تازہ ترین

خاموشی

دنیائے فلسفہ کی ایک مؤثر زبان

تاریخ    24 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
فلسفۂ ’حقیقت‘ کے بانی سقراط سے قبل یونان میں کوئی باقاعدہ مذہب وجود نہیں رکھتا تھا مگر یونانی مفکرین کی بھاری تعداد کسی نہ کسی طرح اس بات کی معترف تھی کہ عقل ِ انسانی بغیر تائید ایزدی کے چیزوں اور کائنات کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ البتہ ان کے ہاں وحی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ تاہم قدیم یونانیوں کے ہاں مادی حیات کے علاوہ کئی عقائد کا تذکرہ ملتا ہے جو نفس اورعقل کے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں اورجس کو فلسفہ دانوں نے سقراط کی ’حقیقت‘ سے تعبیر کیا ہے۔فلسفے میںاس’ حقیقت ‘ تک پہنچنے کیلئے درجہ بندی بھی ملتی ہے جسے طے کرنے کے بعد انسان اُس عروج کو پہنچتا ہے جس کی اُسے طلب ہوتی ہے اور جہاں ’حقیقت‘ واشگاف صورت میں اُس کے سامنے آشکاراآجاتی ہے۔
 لیکن الفاظ کی دنیا میں’ حقیقت ‘کے لغوی معنی سچائی ہے جس کو جاننے کیلئے عام لوگوں کو کسی فلسفی کے در پر جانے کے بجائے اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔مہذب دنیا میںعام لوگوں کو حقائق جاننے کا حق دیا گیا ہے، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کوئی ممنوعہ شے نہیں ہے جس کو رکھنے کی پاداش میں قانونی کارروائی کا خطرہ ہو، یہ کوئی ایسی غیبی طاقت بھی نہیں ہے جس کے حصول کی پاداش میں لوگوں کو زیر عتاب لایا جاسکے ۔حالات و واقعات کی حقیقت، تاریخی حقائق، سماج میں تبدیلی لانے کیلئے اقدامات کے حقائق ، لوگوں کو یہ ساری چیزیں جاننے اور ان کی اصلیت کا علم رکھنے کا حق حاصل ہے ۔اگر کسی سماج، کسی بستی، کسی ملک، کسی خطے کے اندر حالات اس قدر سنگین ہیں کہ مذکورہ حالات کواپنے حق میں کرنے کیلئے کچھ اقدامات ناگزیر ہوں تو لوگوں کو ایسا کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ اُنہیں اس بات کا بھی حق ہے کہ وہ اپنے لئے مخصوص صورتحال کا انتخاب کرکے اپنی زندگی اپنے طریقے سے جینے کا فیصلہ کریں۔ لوگوں کے اس حق پر اگر ’ملکی یاقومی مفادات‘ کی روک لگ جائے تو یہ اس حق پر شبخون کے مترادف ہے، کیونکہ جب کسی سماج کے باشندے اپنے حالات میں تبدیلی کے خواہاں ہوں تو یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ اتنا شعور ضروررکھتے ہیں کہ اُنہیں اپنے حالات اُنکے حق میں نہیں لگتے ہیں۔اس کا براہ راست معنی یہ بھی ہوتا ہے کہ تبدیلی کے خواہشمند لوگوں کا اپنے حق میں بہتر سوچنے کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ اُن کی سوچ دوسروں کے  مفادات کے خلاف ہی ہو، اس لئے اُن کیخلاف’ ملکی اورقومی مفاد‘ کی اصطلاح کا استعمال ہی غلط ،بلکہ غیر منطقی ہے کیونکہ دوسروں کو زبردستی اپنے ملک اور اپنی قوم کے ساتھ جوڑنا ہی باطل سوچ ہے اور اسی سوچ کی وجہ سے دوسرے اپنے بارے میںالگ سے سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ 
