تازہ ترین

ٹرانسپورٹ انجمنوں اور حکومت کے مابین تعطل ختم| مسافر کرایہ میں 19فیصد اضافے کا فیصلہ

انتظامی کونسل کی اگلی میٹنگ میں منظوری دی جائیگی،پہیہ جام ہڑتال کال واپس

تاریخ    25 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر حکومت اور ٹرانسپورٹ انجمنوں کے مابین تعطل ختم ہوگیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کرایہ میں19فیصد اضافہ کے اعلان کے بعد ٹرانسپورٹ انجمنوں نے آر پار مجوزہ پہیہ جام ہڑتال بھی ختم کردی ہے۔سرمائی دارالحکومت جموں میں بدھ کوجموں کشمیر ٹرانسپورٹرز ویلفیئر کارڈی نیشن یونین اور فائناشل کمشنر خزانہ ڈاکٹر ارون کمار مہتہ کے درمیان بات چیت کے دوران ٹرانسپورٹ شعبہ اور اسکے ساتھ منسلک لوگوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں کمشنر سیکریٹری جی اے ڈی، کمشنر سیکریٹری ٹرانسپورٹ، منیجنگ ڈائریکٹر روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ، ریجنل ٹرانسپورٹ افسران سرینگر و جموں، شمالی کمان کے نمائندوں کے علاوہ جموں اور کشمیر کے مال بردار ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ یہ میٹنگ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی، جس میں ٹرانسپورٹ یونینوں کے نمائندوں نے کرایہ میں 30فیصد اضافہ کرنے کی تجویز رکھی تاہم حکومت کی نمائندگی کرنے والے افسران اس بات پر راضی نہیں تھے۔
اسکے بعد اس معاملہ اور دیگر مطالبات پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور بالآخر 19فیصد مسافر کرایہ بڑھانے پر طرفین متفق ہوئے۔میٹنگ میں حکومت نے اصولی طور پر یہ بات مان لی کہ مسافر کرایہ میں 19فیصد کا اضافہ کیا جائے۔سرینگر میں بعد میں ٹرانسپورٹ انجمنوں کے مشترکہ اتحادکشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف نے مجوزہ ہڑتال کال واپس لیتے ہوئے اعلان کیا کہ سرکار اور ٹرانسپورٹروں کے درمیان بات چیت کامیاب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کرایہ میں 19 فیصد کااضافے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ محکمہ خزانہ کے فائنانشل کمشنر ارون کمار مہتہ کے ساتھ ایک اجلاس میں کیا گیا ، جو ٹرانسپورٹ کمشنر پر مشتمل فیر اینڈ فریٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس اہم اجلاس میں دوپہر 12بجے سول سیکرٹریٹ جموں میں کمشنر سکریٹری ٹرانسپورٹ ، ہردیش کمار کے علاوہ ٹرانسپورٹ کمشنر ہردیپ کمار اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔
جنرل سکریٹری نے بتایاکہ حکومت اصولی طور پر ہمارے تمام مطالبات پر راضی ہوگئی ہے اور مسافر کرایہ میں19 فیصد اضافے پر اتفاق کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ، ہمارے دو دیگر مطالبات ، لاک ڈاؤن کے دورانیہ میں ٹوکن ٹیکس کی واپسی اور ٹوکن ٹیکس کی چھوٹ کا فیصلہ ٹرانسپورٹ کمشنر سے کیا جائے گا۔انہوں نے تجارتی انجمنوں کی جانب سے ٹرانسپورٹروں کے شانہ بشانہ رہنے اور انکے جائز مطالابات کے حق میں حمایت کے اعلانات پر انکا شکریہ ادا کیا۔کمشنر سکریٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ ، ہردیش کمار نے بتایا کہ محکمہ نے ابھی تک کرایہ میں اضافے کی کسی خاص شرح پر حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے حالانکہ ٹرانسپورٹرز کے حق میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامی کونسل کے آنے والے اجلاس میں کرایہ بڑھانے کی مجوزہ شرح کی تجویز کی منظوری کے بعد اس سلسلے میں ایک باضابطہ حکم جاری کیا جائے گا۔ نجی ٹرانسپورٹروں کی مختلف انجمنوں نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کے پیش نظر کرائیوں میں نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔کشمیر ویلفیئر ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی تھی کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں 80ہزار کے قریب گاڑیاں جن میںہر قسم کی تجارتی گاڑیاں بشمول بسیں ، ٹرک ، ٹینکر ، منی بسیں ، سومو،ٹیکسی، ٹیمو ٹریولرز ، آٹو رکشا وغیرہ ، لکھن پور سے اوڑی تک کسی بھی قسم کی نقل و حرکت نہیں کرینگے۔