تازہ ترین

سٹون کریشروں اور میگڈم پلانٹوں کیلئے ڈبل رجسٹریشن نظام ختم

اب کسی لائسنس کی ضرورت نہیں، حکومت کی جانب سے نو ٹیفکیشن جاری

تاریخ    24 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب جموں کشمیر میں اسٹون کریشروں اور میگڈم (ہارٹ و مکس)پلانٹوں کو چلانے کیلئے لائسنس کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔ سرکار نے اس سلسلے میں نئے ضوابط کی نشاندہی کی ہے۔ جموں کشمیر سرکارنے منگل کو ایک نوٹیفکیشن جاری کی جس کے تحت جموں کشمیر سٹون کریشرز /ہاٹ اینڈ ویٹ مکسنگ پلانٹ ریگولیشن رولز 2021 جاری کئے گئے ۔ان رولزکے تحت جموں کشمیر میں سٹون کریشر ہاٹ اینڈ ویٹ مکسنگ پلانٹوں کو شروع کرنے کیلئے اب لائسنس کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی ۔ سرکار کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے تعمیراتی شعبے میں خام مواد کی سپلائی کو فروغ حاصل ہو گا اور سٹون کریشر ہاٹ اینڈ ویٹ مکسنگ پلانٹوں میں بہتری آئے گی اور جموں کشمیر میں بڑے منصوبوں کی تکمیل میں بھی سرعت واقع ہو گی ۔ پہلے ایسے یونٹوں کی رجسٹریشن کیلئے جیالوجی اینڈ مائننگ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ انڈسٹریز اینڈ کامرس سے رجوع کرنا ہوتا تھا اور ڈبل رجسٹریشن کرانی پڑتی تھی لیکن اس بوجھ کو ہٹایا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کان کنی اور معدنیات کی  دفعہ 15کی سیکشن 23 سی (ترقیاتی اورضابطہ) ایکٹ ، 1957 کے تحت حکومت یہ ضوابط مرتب کر رہی ہے‘‘۔ نئے قواعد کے مطابق سٹون کریشر اور ہارٹ و ویٹ مکسنگ پلانٹ کو معدنیات پر مبنی (خام مال) پروسیسنگ یونٹ کے طور پر پذیر ائی ملے گی،اور یہ معدنیات کی کان کنی کی سرگرمیوں میں ملوث یونٹوں سے مختلف ہونگے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح ، صنعتی اکائیوں کے کام کو باقاعدہ بنانے کی دفعات کا اطلاق ان یونٹوں کو شامل کرنے کے لئے بڑھایا گیا ہے اور ، اس طرح محکمہ کان کنی سے متعلقہ لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت کو ختم کیا جارہا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تاہم ، اگر کسی سٹون کریشر و ہارٹ و ویٹ مکسنگ پلانٹ معدنیات کی کان کنی کو ایک اضافی سرگرمی کی حیثیت سے شامل کرتا ہے، تو اس صورت میں کان کنی صنعتی اکائیوں پر لاگو قوانین کے ذریعہ  اس پر عمل کیا جائے گا۔ سرکار کی جانب سے جاری کی گئی نوٹیفکیشن میں کہا گیا  ہے کہ یہ قوانین معدنیات پروسیسنگ یونٹوں پر لازمی قرار دیتے ہیں کہ وہ کان کنی کے محکمے میں رجسٹرڈ معدنیات کی خریداری کریں،جبکہ محکمہ کو ایسے یونٹوں کا معائنہ کرنے ، خام مال کے ذرائع کا پتہ لگانے اور غیرقانونی طور پر اس کے اخراج کرنے والے معدنیات کو ضبط کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ قواعد ضوابط کی منظوری اورین او سی کو محض دو دستاویزات میں کمی کرکے یونٹ کے قیام کے عمل کو آسان بنا دیتے ہیں ،یعنی آلودگی کنٹرول بورڈ (پی سی بی) سے کام کرنے کے لئے رضامندی (سی ٹی او) اور اراضی کے عنوان سے متعلق متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے این او سی جموں و کشمیر پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ ، 2011 کے تحت لایا گیا ہے جس میں یہ دستاویز 30 دن میں جاری کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔صنعتی یونٹ حکومت کی سرپرستی میں ملنے والی متعدد اسکیموں کے تحت فوائد حاصل کرنے کے لئے صنعت آدھار رجسٹریشن کے ذریعہ محکمہ صنعت و تجارت کے ساتھ رضاکارانہ طور پر اندراج کا انتخاب کرسکتے ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے کاروباری افراد کو دوہری رجسٹریشنوں کا بوجھ ہٹانے سے بڑی راحت ملتی ہے جس میں یونٹ ہولڈروں کو محکمہ صنعت و تجارت کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن ولائسنسنگ کے سخت طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے۔