امریکہ میں مودی کی مقبولیت کے ڈنکے

ندائے حق

تاریخ    1 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


اسد مرزا
ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی تعداد امریکہ میں تارکین وطن میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ گذرتے وقت کے سا تھ ہندوستانی۔ امریکی گروپ نے امریکہ میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں کافی اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی وہ امریکہ کی داخلی سیاست میں بھی کافی  سرگرم رول ادا کرتے ہیں۔ 
اس کے ساتھ ہی یہ گروپ جس کی موجودہ تعداد چالیس لاکھ سے زیادہ ہے، اپنے مادرِ وطن یعنی ہندوستان کی سیاست میں بھی کافی دلچسپی لیتا ہے۔ چنانچہ ہندوستانی-امریکی ہندوستان اور امریکہ کی مختلف پالیسیوں اور سیاسی منظر نامہ پر ہونے والی تبدیلیوں پر کیا رائے رکھتے ہیں، اور ان کے کیا خیالات اور کیا سوچ ہیں یہ ہندوستانی امریکہ دونوں ہی ملکوں کے پالیسی سازوں کے لیے جاننا ضروری ہوتا ہے۔  
کارنیگی انڈومنٹ کی جانب سے گزشتہ سال ایک سروے کرایا گیا تھا،جس کی تفصیلات حال ہی میں شائع کی گئی ہیں۔ اس سروے کا مقصد ہندوستانی-امریکی گروپ کا ہندوستان اور اس کے سیاسی رہنماؤں اور مختلف سیاسی و سماجی موضوعات پر ان کی رائے جاننا تھا۔اس سروے کا انعقاد جان ہاپکنس اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ڈائریکٹر آف ایشیا پروگرامز اور ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر دیویش کپور ؛ کارنیگی انڈومنٹ میں ساؤتھ ایشیا کے پروگرامز کے ڈائریکٹر ملن وائشنو اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں پی ایچ ڈی کی طالب علم سمترا بھدری ناتھ پر مشتمل ٹیم نے کیا تھا۔
سروے کے اقتباسات 
سروے میں 4 اہم  باتوں کا انکشاف ہوا۔ پہلی، مختلف سیاسی رہنماؤں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت سب سے زیادہ ہے۔ دوسرا، معمر ہندوستانی امریکیوں کا رجحان ،جن کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے،میں مودی کی مقبولیت زیادہ دیکھی گئی 55) فیصد ) لیکن 30 سے 49 سال عمر کے درمیان کے لوگوں میں مودی کی مقبولیت 53) فیصد) قدرے کم رہی۔ مردوں اور خواتین میں مودی کی مقبولیت تقریباً مساوی ہے 49) اور 50 فیصدبالترتیب ) ۔ تیسرے مودی کی مقبولیت غیرامریکی شہریوں ، غیرجانبدار شہریوں اور ان تارکین وطن میں بھی زیادہ ہے جنہوں نے ہندوستان کا دورہ کیا ہے۔ 53 فیصد غیر شہریوں اور 52 فیصد غیرجانبدار ہندوستانی امریکیوں نے مودی کو پسند کیا ہے۔ جب کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے شہریوں کی 44 فیصد تعداد مودی کو پسند کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طویل عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہندوستانی امریکیوں میںمودی کی مقبولیت کم ہے۔ 26 سال سے زیادہ عرصہ سے امریکہ میں مقیم شہریوں میں مودی کی مقبولیت 46 فیصد ہے۔ سروے کرنے والوں نے اس سوال کا انحصار مادری زبان پرمرکوز کیا۔ہندی یا مغربی ہندوستان کی زبانیں (مراٹھی اور گجراتی) بولنے والوں میں مودی کی مقبولیت بالترتیب 66 اور 65 فیصد ہے جب کہ مشرقی ہندوستان (آسامی ، بنگالی یا اریہ بولنے والے ) سے تعلق رکھنے والوں میں مودی کی مقبولیت 38 فیصد ہے۔ بنیادی طور پر انگریزی بولنے والوں میں مودی کی مقبولیت 34 فیصد درج کی گئی ہے۔ امریکہ میں قیام کے دورانیہ اور مودی کی مقبولیت کے درمیان تعلق میں بھی فرق ہے۔ حال ہی میں امریکہ منتقل ہونے والوں میں ہندوستان کی سیاست میں زیادہ دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ ساتھ ہی ایسے لوگ جو پہلے ہی امریکہ آچکے ہیں اور جن کا تعلق ہندوستان کے متوسط طبقہ سے ہے وہ کانگریس پارٹی کے زیراثر سیاست سے واقف ہیں جبکہ بی جے پی کے سیاسی اثر میں رہنے والے لوگ حال ہی میں امریکہ آئے ہیں۔ 
