باسی روٹی کا ٹکڑا

کہانی

تاریخ    28 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


نثار احمد
برسات کی ایک شام جب آندھی اور اندھیرا دونوں اپنے شباب پر تھے تومنشی جی کچھ سودا سلف لانے کے لئے دکان پر گیا۔دکان کے قریب پہنچتے ہی اس کی نظر آوارہ کتوں کے ایک غول پر پڑ گئی۔جو آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے۔منشی جی نے سوچا شاید  کچرا کھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لینا چاہتے ہیں،اس لئے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔منشی جی کچھ دیر تک ان کتوں کو دیکھتا رہا۔اچانک اسے ان کتوں کے ساتھ ایک انسان نظر آیا،جو خود کو ان کتوں سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ منشی جی دکان کے نزدیک پہنچا اور دکان کے باہر لگا بلب روشن کیا۔روشنی جب دور تک پھیل گئی،تو اسے وہ بوڑھا شخص اچھی طرح نظر آیا جو کچرے کے ڈھیر میں کچھ تلاش کررہا تھا۔منشی جی کے ذہن میں خیال آیا شاید کوئی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈتا ہے۔ نزدیک آکر منشی جی نے بوڑھے سے پوچھا:
"چاچا اس کچرے کے ڈھیر میں کیا ڈھونڈ رہے ہو۔بارش ہونے والی ہے بھیگ جائو گے اور یہاں آوارہ کتے بھی ہیں،کہیں یہ آپ کو کاٹ نہ لیں۔"
بوڑھا خاموشی سے منشی جی کو تکتا رہا۔بوڑھے کی خاموشی اور چہرے کی حالت غیر منشی جی کو اس کا پورا جائزہ لینے کا اشارہ کررہی تھی۔
بوڑھا باسی روٹی کا ٹکڑا آگے بڑھاتے ہوئے خاموشی توڑ کر منشی سے کہنے لگا:
" بھوک۔۔۔" وہ کچھ اور کہنا چاہتا تھا لیکن الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔زبان بھی لڑکھڑا رہی تھی۔
یہ دیکھ کر منشی جی کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی نکل پڑی ۔۔۔
���
نوگام سمبل سوناواری بانڈی پورہ ،موبائل نمبر؛ 7889617356
 

تازہ ترین