کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    26 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال : آج کل موبائل فون پر کئی سارے  (Fantasy App)ایپلیکیشن چل رہے ہیںجن میں کھیلنے پر پیسہ ملتا ہے ۔ان ایپلیکیشن میں پیسہ کمانے کا سسٹم یہ ہے کہ کسی بھی کھیل کے مختلف مقابلے لگتے ہیں،جس میں کھیلنے کے لئے کچھ فیس ہوتی ہے اور اس مقابلہ میں کئی سارے لوگ شامل ہوتے ہیں ،جن میں ہر کسی کی اپنی اپنی ٹیم ہوتی ہے۔پھر جس کسی کی ٹیم کے کھلاڑی زیادہ اچھا کھیلتے ہیں اس کو زیادہ نمبر (Points)ملتے ہیں اور انہی پوائنٹس کی بنیاد پر اُن کو پوزیشن (Position)بھی ملتی ہے۔پہلی ،دوسری اور اسی طرح ہر Positionکا انعام طے ہوتا ہے ۔کچھ لوگ کم Pointsلینے کے باعث کوئی Positionحاصل نہیں کرپاتے ہیں اور انہیں کوئی پیسہ بھی نہیں ملتا بلکہ اُن کی فیس کی رقم بھی واپس نہیں ملتی ۔تو کیا اس طرح کی اپلیکیشنز(Applications)سے پیسے کمانا جائز ہے یا نہیں؟ظاہر ہے کہ جو پیسہ فیس کے طور پر لوگوں سے لیا جاتا ہے ،اُسی رقم میں سے طے شدہ پیسہ انعام کے طور پر دیا جاتا ہے ۔ ہر کسی کی ٹیم تو جیت نہیں پاتی ہے ، اس طرح تو زیادہ فائیدہ کمپنی والوں کا ہی ہوتا ہے ۔لہٰذا آپ اس پورے Systemکے بارے رہنمائی فرمائیںکہ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے اور یہ جائز ہے یا ناجائز؟
عاطف یاسین ۔وزیر باغ سرینگر
موبائیل اپلیکیشن

کھیل مقابلوں پر پیسہ لگانا جوے کے برابر حرام کاروائی 

جواب :ایپلیکیشن کے اس پورے سسٹم کے متعلق معلومات حاصل کرنے اور اس کی تمام تفصیلات کو جاننے کے بعد اس کا شرعی حکم لکھا جارہا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا سسٹم لاٹری اور جُوا ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس دینے والے فیس دیتے ہیں اور اُن کو یہ اُمید ہوتی ہے کہ اُن کی ٹیم اچھا کھیلے گی تو اُن کو پوائنٹس ملیں گے ۔پھر اگر یہ پوائنٹس اتنے زیادہ ہوئے کہ اُن کو پوزیشن بھی مل گئی تو پھر اُن کو انعام ملے گا ۔اس طرح پہلی اور دوسری پوزیشن والوں کو انعام ملنے کی اُمید رہتی ہے ،اس لئے وہ اس میں شامل ہوتے ہیںاور اس کے لئے ہی فیس بھی دیتے ہیں ۔اب کمپنی والے چند پوزیشن لینے والوں کو انعام دیتے ہیں ۔وہ دراصل سارے فیس دینے والوں نے جتنی فیس دی تھی اُس کا کچھ حصہ پوزیشن لینے والوں کو بطورِ انعام دیا گیا اور باقی ساری رقم کمپنی والوں نے خود رکھ لی اور دوسرے جن لوگوں نے فیس دی تھی اُن کو کچھ نہ ملا ۔یہی جوا ہے اور اسی طرح لاٹری ڈالی جاتی ہے۔جوےمیں پیسہ لگانے والا اس توقع پر پیسہ لگاتا ہے کہ اگر میرے نام پر لاٹری نکل گئی تو پہلا ،دوسرا یا تیسرا انعام ملے گا اور وہ بڑی رقم ہوگی ۔اگر میرے نام پر لاٹری نہ نکلی تو میری ٹکٹ کے بہت کم روپے کا مجھے نقصان اٹھانا پڑے گا ۔
شریعت اسلامیہ میں اس کو قِمار اور اور مَیسر کہا گیا اور قرآن کریم نے شراب نوشی اور جوا بازی کو شیطانی کام قرار دے کر اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔اس لئے ایسے ایپلیکیشن (Application)کے سسٹم(Sistem) سے جُڑ جانا ہی ناجائز ہے اور پھر اگر اس کے ذریعہ کسی کو پوائنٹس ،پھر پوزیشن ملی اور پھر اس کو کوئی انعام ملا تو یہ انعام لینا حرام ہے۔بلاشبہ حقیقت یہی ہے کہ کمپنی ہم سے ہی رقم جمع کرتی ہے ،پھر بہت تھوڑی رقم انعام کی صورت میں چند افراد کو دیتی ہے ،وہ افراد بھی ہم میں سے ہی ہوتے ہیں اور اُن کو جو انعام ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی پیسہ ہوتا ہے۔تھوڑی رقم انعام میں دے کر زیادہ رقم یا رقم کا ایک بڑا حصہ کمپنی خود رکھ لیتی ہے ،پس کمپنی کا یہی مقصد ہوتا ہے ۔لاٹری ڈالنے والی کمپنی کا سارا سسٹم بھی یہی ہوتا ہے ۔خلاصہ اس سسٹم میں جوائن کرنا بھی ناجائز اور اس کا انعام لینا بھی حرام ہے۔

