گمشدہ دولت …تنقیدی جائزہ

تبصرۂ کتب

تاریخ    27 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدی
 ’گمشدہ دولت ‘ طارق شبنم (اجس بانڈی پورہ کشمیر) کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو سال رواں2021 میں منظر عام پر آیا ۔طارق شبنم کئی برسوں سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ ان کے افسانے اخبارات،رسائل،سوشل میڈیا سائٹس پر نظرسے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی قلم کار مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے تو تجربے کی بنیاد پر اس کی تحریر یا تخلیق میں بھی پختگی آتی رہتی ہے جوکہ طارق شبنم کے بیشتر افسانوں سے عیاں ہے۔اس مجموعہ میں27 افسانے شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو قلم کار ڈگری یا شعبہ جاتی سطح پرعملی طور اردو زبان وادب سے منسلک نہیں ہیں ،ان میں کئی لوگ بہترین شعر وادب تخلیق کررہے ہیں اور انہیں حوصلہ افزائی سے نوازنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔طارق شبنم کی اردو تعلیم واجبی ہے یعنی میٹرک کے بعد وہ سائنس کے اسٹوڈنٹ رہے ہیں اور روزگارکے تعلق سے محکمہ زراعت میں ملازم ہیں۔ان جیسے لوگ اگر اردو میں کچھ لکھ رہے ہیں تو یہ ان کی قابلیت کا جوہر ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔  
 پیش نظر مجموعہ کے افسانوں کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ افسانہ نگار نہ صرف کہانی بننے کے فن سے واقف  بلکہ وہ اپنے مشاہدے اور کہیں کہیں پر تخیل کی بنیاد پر افسانہ تخلیق کرنے کے ہنر سے بھی آشنا ہیں۔ مشاہدہ ایک ادیب کے لئے بڑا اہم ہوتا ہے کیونکہ مشاہدے کے ذریعہ ہی وہ اپنے خیالات کو الفاظ میں پیش کرتا ہے ۔ اب جبکہ وہ اگر تخلیق کار بھی ہو تو شعر وفکشن تخلیق کرنے کے دوران فنی لوازمات کی شناسائی بھی اہم ہوتی ہے۔ ایک اور بات بھی مناسب رہے گی کہ تخلیقی ادب میں اعلی تعلیم سے زیادہ اعلی صلاحیت ہی کام آتی ہے‘ جس کی کئی مثالیں ادب میں دیکھی جاسکتی ہیں،جیسے پریم چند‘منٹو وغیرہ۔۔۔۔۔اردو کے تاریخ ساز فکشن نگار نہ تو اعلی تعلیم ’’ایم ۔فل‘پی۔ ایچ ۔ڈی‘‘وغیرہ ڈگریاں کرچکے تھے اور نہ ہی اردو کے لیکچرر یا پروفیسر تھے لیکن ان کے کام پر لوگ پی ایچ ڈی بھی کرچکے ہیں ۔ طارق شبنم کے جو افسانے سماجی مشاہدے کی فنی عکاسی کرتے ہیں، ان میں بیشتر کہانی پن سے مزین ہیںکیونکہ افسانے کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ اس میں فنی چابکدستی کے ساتھ ساتھ کہانی پن بھی موجود ہونا چاہئے۔ 