گروپ کی ذہنیت
خارجہ پالیسی کے محاذ پر ہندوستانی امریکیوں نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو سراہا ہے جب کہ چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے بارے میں ان کا جواب نفی میں سامنے آیا ہے۔تاہم چین سے نمٹنے میں دونوں ممالک کے طریقہ کار کے بارے میں لوگوں کی رائے الگ ہے۔ اس تعلق سے ہندوستانی امریکیوں کی رائے الگ اور منقسمہ ہیں۔ جواب دینے والے یہ بات یقین سے کہنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ہندوستان کی موجودہ خارجہ پالیسی صحیح راستہ پر گامزن ہے یاغلط راستے پر۔ ہندوستانی امریکی ہندوستان میں رشوت خوری کو بھی ایک بڑا مسئلہمانتے ہیں۔ وہ ہندوستان کی معیشت کو درپیش چیلنجس کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ہندوستانی امریکیوں میں بھارتیہ جنتاپارٹی سب سے مقبول سیاسی پارٹی ہے۔ سروے میں حصہ لینے والے ایک تہائی افرادنے بی جے پی کی تائید کی ہے جب کہ صرف 12 فیصد کانگریس پارٹی کے ساتھ ہے۔ ہندوستانی- امریکی مودی کے بارے میں کافی مثبت خیالات رکھتے ہیں۔ ان کی نصف تعداد وزیراعظم کی حیثیت سے مودی کے اقدامات کو پسند کرتی ہے۔مودی کو پسند کرنے والے زیادہ تر افراد امریکی ری پبلکنس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذہبی بنیاد پر وہ ہندو ہیں اور پیشے کی بنیاد پر وہ انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایسے افراد جن کی پیدائش امریکہ میں نہیں ہوئی ہے یا جن کا تعلق شمال مغربی ہندوستان سے ہے مودی کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ 
 مذہبی اقلیتوں کے لئے مساوی تحفظ ، امیگریشن اور سخت کارروائی جیسے اقدامات کے بارے میں ہندوستانی- امریکی افراد امریکہ کی پالیسیوں سے زیادہ ہندوستان کی پالیسیوں کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہندوستانی- امریکی ہندوستان کے بارے میں خبریں معلوم کرنے کے لئے آن لائن وسائل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اگرچہ ان کے خیال میں موجودہ نیوز چینلس قابل بھروسہ نہیں ہیں۔ ہندوستانی امریکیوں نے ہند-امریکہ تعلقات کی بھرپور تائید کی ہے۔ان کا ماننا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان جس درجہ کے تعلقات ہیں وہ تسلی بخش ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑی تعدادہندوستان کے چین کے ساتھ تعلقات کوبہتر بنانے کی کوششوں کی تائید نہیں کرتی ہے۔ چین کی جارحیت کے خلاف ہندوستانی فوج کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کی کوششوں کے بارے میں ہندوستانی امریکیوں کی رائے منقسم ہیں۔ سروے ٹیم کے مطابقہندوستان یاامریکہ میں مودی کے حامیوں کے درمیان ذہنی سطح پر کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اور وہ ان کے ہر کام کو پسند کرتے ہیں۔ 
ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مودی حامی افراد چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا امریکہ میں ان میں ذہنی سطح پر زیادہ فرق نہیں پایا جاتا ہے۔ وہ پورے طریقے سے نیز یہ بھی اور موجودہ حکومت بھی تمام پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں۔ اور مانتے ہیں کہ حکومت جو بھی اقدامات لے رہی ہے وہ موجودہ حالات سے مناسبت رکھتے ہیں اور وہ ملک یعنی ہندوستان اور ہندوؤں کو ترقی کی جانب لے جاسکتے ہیں۔رپورٹ میں مز ید کہا گیا ہے کہ گذشتہ 15- 20 برسوں کے دوران بی جے پی نے قومی سیاسی منظر پر ابھرنے کے لئے جو محنت کی ہے آج اسے اس کا پھل حاصل ہورہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے زیر قیادت اقتدار پر اس کی گرفت مزید مضبوط ہوئی ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں کوئی اور سیاست دان ان کی جگہ لے سکے گا۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)
ای میل۔asad.mirza.nd@gmail.com
 

تازہ ترین