۔10ویں جماعت کے نتائج کا اعلان،14کو پہلی پوزیشن حاصل

۔ 76فیصد شرحِ کامیابی سے لڑکیاں پھر آگے،23سکولوں میں صفر کارکردگی

تاریخ    27 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی جانب سے میٹرک کے امتحانات میں 75فیصد طلاب نے کامیابی حاصل کی ہے۔ 173 سکولوں میں طلاب کے کامیابی کی شرح 30فیصد سے کم رہی جبکہ 23سکولوں نے صفر نتائج حاصل کئے۔ کامیابی کی شرح میں ضلع شوپیان سر فہرست جبکہ بانڈی پوری نچلے پائیدان پر رہا۔اس دوران اننت ناگ کے ایک مضافاتی گائوں میںگونگی ،بہری اور اپاہج لڑکی نے شاندار مثال  قائم کرتے ہوئے 90فیصد نمبرات حاصل کئے۔

صفر نتائج

10ویں جماعت کے امتحانات میں 177 سرکاری اسکول ایسے بھی ہیں جہاں پر30فیصد سے زائد طلاب کامیاب نہیں ہوئے اور قریب 23 سرکاری اسکولوں میں ایک بھی طالب علم کامیاب نہیں ہوا۔ جن سکولوں میں صفر نتائج بر آمد ہوئے، سرینگر میں ایسے اسکولوں کی تعداد8 ہیں ۔ان میں گورنمنٹ بائز ہائی اسکول رنگ ٹینگ نوا کدل ،گورنمنٹ بائز ہائی اسکول نرورہ،گورنمنٹ بائز ہائی اسکول کلاش پورہ ،گورنمنٹ بائز ہائی اسکول کے جی محلہ شامل ہیں۔بارہمولہ کے6 اسکولوں کی فہرست میںگورنمنٹ ہائی اسکول زمبورہ اوڑی، گورنمنٹ ہائی اسکول سعد پورہ سوپور، گورنمنٹ ہائی اسکول داند موہ چندوسہ بارہمولہ اور اننت ناگ کے4اسکولوں میں گورنمنٹ ہائی اسکول وانہ تراگ مٹن،گورنمنٹ ہائی اسکول ماگرے پورہ اچھ بل بھی شامل ہیں۔ بانڈی پورہ کے2اسکولوں گورنمنٹ سکینڈری اسکول پانار بانڈی پورہ اور کولگام کے2اسکولوں میں گورنمنٹ ہائی اسکول آسنور کولگام بھی شامل ہیں۔کپوارہ کے گورنمنٹ بائز ہائی اسکول گنڈ شاٹھ کرنا ہ بھی ان سکولوںکی فہرست میں شامل ہیں۔سالانہ امتحانات میں ایسے سرکاری اسکولوں کی تعداد44  ہے جہاں سے صرف20فیصد طلاب کامیاب ہوئے،جبکہ30فیصد کامیاب نتائج فراہم کرنے والے سرکاری اسکولوں کی تعداد65ہے۔