 اس تناظر میں دیکھیں تو افسانہ ’’ بے درد زمانہ‘‘ کی کہانی بھی ایک ایسی سماجی کہانی ہے جومشاہدات کی عمدہ عکاسی کرتی ہے اور جوفنی طور پر قاری کو کردار کے دکھ درد کا حصہ بناتی ہے ۔کیونکہ اس کہانی کا تعلق ہمارے سماج سے جڑا ہوا ہے۔افسانے کی مرکزی کردار ’سندری‘ ایک محنتی اور باکردار عورت ہے لیکن مفلسی کی وجہ سے اس کے بیمار شوہر کا بروقت علاج نہیں ہورہا ہے کیونکہ سرکاری اسپتال میں سفارش اور اثرورسوخ کا چلن عام ہے  اورسندری جب مجبور اََ اپنی سونے کی بالیاں تک آدھے دام فروخت کرکے پرائیوٹ لیبارٹری پر شوہر کو لے جاکر ٹسٹ کروانے کے لئے چلی جاتی ہے تو وہاں پر چند پیسے کم ہونے کی وجہ سے اس کو دھتکارا جاتا ہے اور وہ شوہر کو بیماری کی حالت میں آنسو بہاتے بہاتے لوٹ آتی ہے ۔ افسانے کے کلائمکس میں سندری کی لاچاری‘بے بسی اور سماج کے ناروا سلوک کا منظر درد انگیز پیرائیہ میں یوں کھینچا گیا ہیـ:
 ’’ اس بے درد زمانے میں میں اکیلی بے سہارا عورت کیا کروں ‘ کس سے مدد مانگو‘کہاںانصاف ڈھونڈوں ۔یہاںصرف پتھر دل انسان ہیں۔پتھر کے ضمیر ہیں۔ چاپلوسی‘فریب‘حرص اور خودغرضی ہے‘‘۔ (کتاب’ گمشدہ دولت، ص16)
 اس طرح سے افسانہ نگار نے ہمارے سماج کی ایک ایسی تلخ حقیقت کو کہانی کے روپ میں پیش کیا ہے جس کا سامنا ہرایک کوکسی نہ کسی صورت میں کرنا ہی پڑتا ہے۔کشمیر پچھلی تین دہائیوں سے جس پُرآشوب دور سے گزر رہاہے‘ اس نے بیشتر کشمیریوں کو نفسیاتی تناؤ میں مبتلا کردیا ہے۔ اس پرکئی اہم افسانے تخلیق ہوئے ہیں جو کہ یہاں کے دورپُر آشوب کو موضوع بناتے ہیں۔اصل میں ہوتا کیا ہے ۔۔۔؟‘ سماج کے حالات ایک قلمکار کی سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور پھر اس کے خیالات لفظوں کی صورت میں تحریر کا حصہ بنتے ہیں۔ زیر نظر کتاب کا ایک افسانہ’’صدمہ‘‘ واقعی کشمیر کے تناؤ شدہ ماحول کی دردانگیز منظر کشی کرتا ہے۔افسانے کا مرکزی کردار تیس سال کا جوان‘جسے سب پیار سے ’کاکا ‘کہتے تھے‘ بڑا ہنس مکھ اور ملنسار ہوتا ہے لیکن ایک دن بازار میں اچانک دھماکے اور گولیوں کی زد میں آکر کئی لوگ مرجاتے ہیں اور یہی خوں آشام صدمہ ’کاکا ‘کی نفسیات پر اتنا اثر انداز ہوتاہے کہ وہ بیمار ہوجاتا ہے اور بالآخر نفسیاتی تناؤ میں مبتلا ہوکر دم توڑ دیتا ہے:
’’اس دن کے بعد کاکا کے زخم جیسے اور گہرے ہوگئے اور وہ مکمل طور پر اپنا دماغی توازن کھو کر بستر پر دراز ہوگیا۔کئی مہینوں تک اس اذیت ناک کیفیت میں مبتلا رہ کر ایڑیاں رگڑتا رہا لیکن گھرسے باہر قدم رکھنے کے لئے کبھی راضی نہیں ہوا۔اس کے منہ سے ایک درد بھری چیخ نکلی ۔کاکا کی آنکھیں بے نور ہوچکی تھی (تھیں) اور اس کی گود میں سر رکھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میٹھی نیند سوچکا تھا۔‘‘ (کتاب:گمشدہ دولت۔ص 25۔24)
افسانہ’’ صدمہ‘‘ موضوعاتی اور فنی طور پر ایک بہترین افسانہ ہے۔کیونکہ اس کی کہانی کشمیر کی زمینی صورتحال کی حقیقی عکاسی کرتی ہے اور فنی طور پر یہ کو ئی صحافتی انداز کی رپورٹ نہیں کہ صرف اطلاع تک محدود ہو بلکہ اس میں مشاہدات کو فنی تجربات کی آمیزش سے ایک فکرانگیز افسانہ تخلیق کیا گیا ہے جس میں مناسب کردار نگاری ‘ اچھی پلاٹ سازی اور دلچسپ موضوعاتی ٹریٹمنٹ کی فنی خوبیاں موجود ہیں۔جیسے یہ اقتباس دیکھیں جس میں کاکا کے نفسیاتی خوف کے پس پردہ ہر خوف زدہ کشمیری کی جھلک نظر آتی ہے اور ایسے کئی واقعات رونما بھی ہوئے ہیں:
