقدام اٹھانے تک پہنچایا جاتا ہے۔
اللہ رب العالمین نے ہر جاندار جسم کے اندر اپنی نسل بڑھانے کے لئے نظامِ نسل کشی ( System  Reproduction) کا تعین ابتداء  سے ہی رکھا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں صراحت سے آیا ہے کہ کسی کے لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور منشاء الٰہی پر منحصر ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ' وہ جس سے چاہتا ہے صرف بیٹیاں دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے محض بیٹا عطا کرتا ہے یا دونوں عنایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے '۔ (الشوری۔ 49 - 50)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان لانے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں سے متعلق سوال پوچھے تھے۔جن میں قیامت کی پہلی علامت اور جنتیوں کو پہلا کھانا دو سوالات تھے اور تیسرا سوال یہی تھا کہ " کیا بات ہے کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر" ؟ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب عورت کے پانی پر مرد کا پانی غالب آجائے اور جب مرد کے پانی پر عورت کا پانی غالب آجائے تو بچہ ماں پر جاتا ہے۔ " (صحیح البخاری، 4/ 132رقم 3329 )
آج کل جہاں سائنس نے کافی ترقی کی ہے، وہیں اس ضمن میں سائنس نے حیران کن انکشافات کر کے مرد کو باعث ِ حیرت میں ڈال دیا ہے اور عورت کے حق میں مضبوط دلائل دے کر دفاع کیا ہے۔سائنسی تحقیق کے مطابق لڑکا یا لڑکی پیدا ہونے میں اصل کردار عورت کا نہیں، بلکہ مرد کا ہوتا ہے۔ جب کہ سماج میں الٹا عورت کو ہی اس کردار کے لئے ذمہ دار ٹھہرا کر کوسا جاتا ہے۔ اس طرح کے مشاہدات 1905 میں جنسی کروموزوم کے مشہور ماہر Sterens  Nettie نے ثابت کر کے دئے ہیں۔ 
سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں لاتعداد خلیّات پائے جاتے ہیں جو مختلف اقسام میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انسانی جسم کے تولیدی خلیّات (cells  Reproductive ) میں ایک جوہر ایسا پایا جاتا ہے، جسے کروموزوم (Chromosome) کہتے ہیں۔ ان میں تمام موروثی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ حتی کہ اِنہی کے ذریعے جلد کے رنگ، بالوں و آنکھوں کے رنگ اور مرد و عورت جیسے جنس کے علاوہ خسی (Gender  Third ) کا تعین بھی ہوتا ہے ۔
تولیدی خلیہ میں عام طور پر کل ملا کر 23 کروموزوم کے جوڑے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے 22 جوڑے کو Autosomes کہتے ہے اور تئیسواں جوڑا جنس (Sex) کی تعین کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ اس سے جنسی کروموزوم (Chromosome  Sex ) کہتے ہیں۔ جنسی کروموزوم کے جوڑے کے اندر دو طرح کے کروموزوم پائے جاتے ہیں جس میں ایک کو " X‘‘ اور دوسرے کو " Y " کروموزوم کہتے ہیں۔ عورت کے بیضہ (Ovum) میں جنسی کروموزوم کے جوڑے کے اندر دونوں کروموزوم " X " نوعیت کے ہوتے ہیں ، جس کی بِنا پر انھیں ہم مادہ (Homogametic) کہتے ہیں ، جب کہ مرد کے نطفہ (Sperm) میں دو الگ الگ نوعیت کے X اور Y کروموزوم پائے جاتے ہیں اور انھیں مختلف مادہ (Hetrogametic) کہتے ہیں۔