مجموعی نتائج

طلباء میں کامیابی کی شرح 74.04 فیصدجبکہ طالبات میں یہ شرح 76.09فیصد رہی۔ مجموعی طور پر75ہزار132اْمیدوا شامل ہوئے تھے جن میں38ہزار340لڑکے اور36ہزار772لڑکیاںشامل تھیں ۔مجموعی طور پر56ہزار384اُمیدوارکامیاب قرار پائے گئے جبکہ  18ہزار626اُمیدوارناکام ہوئے ۔ناکام اُمیدواروں کی مجموعی شرح 25فیصدکے آس پاس رہی ۔ امتحان میں14طلاب نے 500نمبرات حاصل کرکے مشترکہ طورپر پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ پائین شہر سے تعلق رکھنے والی رتبہ جاوید، جو کہ کشمیر ہاورڈ سکول میں زیر تعلیم تھی نے  500نمبرات حاصل کئے۔شوپیان کے ہنڈ یو علاقہ کے رہائشی عبدالرحیم بٹ کے فرزند ثاقب رحیم نے 500نمبرات حاصل کرکے شیخ نورالدین نورانیؒ انسٹی چیوٹ امام صاحب شوپیان کانام  روشن کردیا۔ثاقب رحیم نے سبھی پانچ مضامین میں A1گریڈحاصل کرنے کیساتھ ساتھ سبھی مضامین میں 10گریڈپوئنٹس بھی حاصل کئے ۔وسطی ضلع گاندربل کے وتلارکی رہنے والی ہونہارطالبہ تبسم گلزار نے بھی 500نمبرات حاصل کئے اوروہ بھی امتیازی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ پبلک ہائی اسکول وتلارگاندربل کی طالبہ تبسم گلزارکے والدگلزاراحمدشیخ پولیس محکمہ میں ہیڈکانسٹیبل ہیں ۔سوپورکے مضافاتی علاقہ زینہ گیر کے ہردشیوہ گائوں کی رہنے والی رونق دلشاد دختردلشاداحمدوازہ نے اپنے علاقے کی رونق بڑھادی ۔رونق دلشادسوپورمیں واقع شاہ رسول میموریل ویلکن ہائراسکنڈری اسکول میں زیرتعلیم ہے ۔ ادھرجنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان نے کامیاب شرح فیصد کے حساب سے  پہلا مقام یعنی 88.2فیصدجبکہ بانڈی پورہ سب سے نچلی پوزیشن پر آیا۔بورڈ حکام کے مطابق اس امتحان میں مجموعی طور پر75132اْمیدوار شامل ہوئے تھے جن میں سرکاری سکولوں کے41026اور پرائیویٹ سکولوں کے34106طلاب شامل ہیں۔ان میں سے384 56 طلاب کامیاب قرارپائے جن میں سرکاری سکولوں کے 25749اور پرائیویٹ سکولوں کے30635طلاب شامل ہیں۔18626طلاب ناکام ہوگئے ہیں۔

جسمانی طور ناخیز لڑکی

اس دوران اننت ناگ کے شانگس گائوں میں17سالہ تابیہ اقبال دختر پیر محمد اقبال ، جو نہ سن سکتی ہے، بول سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے ، نے محنت، لگن اور ہمت کا شاندار مظاہرہ کر کے دوسرے طلاب کیلئے مثال قائم کی۔اس نے زندگی کے سخت ترین مشکلات کے باوجود مذکورہ لڑکی نے 10ویں جماعت میں 452نمبرات حاصل کئے۔تابیہ پیدائش سے ہی جسمانی طور کمزور ہے ۔ لیکن جسمانی کمزوریوں کو زندگی میں رکاوٹ نہ آنے کا عہد کرتے ہوئے بچی نے گھر میں اپنی تعلیم جاری رکھی ۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بچی کے والد نے کہا کہ انکی بیٹی تیسری جماعت تک اسکول گئی ہے جس کے بعد بچی کی پڑھائی کے لئے گھر پر ہی ا ایک استاد کی خدمات حاصل کی گئی۔اُنہوں نے کہا کہ بچی کے علاج معالجہ کے لئے اُنہوں نے کئی اسپتالوں کا دورہ کیا لیکن بے سود۔اُنہوں نے مقامی پرنسپل فیاض احمد کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا ۔بچی گونگی،بہری اور دونوں ٹانگوں سے محروم ہے،گذشتہ7سال سے کھبی بھی اسکول نہیں گئیلیکن والدین نے حوصلہ دیا اور بچی نے ہمت کا بے مثال مظاہرہ کر کے نا ممکن کو ممکن کر کے دکھایا۔تابیہ کے گھر میںخوشی کا ماحول ہے ،لوگوں کی ایک بڑی تعداد بچی کے گھر پہنچ کر اُس کی ہمت اور حوصلے کو سلام پیش کررہے ہیں۔

تازہ ترین