 ’’صندوق  کے اندر کوئی اور نہیں تین فٹ قد کا ضعیف کاکا انتہائی خوفزدہ حالت میں اپنے دونوں ہاتھ اوپر کرکے چاولوں (چاول )پر بیٹھا تھا۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھالیکن آواز اس کے حلق میں اٹک جاتی تھی۔’اچھا تو تو اگروادی ہے۔‘’س۔۔۔س۔۔۔ سر میں اگروادی نہیں ہوں۔‘‘کاکا نے ہمت جٹا کے بتایا۔’تو پھر کون ہو؟‘ فوجی گرجا۔ ’سر میں تُمل(چاول) ہوں۔‘اس نے بڑی معصومیت اور سادگی سے کہا۔تھر تھر کانپتا ہوا پسینے میں شرابور کاکا اتنا ہی کہہ پایا اور زور زور سے روتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔‘‘      (گمشدہ دولت،ص24)
سماج متنوع مسائل و مشکلات کی آماجگاہ ہوتا ہے۔ ان مسائل ومشکلات کی اثر انگیزی جتنی ایک تخلیق کار کی سوچ کو متاثر کرے گی تو اس کے ردعمل میں کوئی تخلیق بھی خلق ہوسکتی ہے۔کشمیر کے دیہات خصوصاََ جو جنگلوں کے نذدیک ہیں ‘ہمیشہ جنگلی جانوروں کے خوف اور ان کے جارحانہ حملوں کی زد پر رہتے ہیں۔ افسانہ’’دہشت کے سائے‘‘ کی کہانی بھی اسی قسم کے موضوع پر بنی گئی ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار’’ عادل مرزا‘‘ کے گھر پر اس وقت یہ آفت ٹوٹ پڑتی ہے جب رات کے اندھیرے میں اس کے مویشی خانے پر جنگلی جانور حملہ کرکے ان کے کئی مویشیوں کی چیر پھاڑ کردیتے ہیں۔اس طرح سے ایک غریب پر غموں کا پہاڑٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کہانی کی اہمیت اس نکتہ میں پوشیدہ ہے کہ دیہات کے کئی لوگوں کا اثاثہ یہی مال مویشی ہوتے ہیں اور جب انہیں ہی جنگلی درندے کھاجائیں تو یہ کسی صدمے سے کم نہیں ہوتا ہے۔
تخلیقی کارگزاری میں قوت تخیل (Creative power) کی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے ۔دوران تخلیق کبھی کبھی تخلیق کار قوت مشاہدہ کے زیر اثر سماج کے کسی موضوع یا مسئلہ کو تخلیق کے قالب میں ڈھالتا ہے او ر افسانے میں سماج سے ہی کردار اخذ کرکے کہانی لکھ دیتا ہے توکبھی کسی موضوع کو تخیل کے سہارے خیالی کردار کے توسطہ سے کہانی گھڑلیتاہے۔ اس طرح کے افسانوں میں تخلیقی تخیل (Creative imagination)  کے خوبصورت جلوے سامنے آتے ہیں۔اس قسم کی تخلیقی خوبی افسانہ’’ گمشدہ دولت‘‘ کے تخلیقی متن میں دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ اس میں انسانوں کی ترقی اور دولت و شہرت کے باوجود بے چین زندگی کو موضوع بنایا گیاہے لیکن تخیل کی جلوہ گری سے کہانی کا مرکزی کردار’’جنرل ٹام ‘‘خود اختراع کردار ہے جو مریخ سے اتر کر زمین پر انسانوں کی پریشانیوں کے بنیادی مسئلہ کی تلاش میں جٹ جاتا ہے اور آخر پر علم وتحقیق اور ترقی وخوشحالی کے باوجود عدم سکون دیکھ کر وہ اپنی ڈائری میں ’’گمشدہ دولت‘‘ لکھ کر واپس مریخ کی طرف کوچ کرجاتا ہے۔ دراصل ’’جنرل ٹام ‘‘ مریخ سے اتر کر زمین پر بسنے والے انسانوں کے حالات واقعات معلوم کرنے کے مشن پر تعینات ہوتا ہے۔زمین پر اترتے ہی وہ یہاں کی خوشحالی اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ترقی پرمبہوت ہوکر رہ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ’’ دھرتی پر آباد آدم زاد تو واقعی بہت خوش قسمت ہے ۔اتنی ترقی۔۔۔اتنی خوشحالی۔۔۔‘‘ لیکن اس سب کے باوجود سروے کے دوران اسے ایک مسئلہ بڑا پریشان کرتا رہتا ہے کہ اتنی ترقی کے باوجود دھرتی کا انسان سکون کے لئے کیوں تڑپ رہا ہے تو افسانے کے آخر پر اس کے ہاتھ ایک کتاب لگ جاتی ہے‘ جو صالح اور سنجیدہ فکرکے ناپید ہونے کے نتائج پر لکھی ہوتی ہے۔وہ کتاب کھول کر پڑھنا شروع کرتا ہے ۔وہ جب کتاب کا ایک اقتباس پڑھتا ہے تو اسے اپنی الجھن کا حل مل جاتا ہے اور اسی پیغام کو اپنی ڈائری میں’’ گمشدہ دولت‘‘لکھ کر اطمینان سے مریخ کی طرف لوٹ جاتا ہے یعنی اس کو اپنے مشن میں کامیابی مل جاتی ہے:
’’ دھرتی پر آباد تمام فرقوں سے وابستہ انسان قدرتی آفاقی اصولوں سے روگردانی کرکے اپنے ہی وضع کردہ خودغرضانہ اور فرسودہ اصولوں کے تابع زندگی گزارنے کی احمقانہ غلطی کے سبب ذہنی ودلی سکون کی انمول نعمت کو کھو بیٹھے ہیں جسے واپس حاصل کرنے کے لئے اگرچہ سخت جتن کررہے ہیں لیکن اپنی روش بدلنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔‘‘(گمشدہ دولت،ص 104) 
ٓٓآج کل کی سائبر ایج جہاں ایک طرف انسان کو راحت پہنچانے میں پیش پیش ہے تو دوسری جانب یہ کئی مسائل کی ضامن بھی ثابت ہورہی ہے‘ خصوصاََ سوشل میڈیا کی واٹس ایب اور فیس بک کی نجی چیٹنگ۔افسانہ ’’سنہرا پھندا‘‘سوشل میڈیا کے غیر سنجیدہ استعمال کی کہانی اور پھر اس کے برے انجام کی دلچسپ کہانی سناتا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار’’ راحیلہ‘‘ ایک شریف النفس اور وفاشعاربیوی ہوتی ہیں ۔ایک سہیلی کے کہنے پر وہ جب اپنے شوہر’’مشتاق‘‘کو گھر میں انٹرنیٹ کنکشن لگوانے کا اصرار کرتی ہے تو اس کے بعد وہ لگا تار سوشل میڈیا سے چمٹی رہتی ہیں۔اسی طرح اس کی برقی دوستی ایک انجان آدمی سے ہوجاتی ہے اور اس کے فریب میں آکر ایک دن وہ اسے ملنے چلی بھی جاتی ہے لیکن وہ اسے گاڑی میں بیٹھا کر شہر سے تیس میل دور لے جاکر اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے ۔س وہ بڑی مشکل سے وہاں سے بھاگ کر گھر پہنچتی ہیں اور گھر کے اندر خود کو پھانسی دینے کی کوشش کرتی ہیںلیکن عین موقعہ پر مشتاق کمرے میں داخل ہوکر اسے بچاتا ہے۔اس طرح سے افسانے کا عنوان’’سنہرا پھندا‘‘کہانی واقعی سوشل میڈیا کسی غیر سے خفیہ چیٹنگ اور غیر سنجیدہ روابط سنہری پھندا ہی ثابت ہوتا ہے۔