سوال :انسان کا ایک بڑا وصف اُ س کا حُسنِ اخلاق ہے۔اس حُسنِ اخلاق کے متعلق اسلام کی اہم تعلیمات کا خلاصہ کیا ہے اور وہ اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کرنے چاہئیں ؟ مفصل جواب درکار ہے۔
غلام مصطفیٰ ۔لال بازار سرینگر

حُسن اخلاق مسلمان کا بنیاد ی وصف

دوسروں کے لئے بھی وہی چاہئے جس کی چاہت اپنے لئے ہو

جواب :انسان کو اس کے پیدا کرنے والے خالق،مالکِ کُل نے فطری طور اس طرح تخلیق کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی دوسرے انسانوں کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہے ،اسی لئے کوئی بھی انسان کہیں بھی اکیلا رہ کر زندگی نہیں گزار سکتا ۔وہ اپنے ماں باپ ،بیوی بچے ،بھائی بہن کے علاوہ پڑوسیوں ،رشتہ داروں ،اقارب و احباب اور دوسرے انسانوں سے مل جُل کر ہی اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔اُس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس سے صرفِ نظر کرے۔اگر وہ زمین داری کرے،مزدوری کرے ،تجارت کرے ،جانور پالے ،صنعت چلائے،ملازمت کرے ،وہ ہر ہر صورت میں دوسرے انسانوں کے ساتھ ملنے جُلنے پر مجبور ہے۔لین دین کرنے کا پابند ہے ،مدد لینے اور مدد دینے کے بغیر وہ اپنے کام نہیں نکال سکتا ۔یقیناً ہر انسان کو زندگی میں دوسرے قسم قسم کے افراد سے واسطہ پڑتا ہے اور کبھی کوئی کام کرانا پڑتا ہے اور کبھی مدد لینی پڑتی ہے ۔اُسے کپڑے سِلوانے ہوتے ہیں ،لوہے کے اوزار بنوانے ہوتے ہیں ۔مکان بنانا پڑتا ہے ،جانور خریدنے یا فروخت کرنے پڑتے ہیں ،گھریلو چیزیں خریدنی پڑتی ہیں ،دوا علاج کرانا پڑتا ہے تو ان تمام کاموں کو کرنے کے لئے وہ دوسرے انسانوں سے مدد لینے پر مجبور ہے۔وہ خود ہی اکیلا سارے کام ہرگز نہیں کرسکتا ۔اب جب وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ مل جُل کر رہنے پر مجبور ہے تو اگر اُس کا رویہ اور اخلاق اچھا نہ ہو تو پھر اس کو ضرور ہر شخص سے تلخ وترش رویہ دیکھنا پڑے گا اور وہ خود بداخلاق انسان قرا ر پائے گا اور سب کی نفرتوں کا نشانہ بنے گا ۔اس کے برخلاف اچھے اخلاق ،نرم مزاجی ،اچھا رویہ اور محبت و شفقت کا وطیرہ اپنانے والا ،کسی کو دُکھ نہ دینے والا ،کسی کو تکلیف نہ دینے والا ،کسی کا حق نہ دبانے والا سب کی نظروں میں اچھا ،سب کی طرف سے تعریف سُننے والا اور سب کے لئے یاد گار اور مثال میں پیش ہونے والا انسان بنتا ہے۔ہر نبی اور خصوصاً پیغمبر اسلام علیہ السلام نے انسانوں کو ایسا ہی انسان بننے کی تعلیم دی ہے کہ تم نہ کسی کو تکلیف پہنچائو ،نہ کسی کو دُکھ دو ، نہ کسی کا حق دبائو،نہ کسی کا نقصان کرو ،نہ کسی سے بُرا سلوک کرو ،نہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرواور نہ تمہاری زبان سے یاہاتھ سے کسی کو اذیت پہنچے ۔(بخاری مسلم)یہی حُسنِ اخلاق ہے اور اسلام کا اہم پیغام حُسنِ اخلاق کا ہے۔ہم مسلمان ہیں ہمارا دین  ِاسلام ہم کو یہی تعلیم اور حکم دیتا ہے بلکہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جانوروں کو تکلیف دینے سے سخت منع فرمایا ۔چنانچہ رحمت ِ عالم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :’’ ان گونگے بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو یعنی اس میں تم پر لازم ہے کہ ان کے گھاس پانی کا اچھا انتظام کرو اور ان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو ،ان کی مارپیٹ نہ کرو ،سردی و گرمی میں ان کا خیال رکھو ‘‘۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ مرغے کو بُرا بھلا مت کہو ،وہ تم کو نماز کے لئے جگاتا ہے‘‘۔۔وغیرہ
جب ہمارے نبی اکرم علیہ السلام جانوروں کو تکلیف پہنچانے سے منع کرتے ہیں تو کسی انسان کو اذیت ،دُکھ ،تکلیف پہنچانے کی اجازت کہاں دے سکتے ہیں ۔حضرت ؐنے فرمایا : تم میں سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائیدہ پہنچائے ۔اس لئے مسلمان ہونے اور انسان ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ اچھا مسلمان بھی بنے اور اچھا انسان بھی بنے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تم تب تک مومن کامل نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ہر مسلمان بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہواور تم اپنے لئے جو چیز ناپسند کرتے ہو وہ دوسرے مسلمان بھائی کے لئے ناپسند کرو‘‘ ۔(بخاری ومسلم)
انسانیت اور حُسنِ اخلاق کی تمام تعلیمات اور ہدایات کا خلاصہ اسی ایک ارشاد مبارک میں ہے ۔اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان اپنی اخلاقی تربیت اس طرح کرے اور کسی مربی سے اس کی تربیت ،تزکیہ تحلیہ اور تطہیر کرائے کہ یہ وصف ِ عالی اسی میں مکمل یا کسی نہ کسی درجہ میں پیدا ہوجائے۔
اسلامی اخلاق کے لئے پہلا اصول یہ ہے کہ خُلق ِ عظیم کے سب سے اونچے مقام پر فائز واحد ذات ِ اقدس حضرت نبی کریم علیہ السلام کو اپنے لئے اُسوہ اور ماڈل بنائے ۔دوسرے کسی مرشد و مربی سے تربیت لے اور تزکیہ کرائے اور تیسرے اخلاقیات سے متعلق کتابیں پڑھے مگر مطالعہ برائے مطالعہ یا برائے معلومات نہیں بلکہ برائے عمل کرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے اندر یہ تین وصف پیدا کرے،ہر ایک مخلوق خصوصاً انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے،دوسرے یہ کہ کسی مخلوق خاص کر انسان کو کوئی اذیت نہ پہنچائے ،تیسرے ہر مخلوق خصوصاً انسانوں کو اپنی طرف سے جو راحت پہنچا سکتا ہو اور جس معاملے میں جو مدد کرسکتا ہو ،اُس میں کوتاہی نہ کرے۔اگر یہ تین وصف اپنے اندر پیدا کرنے میں کوئی انسان کامیاب ہوگیا اور ان کو اپنی زندگی میں برتنے اور اپنانے کی پابندی کرپایا تو یقیناً اُس کو حُسنِ اخلاق سے آراستہ مومن قرار دیا جائے گا ۔

