کفن پوش اندھیرا

کہانی

تاریخ    28 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل سالمؔ
اپنے دیوتائوں کی آوازوں کو زندہ رکھنے کے لئے انہوںنے تمام پرانی آوازوں کوسولی پر چڑھادیا۔ اب پرانی آوازوں کا نام ونشان بھی کہیں سے نہیں ملے گا کیونکہ آنے والا وقت نئی آوازوں کا ہوگا۔
’’اب دریچوں سے کوئی میٹھی آواز نہیں آئے گی‘‘
’’اب ہر طرف سے اُداسی،بے سکونی اور اضطراب کی آوازیں پھیل گئی ہیں۔نئی آواز کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت ٹوٹ گئی۔‘‘
’’اس نے کہا۔۔۔کیا آپ کو محسوس نہیں ہوتاہے کہ ہمیں اس آواز کے خلاق آواز اٹھانی چاہیے؟‘‘
’’میں کون سنگیت کار ہوں کہ اس آواز کے خلاف نئے سر، تال تراش لوں ۔۔میں نے ارحان سے کہا۔۔۔‘‘
نئی آواز نے دریائوں،موسموں اور پھولوں سے تازگی نچورڑ کر انھیںآگ کے پنجرے میںقید کر کے رکھا۔پھر ایک موسم نے قیامت کو اپنی بے نور آنکھوں میں پناہ دے دی،پھر ایک بار جہلم کی موجیں فرات سے رشتہ جوڑنا چاہتی ہیں۔اب تو ان کا دوست بن جانا حق بجانب ہے۔ہرنئی آواز شور محشر سے کم نہیں۔جہلم کے اندر بھی جہلم کے باہر بھی کوئی میٹھی آواز محفوظ نہیں۔کچھ عجیب طرح کی بے بسی،لاچاری اور ویرانی کنارے پر جھوم رہی ہے۔دن ہو یا رات دل ہلانے والی آوازیں ڈر سے کم نہیں۔کب کس میٹھی آواز کو دفن کیا جائے کوئی اندازہ نہیں۔اب ان نئی آوازوں کے درمیان شاید زندگی کا آفتاب جلد غروب ہوجائے گا۔ایسا ل لگتاہے سارا جہاں اندھیرے کے اتھاہ سمندر میں غرق ہوگیا ہے۔ہر نئی آواز بے چینی بن کر حملہ کرتی ہے کیونکہ ہر نئی آواز نے خوف کا تاج پہنا رکھاہے۔پرندوں کی چہچاہٹ  غائب اور گھونسلوں میں ڈر پنپ  رہا ہے۔کوئی اونچی اُڑان بھرنے کے لئے تیا ر نہیں۔
میںا رحان سے  ان نئی آوازوں پر بحث کررہا تھا جنہوں نے پچھلے ہفتے جنم لیا تھا اور تیزی سے بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔ جس جس نے ان آوازوں کو اپنے کانوں میں اُتاراوہ بے سکونی کا غلام بن کے رہ گیا۔یہ نئی آوازیں انوکھی تھیں ۔آنسو،غم،درد،خوف اوروحشت سے لبریز۔یہ آوازکیچڑ میں سانس لینے والے پھول کے من سے نکلی تھی اور برسوں کی ریاضت کے بعد اس توانائی سے تیار کی گئی تھی کہ سنتے ہی اندھیر پھیل جاتا  تھا اور ہر ایک ذرے پر غش طاری ہوجاتا تھا۔جولوگ نئی آوازوں پر جان دیتے تھے وہ بھی اس آوازسے دور بھاگنا چاہتے تھے۔
’’ ارحان نے مجھ سے کہا کہ پرانی  آواز اور نئی آواز میں کیا فرق ہیں؟ہا ہاہا ۔۔۔۔ !میں کون سا سازنواز ہوں کہ آوازوں کا علم رکھتا ہوں۔۔۔۔ہاں اگر ان آوازں کے درمیان کے فرق کو جانا ہے تو ریگستان میں قدم رکھنا پڑے گا۔۔۔۔میں نے کہا‘‘
’’ ہاں ہاں رکھ لے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔۔ارحان نے ہنستے ہنستے کہا !!!‘‘
نئی آوازوں کو جاننے کے لئے جب میرے قدم ریگستان کی اور بڑھنے لگے تو آوازوں کے قافلے رواں تھے۔۔۔ میں نے اپنے حلق میں چبھن سی محسوس کی ۔مجھ سے میری آواز کی روح چھین لی گی۔بہت کوشش کی کہ میری آواز مجھے واپس مل جائے لیکن کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔میری آنکھوں  سے جب آب رواں جاری ہو ا تب مجھے پورا یقین ہوا کہ نئی آوازوں میں اضطراب شامل ہے۔اپنی آواز سے زیادہ اس بات کا دکھ تھا کہ کئی چہرے اپنی آوازیں بھیجنے آرہے تھے ۔میں نے پوری  طاقت سے انھیں روکنے کی کوشش کی لیکن میری آواز  میں کوئی اثر نہیں تھا ۔اپنی آواز کو لے کر میں بہت پریشان  تھا کہ اچانک مجھے ارحان کی یاد آگئی کہ انھیں اب کیسے سمجھائوں کہ پرانی آواز اور نئی آواز میں کیا فرق ہے؟
کچھ دنوں بعد میں نے من بنا لیا کہ آج کی رات میں ارحان کے پاس گزار کر اس سے تمام نئی آوازوںکے قوانین اور خدوخال بیان کروں کیونکہ رات کی خاموشی میں آوازوںکا حسن نمایاں ہوتا ہے۔موسم کی طبعیت میں آج  بے قرارری تھی۔ہر سمت اندھیرے کا رقص تھا  اور پر شور فضائیں نئی آوازوں کو مشق کر وارہی تھیں۔میں نے اپنے حلق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیاکہ میرے منہ سے بھی کوئی نئی آواز نہ نکل جائے۔یہ قیامت کا منظر دیکھ کر مجھے ارحان کی فکر ستانے لگی۔بھیانک چیخوں کا زور بڑھتا جاریا تھا ۔سکون کا کوئی نام ونشان نہیں تھا۔پرندے گھونسلوں میں سہم کے رہ گئے تھے۔میں نے ہمت کر کے جب ارحان کے کمرے میں قدم رکھا۔ تووہاں کفن پوش اندھیرے نے ارحان کی میٹھی آواز کو نگل کر اسے کچڑ میں پنپنے والے پھول کی ندر کیاتھا۔ 
رعناواری سرینگر۔9103654553 
 

تازہ ترین