 فنی اور لسانی تناظر میں دیکھیں تو طارق شبنم کے کئی افسانے فن اور زبان وبیان کے اچھے نمونے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ چند افسانے ایسے بھی ہیں جن میں فنی سقم اور لسانی خامیاں بھی نظر آتی ہیں۔ جیسے افسانہ’’ اندھیرے اجالے‘‘ کا ابتدائیہ تکنیکی ربط کے پیش نظر باقی کہانی سے کسی بھی قسم کا منطقی جوڑ نہیں کھا رہا ہے ۔ کردار پارک میں داخل ہوکر پارک کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے پھر اچانک کہتا ہے کہ ’’ اس دلکش باغ کے سبھی پھول مرجائے ہوئے کیوں ہیں ۔‘‘ وغیرہ ‘ اسی طرح افسانہ’’ سنہرا پھندا‘‘ میں جب مشتاق اسپتال میں اپنی بیوی’’راحیلہ ‘‘ کے ہوش آنے کے بعد اس کی پریشانی سے متعلق پوچھتا ہے تو یہاں پر کردار کی زبان سے سارا ماجرہ بیان ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہ جواب میں کہتی ہیں کہ’’بتاونگی‘‘لیکن یہاں پر راوی یا افسانہ نگار پھر خود درمیان میں آکر کہانی سنانا شروع کردیتا ہے جوکہ کردار نگاری کے ضمن میں فنی نقص ہی ثابت ہورہا ہے۔ اسی طرح جملوں کی صحیح ساخت پر بھی چندجگہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ جیسے دوائیاں کھلائیں(دوائی کھلائیں)‘ آنسوں (آنسو)‘ درد کا بیکراں سا (دردکا بیکراں سا سمندر) غذائیاں(غذا)‘دوائیاں کھانے (دوا یا دوائی کھانے)‘فلم کے سینوں(فلم کے سین)وغیرہ۔۔۔!
 مجموعی طور پر ’’گمشدہ دولت‘‘ کے افسانوں کا احاطہ کریں تو طارق شبنم کے کئی افسانوں میں فنی لوازمات کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور ان میں کہانی پن کا غلبہ اس حد تک ضرور نظر آتا ہے کہ گردوپیش کے مسائل و واقعات کو مشاہداتی بنیاد پر کہانی کے روپ میں پیش کرنے کی احسن کوشش کی گئی ہے۔ اور ان افسانوں میں ایک ایسا درد پوشیدہ ہے جو قاری کے دل ودماغ پر دردانگیز اثرات ڈالتا ہے۔ افسانے کی ایک کامیابی یہ بھی ہے کہ قاری پڑھنے کے بعدکہانی سے متاثر ہوجائے اوراس کے حافظے میں کہانی محفوظ رہے  تو طارق شبنم کے کئی افسانے پڑھنے کے بعد اپنا اچھا تاثر بھی چھوڑ جاتے ہیں  اور حافظے کا حصہ بھی بنتے ہیں جیسے ’بے درد زمانہ‘،’صدمہ‘،’ گمشدہ دولت‘،’مسیحا کی تلاش‘،’ سنہرا پھندا‘،’ نسخہ کیمیا ‘ وغیرہ ۔
 کتاب کاپیش لفظ معروف افسانہ نگار نور شاہ نے لکھا ہے جس میں طارق شبنم کی افسانہ نگاری پر چند اہم باتیں کہی گئی ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر اشرف آثاری کا مضمون’’ طارق شبنم ایک ہونہار افسانہ نگار‘‘ اور ’ ’اپنی بات ‘‘ میں افسانہ نگار کے اپنے خیالات بھی شاملِ کتاب ہیں۔گٹ اپ عمدہ اور طباعت معیاری ہے۔
پتہ۔ودی پورہ ہندوراہ کشمیر
فون نمبر۔7006544358
ای میل۔drreyaztawheedi777@yahoo.com

تازہ ترین