تازہ ترین

ٹرانسپورٹ انجمنیں بات چیت کیلئے مدعو

مکمل پہیہ جام ہڑتال مؤخر، آج میٹنگ میں حتمی فیصلہ متوقع

تاریخ    24 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// ٹرانسپورٹ انجمنوں نے بدھ سے شروع ہونے والی مکمل پہیہ جام  ہڑتال ایک دن کیلئے موخر کردی ہے۔ ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ کے فائنانشل کمشنر کے ساتھ آج بدھ کو ہونے والی میٹنگ کے بعدآگے کا فیصلہ لیا جائے گا۔ سرینگر اور جموں نشین ٹرانسپورٹ انجمنوں نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کے باوجود مسافر کرائیوں میں اضافہ نہ کرنے اور ٹرانسپورٹ ٹیکسوں میں اضافے کی منسوخی کے حق میں24فروری کو ٹنل کے آر پار ٹرانسپورٹ سروس کو غیر معینہ عرصے کیلئے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم منگل کوٹرانسپورٹ لیڈروں اور انتظامیہ کے درمیان میٹنگ کے بعد ٹرانسپورٹ انجمنوں کے نمائندوں نے  ہڑتال کو ایک دن کیلئے موخر کرنے کا اعلان کیا۔کشمیر پسنجر ویلفیئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ منگل کو ٹرانسپورٹ انجمنوں کے نمائندوںاور کمشنر ٹرانسپورٹ پردیپ کمار کے ساتھ میٹنگ منعقد ہوئی،جس کے دوران ٹرانسپورٹ لیڈرشپ نے اپنے مسائل اور مطالبات حکام کے سامنے رکھے۔انہوں نے کہا’’ میٹنگ کے دوران  ٹرانسپورٹروں کے مطالبات کو اصولی طور پر تسلیم کیا گیا‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ بعد میں یہ طے پایا گیا کہ بدھ کو فائنانشل کمشنر فائنانس ڈاکٹر ارن کمار مہتہ کے ساتھ ٹرانسپورٹ لیڈرشپ کی میٹنگ کا ایک اور رائونڈ ہوگا،جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بدھ کو فائنانشل کمشنر ارون کمار، کمشنر سیکریٹری ہردیش کمار اور ٹرانسپورٹ کمشنر کیساتھ سیول سیکریٹریٹ جموں میں دن کے 12بجے میٹنگ ہوگی۔انہوں نے کہا ’’ ہم نے ہڑتال ختم نہیں کی بلکہ اسے ایک دن کیلئے موخر کیا گیا‘‘۔ انکا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹر اپنے پروگرام کے مطابق جارہے تھے لیکن جموں کشمیر انتظامیہ نے بات چی کیلئے مدعو کیا، اس لئے حکومت کیساتھ بات چیت کی غرض سے پروگرام کو موخر کرنا پڑا۔ شیخ محمد یوسف نے کہا کہ سال2018میں اس وقت کرائیوں کو طے کیا گیا جب ڈیزل کی قیمت59روپے تھی اور تب سے لیکر اب تک ڈیزل میں25روپے کا اضافہ کیا گیا اور کرائیوں کا کوئی بھی جائزہ نہیں لیا گیا۔انکا کہنا تھا کہ کورونا وائرس مدت کے دوران اگرچہ کرائیوں میں اضافہ کیا گیا تاہم بعد میں وہ فیصلہ بھی واپس لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹر نہ صرف کرائیوں میں اضافہ سے متعلق جائز نظر ثانی چاہتے ہیں، بلکہ ٹوکن ٹیکس کو واپس کرنے کا مطالبہ بھی ہے جسے دوگنا کردیا گیا ہے، نیز ان ٹرانسپورٹروں کیلئے مالی پیکیج دینے کا مطالبہ کررہے ہیں  جن کی گاڑیاںجو کورونا لاک ڈائون کے دوران  بند پڑی رہیں۔ شیخ محمد یوسف نے کہا’’5اگست کے حالات کے مابعدکورونا کی صورتحال پیدا ہوئی اور بیشتر مال و مسافر بردار گاڑیاں کھڑی رہیں۔انہوں نے کہا کہ حکام اس کے باوجود ٹرانسپورٹروں سے نہ صرف اس مدت کا ٹیکس وصول کر رہے ہیں بلکہ تاخیر سے ادائیگی کا فیس بھی وصول کر رہے ہیں۔ادھر ڈپٹی کمشنر سرینگرڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے منگل کو ٹرانسپورٹرز کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے حقیقی مطالبات کے جلد از جلد اور عملی حل کے لئے تیار ہے۔ایک خصوصی اجلاس میںانہوں نے ٹرانسپورٹروں سے ملاقات کی جس میں ڈی سی نے ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ مختلف انجمنوں کے سربراہوں کو یقین دلایا کہ ان کے حقیقی مطالبات اعلی حکام کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور ایک مقررہ مدت کے اندر اندر ایک قابل عمل حل تلاش کیا جائے گا۔