تازہ ترین

۔1000سے زائد بیروزگار ہارٹیکلچر گریجویٹوں کی کون سنے، کدھر جائیں ؟

۔ 14برس بعد بھی حکام اسامیاں مشتہرکرانے میں ناکام ،روزگار کے متلاشی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

تاریخ    28 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
 سرینگر //طالب علموں کا ہنر مزید نکھارنے کیلئے جموں وکشمیر حکام کے بلند باغ دعوئوں کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ14برسوں سے ہارٹیکلچر گریجویٹوں کیلئے کوئی بھی اسامی مشتہر نہیں کی گئی ہے اور قریب 1000 طلاب متعلقہ شعبے میں پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
حد تویہ ہے کہ اب اُمیدوار فورتھ کلاس ملازمت حاصل کرنے کی تگ و دود کررہے ہیں، لیکن انہیں وہ بھی میسر نہیں ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سرینگر و جموں کے علاوہ ملک کی دیگر زرعی یونیورسٹیوں سے برسوں پہلے ڈگریاں مکمل کر چکے ایک ہزار سے زائد طلاب کو جموں کشمیر کی انتظامیہ روزگار فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔۔ایسے طلاب احتجاج پر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ 2007سے اب تک ایس ایس آر بی اور دیگر متعلقہ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں نے ان کیلئے کوئی بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کی ہے جس کے نتیجے میں یہ نہ صرف زہنی تنائو کا شکار ہیں بلکہ کئی ایک اب نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ایسے طلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہارٹیکلچرمیں 2015میں ایک سال کی اضافی تربیت بھی لی لیکن اُس کا فائدہ بھی نہیں دیا گیا۔بیروزگار ہارٹیکلچر گریجویٹ یونین کے صدر وسیم یونس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس وقت بی ایس سی ہارٹیکلچر میں ڈگریاں مکمل کرنے والے طلاب کی تعداد 1000ہے، جبکہ 350نے ایم ایس سی ہارٹیکلچر کیا ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 100کے قریب پی ایچ ڈی ڈگریاں مکمل کر کے برسوں سے بیکار ہیں اور دانے دانے کے محتاج ہو چکے ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ قریب 700 سے زائد طلاب جموں وکشمیر کے کالجوں میں ابھی زیر تعلیم ہیں، جو ہارٹیکلچر میں ڈگریاں حاصل کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا’’جب ہمارا مستقبل مخدوش ہے تو ان کا کیا ہو گا‘‘ ۔کئی طلاب نے بتایا کہ انہوں نے سال 2014میں ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ لیکن گھروں میں بیکار بیٹھے ہیں۔طلاب کا کہنا ہے کہ ایس ایس آر بی نے یکم جنوری 2021کو ایک ٹوٹیفکیشن جاری کی ،جس میں انہوں نے صرف بنیادی ہارٹیکلچر ٹریننگ حاصل کرنے والوں کیلئے ہی 211اسامیاں مشتہر کیں لیکن اس نوٹیفکیشن کے مطابق وہ ان اسامیوں کے اہل نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے ہارٹیکلچر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ ہارٹیکلچر گریجویٹوں کا کہنا ہے کہ کئی اب نوکری حاصل کرنے کی عمر کی حد کو پہنچ رہے ہیں اور اگر فوری طور پر انہیں سرکاری نوکری فراہم نہیں ہوتی ہے تو وہ عمر کی حد پار کر جائیں گے اور انکی ساری امیدوں پر پانی پھر جائیگا۔انہوں نے کہا کہ متعدد بار معاملہ بھی حکام کی نوٹس میں لایا گیالیکن حکام اس جانب کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہی ہے ۔محکمہ کے پرنسپل سکریٹری نوین کمار چودھری نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایک درخواستیں گورنر تک پہنچی ہیں اور وہاں ان پر غور فکر ہونے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا جو آئندہ ایک یا دو ہفتے کے اندر متوقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا احتجاج سے فیصلے نہیں لئے جاتے ۔