تازہ ترین

اپنی پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں

شوپیان میں کنونشن منعقد

تاریخ    28 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


سرینگر//اپنی پارٹی نے ہفتہ کو شوپیان میں ایک روزہ کنونشن کا اہتمام کیا جس میں وچی اور شوپیان حلقوں سے پارٹی کارکنان اور مقامی لوگوں نے شرکت کی۔ کنونشن کا اہتمام ایڈوکیٹ گوہر حسین وانی نے کیاتھا جس میں پارٹی کے نائب صدر ظفر اقبال منہاس مہمان ِ خصوصی تھے۔ کنونشن میں ڈی ڈی سی چیئرپرسن شوپیان بلقیس، ڈی ڈی سی وائس چیئرپرسن عرفان منہاس، اطہر ریشی، ایڈوکیٹ تنویر اور یوتھ لیڈر عمر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ظفر اقبال منہاس نے کہاکہ وچی میں تعمیرو ترقی کا فقدان ہے جس نے امن وامان کے حوالے سے مایوسی کا لمبا دور دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا’’امن کسی بھی خطہ کی ترقی اور خوشحالی کیلئے لازمی شرط ہے، میں مانتا ہوں کہ وچی میں امن وامان کی صورتحال رہی اور کچھ حد تک خستہ حالی کے لئے مقام انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے جس نے اِس طرف کبھی توجہ نہ دی، تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنی پارٹی وچی کو اِس مایوسی سے باہر نکالنے کے لئے کام کرے گی تاکہ علاقہ کے مقامی لوگ بھی جموں وکشمیر کے دیگر خطوں کی طرح یکساں ترقی دیکھیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں کئی مقامی سیاسی جماعتوں نے بلند وبانگ دعوے اور وعدے کئے لیکن بدقسمتی سے انہیں کبھی بھی عملی جامہ نہیں پہنایاگیا۔ انہوں نے کہا’’ میری سابقہ حکمران جماعتوں جوکہ آج بھی جموں وکشمیر کے لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں،سے مودبانہ گذارش ہے کہ براہِ کرم ہمیں کوئی سیاسی پیکیج بتائیں جس کو 77سالہ دور ِ حکومت میں عملایاگیا ہو۔ اگر وہ اِس کا ثبوت دے دیتے ہیں تو پھر جو اُن سے اختلاف رکھتے ہیں وہ خاموش ہوجائیں گے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو پھر انہیں اپنے فرضی ایجنڈا اور ہوس ِ اقتدار کی خاطر سیاسی چالیں بند کردینی چاہئیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے یہ بات زیادہ دلچسپی کا باعث ہوتی کہ جب یورپی مندوبین کا حالیہ دورہ کشمیر تھا توعوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے چیئرپرسن اور کونسلروں نے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بارے میں کیا پیغام پہنچایا۔منہاس نے چٹکی لیتے ہوئے کہا’’ کیا اِنہوں نے یورپین وفد کے سامنے دفعہ370کی منسوخی سے متعلق اپنی ناراضگی ظاہر کی یا پھر انہوں نے اپنی پرانی پالیسی پر ہی عمل کیا، اور مجھے یقین ہے کہ دوسری بات ہی ہوئی ہے‘‘۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ مرکزی سرکار کو وسعت ِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستی درجہ کو بحال کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کے حقیقی جمہوری نمائندگان اقتدار میں آئیں۔انہوں نے ضلع انتظامیہ سے گذارش کی کہ اُن ٹھیکیداروں کی رقومات واگذار کی جائیں جنہوں نے منریگا اور بیک ٹو ولیج پروگرام کے تحت کام کئے ہیں اور ای ٹینڈرنگ سلیب کو الگ رکھاجائے۔