افسانچے

تاریخ    28 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


تحلیل احمد ملک

 رئیس داماد 

"۔۔۔ذرا میاں۔۔۔یہ۔۔۔ہاں یہی والا۔۔۔ادھر دکھایئے؟ کتنا حسین و جمیل ہے۔۔۔!"، اختر بیگم جو اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے لڑکا پسند کر رہی تھیں، تصویر دیکھ کر بڑی خوش مزاجی سے بول پڑیں ،"رحمت میاں یہ لڑکا کرتا کیا ہے۔۔۔؟"
ارے اختر صاحبہ یہ کوئی کوئی عام لڑکا نہیں ہے۔۔۔۔ یہ اپنے منسٹر صاحب کی بہن کا لڑکا ہے۔۔"، رحمت میاں، جو لڑکوں کی ایک لمبی فہرست لے کر اختر صاحبہ کے پاس آئے تھے ،بول پڑے۔
"اچھا ۔۔۔۔۔پھر تو یہ بڑا رئیس ہوگا۔۔۔ میری بیٹی ان کے یہاں ملکہ بن کر رہے گی۔۔۔۔"
"سو تو ہے مگر۔۔۔"
" مگر کیا میاں۔۔۔۔؟"
"مگر یہ ڈرگس اور شراب نوشی کا عادی ہے۔۔۔ پانی ملے یا نہ ملے لیکن شراب کی بوتل چوبیس گھنٹے اس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔۔۔۔"
"اُف میاں! تم بھی کیا بےوقوفوں جیسی باتیں کرتےہو۔۔۔یہ تو بڑے خاندان والوں کی روزمرہ عادات میں سے ایک ہے۔۔۔یہ تو انکی شان و شوکت کا ایک چھوٹا سا نمونہ یئے ۔۔۔"
"رُکئے بیگم صاحبہ ۔۔۔ میرے پاس اس سے بھی زیادہ رئیس آدمی کی فوٹو ہے۔۔۔"
" ذرا دکھایئے۔۔۔"
رحمت صاحب نے اپنے بستے کے اندر ہاتھ ڈال کر فوٹو نکالی،" یہ لیجیے۔۔۔ اس کا نام مولوی رشید احمد ہے۔۔۔ حافظ قرآن مجید ۔۔۔ دین و دنیا کی ہر بات سے واقفیت ہے اور خدا کے فضل و کرم سے مالدار بھی ہے ۔۔"
"کیا منسٹر کے بھانجے سے بھی زیادہ ۔۔۔؟"
" منسٹر کے بھانجے سے زیادہ تو نہیں مگر اخلاقیات اور دین داری میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔!"
"اخلاقیات گئے ڈسٹ بن میں ۔۔۔! مجھے کیا مولوی کو اَچار ڈالنا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے رئیس و دولت مند داماد چاہیے، بس۔۔۔ پھر چاہے اس کا بیک گراونڈ سنتری کا ہو یا منتری کا۔۔۔۔"
 
 

بے بس 

"۔۔۔۔ سر میرا بیٹا ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔ اسکو تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ ہے۔۔۔۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔!"، ایک عورت نے پولیس انسپکٹر سے کہا۔
" دیکھئے ہم نے اس کو رنگے ہاتھ منشیات خریدتے ہوئے پکڑا۔۔۔ اب اگر آپ کو اور بھی کچھ جاننا ہے تو اپنے بیٹے سے پوچھئے ۔۔۔ !"، انسپکٹر نے اس عورت سے بڑے غصے میں کہا۔
" ۔۔۔بیٹا بولنا ان لوگوں کو کہ تو بے گناہ ہے۔۔۔ دیکھنا یہ تمہارے بارے میں کیا بول رہے ہیں ۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ تو نشہ کرتا ہے۔۔۔!"، اس عورت نے اپنے بیٹے سے بڑی التجا کی، "بولنا ۔۔۔تو بولتا کیوں نہیں۔۔۔یا پھر ۔۔۔ "
وہ عورت اس سے پوچھ رہی تھی مگر وہ ایک زندہ لاش کی طرح کھڑا بنا کچھ کہے اپنی ماں کی ہو رہی بے عزتی کو چپ چاپ دیکھ رہا تھا ۔
بالآخر وہ عورت تھک ہار کر انسپکٹر کے پاس گئی اور اس سے کہا ،" انسپکٹر صاحب، میں اس لڑکے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔۔۔ آپ کو جو بہتر لگے کیجئے اور آیندہ مجھے یہاں بے عزتی کیلئے مت بلایئے گا۔۔۔ میرا بیٹا اُسی دن مر گیا جب اس نے نشہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھایا۔۔۔ "
 
متعلم10ویں جماعت، شوپیان،شاہِ ہمدان میموریل انسٹی چوٹ،
 

تازہ ترین