شفیع احمدکی مزاحیہ کالم نگاری

مقالہ

تاریخ    27 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکڑ فلک فیروز
کشمیر کی اردو مزاحیہ کالم نگاری میں شاعرانہ انداز برتنے والے شفیع احمد ایک انفراد کے مالک ہیں جن کے یہاں بیشتر تحریروں میں نثری تخلیق شعری پیرائے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے اور مفاہیم کے ہزاروں دروازے اس طرح کھل جاتے ہیں جیسے معنوں کے سمندر نکل کر سامنے آجاتے ہیں اور قاری غوطہ زن ہونے کا من بنا لیتا ہے۔ اس عمل کے دوران نئی سرحدیں تخیل کی پرواز کرتی چلی جاتی ہیں گویا ان کے لفظوں کا انتخاب بعض اوقات پیش کئے گئے کردار کا لفظی پوسٹ ماٹم کرتا ہے جو کہ سائنسی ڈاکٹر کے پیش کردہ پوسٹ ماٹم سے کئی گنا حقیقی ثابت ہو جاتا ہے۔
کشمیر عظمیٰ سے وابستہ کالم نگار جناب شفیع احمد کے کالم بھی اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کے حلقہ تخلیق کا دائرہ نہایت وسیع بھی ہے اور جاندار بھی ۔سیاسی موضوعات ان کے یہاں خصوصیت کے ساتھ ملتے ہیں۔
۱)پھر بڑھے آگے یہاں سے ووٹ کے ارمان
۲) شیخ جی کے ووٹ کو لیکن جانے نہ دیجئے 
۳)مٹھائی جھوٹ پر بانٹو پٹائی سچ کی ہونے دو
۴)بار بار پی چکے ہو تم جوانوں کا لہو 
۵) دھمکی کا دھماکہ اور ڈھولک ہے تتا تھیہ …( حوالہ : کشمیر عظمیٰ)
 ان کا انداز بھی اپنا ایک منفرد ہے جس میں سادگی ،صفائی اور آسان نثر کا استعمال شامل ہے۔ ان کی کالم نگاری کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ مختلف کہاوتوں اور ضرب الامثال کا سہارا بھی لیتے ہیں بالخصوص کشمیری زبان کے محاوروں کا برملا استعمال اپنی تحریروں میں کرتے ہیں ۔ان کی کالم نگاری کا مطالعہ کرنے کے دوران قاری کو ایسا لگتا ہے کہ کالم نگار کے ساتھ بزبان حال محو گفتگو ہے۔ ان کی کالم نگاری سے یہ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے؛ ’’اپنے ملک کشمیر میں وہی ہوا کہ زور کا جھٹکا کچھ زیادہ ہی زور سے لگا ۔پھر زمین ہلی ،پائوں تلے زمین کیا کنکریٹ ہلا اور اس نے کرسی میں سب کچھ ہلا دیا ۔ارباب اقتدار سر سے پاؤں تک ہلے بلکہ لرز اٹھے۔ جھنڈا ڈنڈا بھی ہلا۔ مطلب اپنے قلم کنول والوں کے انجر پنجر ہلے ‘‘
شفیع احمد اکثر اپنے کالموں میں شاعری کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ کبھی غالب کے اشعار کی پیروڈی بیان کرتے ہیں اور کبھی مومن کی مشہور غزلوں کی پیروڈی کرکے اپنی بات قاری تک با اثر انداز میں پہنچاتے ہیں  ؎
 وہ جو الائنس کا ایجنڈا تھا 
وہ جو سیکورٹی کا ڈنڈا تھا
 وہ جو کرسیوں کی بھرمار تھی 
وہ جو اپنی مخلوط سرکار تھی 
وہ جو قلم تھا دوا ت تھی 
وہ جو راز راز کی بات تھی
 وہ جو کنولوں کی حیات تھی
 تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا …( بحوالہ کشمیر عظمیٰ ،23جولائی،2018،ص 7)