سوال:۔موبائیل فون (MOBILE) پربات چیت کرتے ہوئے کوئی تشخیص کسی دوسرے کی بات ریکارڈ (record) کرلیتا ہے، تاکہ بعد میں وہ ریکارڈ کی گئی بات اسکے خلاف بطورثبوت استعمال ہوسکے جبکہ بات کرنے والے کو اس ریکارڈنگ کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا کسی کی بات اسکی اجازت کے بغیر ریکارڈکرنا جائز ہے۔
محمد سہیل … بارہمولہ

اجازت کے بغیر موبائل فون پر کسی کی باتیں ریکارڈ کرنا درست نہیں

جواب:۔ دو اشخصاص کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے وہ اگر نجی قسم کی گفتگوہو اور دو میں سے کوئی شخص یہ پسند نہ کرے کہ اسکی یہ بات کسی تیسرے شخص کو معلوم ہو تو ایسی صورت میں دو میں سے کوئی ایک یہ گفتگو دوسرے کو بتائے بغیر ریکارڈ کرے تو یقینا یہ خیانت ہے حدیث میں ہے۔ مجلس بھی امانت ہے۔ یعنی جو گفتگو صرف دو کے درمیان ہو تو اُس کا افشاء کر ناامانت کے خلاف ہے۔ لہٰذا بلااجازت کسی کی گفتگو کو اُس سے پوچھے بغیر محفوظ کرنا ہر گز درست نہیں ہے۔
ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ دو میں سے ایک بات چیت کو محفوظ کرنا مفید یا ضروری سمجھتا ہے۔ مگر دوسرے کی نظر میں ایسا نہ ہو تو اس صورت میں بھی اُس کی بات اس غرض سے ریکارڈ کرنا تاکہ کل کو وہ اُس کے خلاف استعمال ہوسکے۔ یہ بھی درست نہیں ہے۔ ہاں جس بات کے محفوظ کرنے میں کسی کا کوئی حرج یا نقصان نہ ہو اُس کو محفوظ کیا جاسکتا ہے مگر چونکہ وہ دوسرے شخص کی بات ہے۔ اور ہوسکتا ہے اُس کو ناگوار ہو تو اس لئے پہلے اجازت لی جائے۔ پھر اُس کی بات کو ریکارڈ کیا جائے۔


تازہ ترین