تازہ ترین

کشمیری زبان| ہماری آن ،بان اور شان

لسانیات

تاریخ    24 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
ہم کشمیر میں پیدا ہوئے ہیں تو کشمیری بن گئے۔کشمیری ہونے کا مطلب ہماری زبان کشمیری ہے یعنی ہم کشمیری بولنے والے ہیں۔یہی ہماری اصل پہچان ہے اور ہم اس پہچان کو کھو نہیں سکتے۔کیونکہ پہچان کھونے کا مطلب وجود کھونا ہے۔ہم کہیں بھی جائیں یا کوئی اور زبان بولیں ہماری پہچان کشمیر سے ہے اور ہم کشمیری ہی کہلائیں گے۔انگریزی بولنے سے ہم انگریز نہیں بن سکتے اور پنجابی بولنے یا سننے سے ہم پنجابی نہیں بن سکتے۔ہم چاہیے کشمیری بولیں یا نہ بولیں دونوں صورتوں میں ہم کشمیری ہی رہیں گے۔دنیا کے نقشے پر کشمیر واحد جگہ ہے جہاں لوگ اپنی مادری زبان بولنے سے شرم محسوس کرتے ہیں۔حا لانکہ یہ زبان ہماری نس نس میں ودیعت ہے۔ اس کی جگہ دوسری زبانیں ودیعت نہیں ہوسکتی ۔اس کے باوجود ہم بچوں میں دوسری زبانیں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہمارے بچے اس کشمکش میںہیں کہ ہماری مادری زبان کیا ہے اردو ،ہندی ،پنجابی یا انگریزی ؟ اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہماری بچے ہم سے پوچھیں گے کہ ہماری مادری زبان کیا ہے۔یقین مانئے ہم اردو ،ہندی ،انگریزی یا کسی اور زبان کا نام نہیں لیں گے بلکہ شرمسار ہو کر کشمیری زبان کا نام لیں گے۔تب وہ ہم س ایک اور سوال پوچھیں گے "مجھے کشمیری بولنا کیوں نہیں آتا ؟"
کشمیری بولنا شرم کی بات نہیں ہے بلکہ فخر کی بات ہونی چاہئے۔اس میں حقارت نہیں غرور ہونا چاہیے۔جس بھومی پر ہم نے جنم لیا ہے اور جس بھومی کو جنت کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جہاں رہنا ہمیں پسند ہے وہاں کی زبان سے یہ سلوک کیوں ؟ اس پر غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم شیخ نورالدین کو اپنا بزرگ تو مانتے ہیں ،لل دید کی مثالیں تو دیتے ہیں ،حبہ خاتون کے اشعار تو پڑھتے ہیں۔شمس فقیر ،سوچھ کرال جیسے بزرگوں کی صوفیانہ شاعری سنتے ہیں لیکن ان کی زبان کو نہ صرف سمجھنے سے قاصر ہیں بلکہ پڑھنے اور پڑھانے سے بھی عاری ہیں۔یہ اپنے وجود سے عداوت ہے اور اپنی پہچان سے غداری۔ جس سر زمین پر ہمارے جدو اجداد نے جنم لیا اور تہذیب وتمدن اور ثقافت کی پہریداری کی۔آج ہم اسی کلچر سے دور بھاگے جارہے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ ہماری بیحسی اور بیرخی کا عالم یہ ہے کہ آج سے کئی سال پہلے کشمیری زبان کو اسکول کے نصاب میں شامل کیا گیا لیکن بدقسمتی سے اس زبان کو صرف سرکاری اسکولوں تک ہی محدود رکھا گیا۔ہمارے نجی اداروں نے اس زبان کو سکھانے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی۔اٹھاتے بھی کیسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا۔رہے گورنمنٹ اسکول تو وہاں اس کتاب پر کوئی زور نہیں دیا گیا کیونکہ امتحانات میں اس کتاب کا پاس فیل ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اس طرح اس درخت کے تنے کو اپنے ہی کیڑوں نے کمزور کیا۔دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم نے کبھی نہ اس پر زور دیا اور نہ ہی کبھی کوشش کی کہ ہماری زبان کو نکھار ملے۔
ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ مادری زبان  سے انسان جذباتی طورپر منسلک ہوتاہے اگر کوئی شخص اس زبان کو چھوڑ کر کسی دوسری زبان کو مادری زبان بنالے تو اس صورت میں وہ ذہنی طورپر تو زندہ رہ سکتاہے مگر جذباتی لحاظ سے مفلوج ،بنجر اور سپاٹ ہوجائے گا۔اگر جزبات کو عروج نہ ملے تو انسان بیحسی کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنے ماضی سے ناواقف رہتا ہے۔زبان اور انسانی تمدن کا گہرا تعلق ہے بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں۔مادری زبان سے افہام و ادراک کی نشوونما سب سے تیز اور موثر ہوتی ہے۔ مادری زبان پر عبور ہونے کے بعد ہی دوسری زبانیں سیکھنے میں آسائش ہوتی ہے۔