استقرارِ حمل (Fertilization) کی عمل آوری کے دوران عورت کے بیضہ میں سے ہر وقت XX میں سے صرف ایک ہی کروموزوم X"‘‘ نکلتا ہے۔ جب کہ مرد کے نطفے میں سے " X یا Y " کروموزوم نکلتا ہے اور دونوں کے آپسی میل جول سے استقرار کا عمل ( Process  Fertilization) انجام پاتا ہے۔ 
جس وقت استقرارِ حمل کے دوران عورت کے X کروموزوم سے مرد کا X کروموزوم ملتا ہے تو اس صورت میں XX کروموزوم بن جاتا ہے جس پر لڑکی پیدا ہوتی ہے اور اگر اس سے مرد کا Y کروموزوم ملتا ہے تو اس صورت میں XY کروموزوم بن کر لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اب عورت کے X کروموزوم سے مرد کے " X اور Y " میں سے کون سا کروموزوم ملے، اس میں انسانی کوشش کا کچھ بھی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔یہاں جنس کا انتخاب اپنی پسند پر (Choice   By ) نہیں ہوتا بلکہ یہ محض تقدیرِ الٰہی اور قادرِ مطلق رب العالمین پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر مرد کے جسم میں یہ کروموزوم کسی وجہ سے عورت کے کروموزوم سے نہ مل پائیں تو لڑکے کی پیدائش کسی طرح ممکن نہیں ہے چہ جائیکہ اس مرد کی کتنی ہی شادیاں کیوں نہ کروا دی جائیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو کروموزوم جنین کی جنس متعین کرتا ہے اور جس سے طے ہوتا ہے کہ آئندہ پیدا ہونے والا بچہ بیٹا ہے یا بیٹی، وہ عورت سے نہیں بلکہ مرد سے حاصل ہوتا ہے۔ہاں قارئین کرام یاد رکھئے یہ مرد سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ نظامِ قدرت میں بیٹا یا بیٹی کی تخلیق میں مرد اہمیت رکھتا ہے نہ کہ عورت۔
قرآنِ کریم نے اس سلسلے میں جو رہ نمائی کی ہے اس سے مذکورہ بالا سائنسی بیان کی تصدیق بھی واضح ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں۔‘‘  (البقرہ۔223 )
دیکھا جائے تو کھیتی میں جو بیج ڈالا جائے ،وہ اْسے پروان چڑھائے اور اس کی اچھی پیداوار کرے۔ اگر کسی کھیت میں شالی کے بیج ڈالے جائیں گے تو اس سے شالی ہی پیدا ہوگی نہ کہ مکئی۔ یہ ناممکن ہے کہ بیج تو شالی یا سرسوں کا ڈالا جائے اور امید مکئی یا گندم کے اُگنے کی رکھی جائے۔ اس میں کسی بھی طرح کھیت کو قصور وار ٹھہرانا دانائی نہیں بلکہ جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ 
لہٰذا اسلام اور سائنس کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ بنت حوا کو کسی بھی طرح سے بیٹی کی پیدائش پہ قصور وار نہ ٹھہرایا جائے۔ مردوں کو چاہئے کہ یہ اکڑ پن ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیں اور اس طرح کے جاہلانہ طرزِ عمل سے باز آنا چاہئے۔ صنف نازک پہ ظلم و ستم کے پہاڑ ڈالنا چھوڑ دے۔ ان سے تعظیم و تکریم سے پیش آیا کریں۔ لڑکی کی پیدائش میں عورت کا کوئی قصور نہیں، اگر قصور ہے تو وہ مرد کا ہے جس کو ہمیشہ X کروموزوم، Y کروموزوم پر فوقیت (Dominant) لیتا ہے۔ اس ضمن میں تمام پڑھی لکھی بیٹیوں کو اپنے سماج میں عوامی بیداری پھیلانی چاہئے۔ ایسی ظلم و ستم میں رہ رہی عورتوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے۔ تاکہ ایسی عورتوں کو ہمت و حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اسلامی و سائنسی معلومات سے آگاہی فراہم ہو سکے۔ انہیں معاشرے میں عزت سے جینے کا سلیقہ عطا کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ 
رابطہ۔ ہاری پاری گام ترال 
فون نمبر۔ 9858109109
 
 

تازہ ترین