شفیع احمد کشمیر کی سیاست کے داو پیچ یا سیاسی دنگل کو بحسن خوبی سمجھ بھی سکتے ہیں اور قارئین کو بھی اپنی زبان میں سمجھاتے ہیں۔ ان کی تخلیقات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف تاریخ کا مطالعہ بھی کرتے ہیں، سیاسی تاریخ کے پھیر بدلی والے معاملوںسے بھی واقف نظر آتے ہیں ۔باربار قاری کو یاد دلاتے ہیںکہ آپ کے ساتھ کس نے کب اور کیا کیا ہے، کس طرح سے سیاسی بازی گروں نے آپ یعنی عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ۔نئے نئے وعدے لے کر کبھی اپوزشن والے اور کبھی کرسی والے عوام کے سامنے آ جاتے ہیں ۔جب ایک جماعت الیکشن کے دنگل سے ہار جاتی ہے تو بادل ناخواستہ اپوزیشن کی کرسی ہی سنبھالنی پڑتی ہے ،تب جاکر اپوزیشن والے برسر اقتدار جماعت کی مخالفت میں لگ جاتے ہیں اور اس مخالفت کا پہلا اختیار عوام کے جذبات ہوتے ہیں جن کا استعمال حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں جماعتیں اپنے فائدے کیلئے کرتی ہیں خاص طور پر دنگل الیکشن کے قریب ہونے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے؛
 ’’سنا ہے ہل والے اپنے کو چاک وچوبند رکھ رہے ہیں کہ بھائی لوگو کسی بھی سمے الیکشن جنگ کا اعلان ہو سکتا ہے۔ تیر و تفنگ تیار رکھو، جیسے ہی اعلان ہو ٹوٹ پڑو کرسی واپس اینٹھ لینی ہے، چھین لینی ہے مانا کہ اس میں انسانی خون کی بو آ رہی ہے اور وہ اپنے ملک کشمیر والوں کی کہ جنہوں نے بر سوں سے اسے سر پر اٹھایا ہے اور ہم نے جب چاہا ان کی چھاتی پر مونگ دلا ۔وہ اف تک نہ کر پائے بلکہ سسکیاں لیتے برداشت کرتے رہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے انہیں صبر کا سبق یاد کرایا تھا۔‘‘
 کالم نگار کے کالموں میں موضوعات کا تنوع نظر آتا ہے۔ اگرچہ سیاسی مسائل ان کے یہاں زیادہ ہی نظر آتے ہیں لیکن دیگرموضوعات پر بھی موصوف خامہ فرسائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انتظامی امور ،لوگوں کے بدلتے مزاج کا خاکہ بھی پیش کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کے کام یعنی ورک کلچر سے بھی کبھی کبھار خفا نظر آتے ہیں ۔رشوت خوری ،دوسروں کے کام میں دخل اندازی، اپنے فرائض منصبی سے انصاف نہ کرنے والوں کے خلاف غصہ بھی رکھتے ہیں۔نوجوانان قوم کے حرکات و سکنات پر بھی گہری نگاہ رکھتے ہیں۔قانون کے پاس داروں یا محافظین سے ہر ایک انسان کی امیدیں وابستہ ہوتیں ہیں کیوں کہ یہ امن و قانون کی صورت حالات کو سنبھالنے والے ہیں،عوامی تحفظ ان کے فرایض منصبی میں شامل ہیں ،اسی لیے اگر انہوں نے اپنے فرایض میں کوتاہی برتی تو ملک یا ریاست کے حالات پر تشدد بھی بن سکتے ہیں ۔  
شفیع احمد کے کالموں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ عام قاری بھی ان کی تخلیقات سے لطف اندوز ہوتا ہے کیونکہ انکا تخلیقی برتاؤ نہایت سلجھا ہوا ہے جس کے مطالعے کے دوران کسی بھی ذہنی کوفت سے دوچار نہیں پڑتا ہے۔ اگر یوں کہیں کہ شفیع احمد ایک سماجی ڈاکٹر ہے جو سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر ہی بیماری کا تشخص کرتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔
 کشمیرعظمیٰ اخبار کی روایت مستحکم ہے جس میں لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزاحیہ کالم نگاری کے ساتھ ساتھ سنجیدہ کالم نگاری بھی قدرے اول کی حیثیت رکھتی ہیں ۔مزاحیہ کالم نگاری میں نہ صرف مقامی کالم نگار لکھتے رہتے ہیں بلکہ غیر ریاستی کالم نویسوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے ۔
(مقالہ نگار ڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
ای میل۔ falakfayrooz@gmail.com
����������

تازہ ترین