انسان کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے بچہ اپنی ماں سے گود میں جو بھی باتیں سیکھتا ہے وہ عمر بھر اس کے ذہن میں پختہ رہتی ہیں اور اس کے اثرات بچے کے ذہن پر نقش ہوکر پختہ ہوجاتے ہیں مادری زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ حالات، پس منظر تہذیب اور ثقافت اور ان کی روایات پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتاہے۔ زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے مادری زبان کی تراکیب انسان کی زبان کے علاقائی پس منظر کا اندازہ لگانے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہیں۔
عالمی سطح پر بچہ کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیئے جانے کا انتظام ہوتاہے جس کی اہم وجہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان عام فہم اور زود اثر تفہیم کاتعلق پیدا کردیتے ہیں۔ مادری زبان اگر بچے کا ذریعہ تعلیم ہوتو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پذیر رہتی ہے۔کیا ہماری مادری زبان ترقی پذیر ہے ؟ نہیں ،بالکل بھی نہیں بلکہ ہماری مادری زبان زوال پزیر ہے۔ہم اپنے بچوں کو مادری زبان بولنے سے ٹوکتے ہیں اور دوسروں پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے بچے جدید طرز کے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اسی لئے انہیں کشمیری نہیں آتی اور نہ ہی ہم نے ان کو کشمیری سکھائی ہے۔یہیں سے مادری زبان کا زوال شروع ہوتا ہے۔یہ کتنی بڑی نادانی ہے کہ ہم دوسری زبانوں کی آبیاری تو کرتے ہیں لیکن اپنی زبان کی جڑیں کاٹتے ہیں۔حالانکہ ہماری آن بان ،شان و شوکت اور پہچان ہماری اپنی زبان میں ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنے چارٹر میں طے کردیا ہے کہ بچے کی ا بتدائی تعلیم اس کی مادری زبان کے ذریعہ سے بچے کا حق ہے۔ ماہرین تعلیم، تحقیقاتی اداروں اور اہل علم اور دانشوروں نے بچے کو تعلیم دینے کا جو طریقہ بتلایا ہے وہ یہ ہے کہ معلوم سے نامعلوم تک سفر کے اصول کو رہنما بنایا جائے۔ ایک انسان جب اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلے لیکن جب وہ کسی مسئلہ پر اپنے ذہن کو حرکت دے کر سوچتا پرکھتا اور اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس وقت صرف اور صرف اپنی مادری زبان کے سہارے ہی یہ کام کرتاہے۔ دوسری زبانیں بولنے میں محنت لگتی ہے۔الفاظ ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔گرائمر کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے اور سمجھنے کے لئے بہت ساری ڈکشنریوں کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔اس کے برعکس اپنی زبان خود بخود آجاتی ہے۔جو قوم مادری زبان نہیں بولتی وہ قوم صفحہ ہستی سے نابود ہوجاتی ہے۔یقینا ً ہمارے ساتھ یہی ہونیوالا ہے اگر ہم نے آج سے ہی اس کی آبیاری نہیں کی۔
نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں پرائمری سطح تک تعلیم کو مادری زبان میں دینے پر زور دیا گیا ہے۔یہ ایک امید کی کرن ہے جس سے ہماری مادری زبان کشمیری کو تقویت ملے گی بشرطیکہ کہ ہم اس کے من و عن عملانے پر دھیان دیں اور تمام اسکولوں میں اس کو رائج کرانے کی کوشش کریں۔کشمیریت کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کشمیری زبان کو نکھاریں اور اپنائیں۔
اپنی توراریخ کو فروغ دینے سے ہمارے بچوں کی صلاحیتوں کو ابال ملے گا۔ بچوں کو کشمیری بولنے بھی دیں اور سیکھنے بھی دیں۔اس کو عار نہ سمجھیں اور نہ ہی شرمندگی۔ہم بہاری ،بنگالی اور پنجابی زبانوں کو ترجیح دے کر اپنے تہزیب و تمدن کو تباہ کر رہے ہیں۔
ہمیں ڈاکٹر اقبال کے کشمیری نصب پر فخر ہے لیکن خود کشمیری ہونے پر نہیں۔آئو مل کر کشمیری زبان کو فروغ دیں اور اپنی پہچان کو بچا کے رکھیں۔ ہم چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں وہاں بھی کشمیری لفظ ہماری پہچان بنے گا۔اس وسیع وعریض کائنات میں ہزاروں قومیں آباد ہیں۔ ایک قوم کی بھی نشان دہی نہیں کی جاسکتی ہے جس نے غیر مادری زبان میں تعلیم کے ذریعہ ترقی اور عروج کی منزلیں طے کی ہوں۔
پتہ۔ قصبہ کھْل ،کولگام کشمیر
������