لفظ’ فلسفہ‘ یونانی الفاظ کی عربی صورت ہے۔ اس کو حکمت کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے جس کا استعمال سب سے پہلے پیتھا گورس نامی قدیم فلسفی نے کیا۔پیتھا گورس کے مطابق حکمت کے کئی مدارج ہیں جن میں سب سے اعلیٰ و ارفع وہ ہے جس کی منزل حق یعنی ’حقیقت‘ تک پہنچنا ہے۔ارسطو کے سامنے حکمت صرف خالق حقیقی کیلئے مخصوص ہے۔عام انسانوں کیلئے یہی درجہ کمال ہے کہ وہ حق سے محبت رکھیں اور یہ محبت محض علامتی نہ ہو بلکہ جب بھی موقع ملے اس کا اظہار کریں کیونکہ اظہار حق انسانی کمال کا وہ عروج ہے جہاں تک پہنچ کر ہی انسان ،انسان کہلاتا ہے۔بصورت دیگر کھانا پینا، سونا جاگنا،دولت کمانا اور جدید سہولیات سے آراستہ زندگی گذارنا ہر گز کسی کو یہ سند عطا نہیں کرتا ہے کہ وہ ایک بہتر انسان ہے۔اگر ہم کسی نہ کسی طریقے سے اظہار حق نہیں کرتے ہیں بلکہ ایسا کرنے سے گھبراتے ہیں تو ہم ناحق کو تسلیم کرنے کی بھی غلطی نہ کریں ،ناحق کو حق کے ہم پلہ نہ پہنچائیں یا اس کے حق میںگھبرا کر یا اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرمیاں انجام نہ دیں۔ ایسا کرکے ہم انسانیت کے درجات سے آہستہ آہستہ گر گر اُس پستی تک پہنچ جاتے ہیں جہاں محض چند مادی خصائل کو چھوڑ کر ہم انسانیت سے ہی الگ ہوجاتے ہیں۔ایک مفکر کا قول ہے’’ اگرحق کہنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہو تو باطل کیلئے تالیاں بھی مت بجائو‘‘۔
 فلسفہ بجا طور ایک نہایت عمیق مضمون ہے جس کے ذریعے انسانی عقل کئی وسعتوں کی سیر کرلیتی ہے، لیکن کم فہم لوگوں کا خیال ہے کہ ہر وہ بات جو انوکھی ہو، عجیب ہو یا تضادات سے بھر پور ہو، فلسفی کہلاتی ہے۔حالانکہ فلسفہ حکمت ہے جس کا حصول انسان کا درجہ کمال کہلاتا ہے۔اس کی زبان پیچیدہ نہیں بلکہ محبت سے بھری ہے جس کے ذریعے علم کائنات کے راز وں سے پردے اُٹھائے جاتے ہیں۔
امر واقع بھی یہی ہے کہ جب یونانیوں کی فلسفیانہ تصانیف کا ترجمہ باقی زبانوں، خاص کرعربی میں ہوا تو دیکھا گیا کہ یہ ایک ایسا طرزِ فکر ہے جس کا تعلق حکمت سے ہے۔ عرب کیلئے چاہے وہ کسی دور سے تعلق رکھتی ہو، حکمت ایک خاص اور ممتاز مقام رکھتی ہے کیونکہ عرب کا تعلق براہِ راست دانائی سے رہا ہے ۔دنیا کے عظیم فلسفیوں کا اتفاق ہے کہ حق تک پہنچنے کیلئے تین راستے ہیں:عقل،وجدان اور وحی۔ایک فلسفی   فرماتے ہیں’’فلسفہ حقیقت کو جاننے کا علم ہے ، فلسفی کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے نظری علم میں حق تک پہنچے اور عملی طور پر اس حق سے مطابقت پیدا کرے‘‘۔
اس تمہید طولانی بلکہ تمہید فلسفیانہ کا مقصد اس بات کی وضاحت کرنا ہے کہ انسان کے ذمہ جو کام سونپا گیا ہے اور جس کو عقلی حمایت بھی حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت انسان حق کی وکالت کریں۔اب جو ہمارے اندر حق کی وکالت کی جرات یا زیادہ صلاحیت نہ رکھتا ہو ، اُسے چاہئے کہ خاموشی اختیار کرے۔خاموشی کو بھی فلسفے میں ایک زبان کی حیثیت حاصل ہے، جو اتنی اثر دار اور کبھی کبھی اتنی زور دار ثابت ہوتی ہے کہ علم الکلام رکھنے والا شخص بھی مات کھاجاتاہے۔ خاموشی بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔اول جو مصلحتاً اختیار کی جائے اور دوم جو زبردستی  نافذ کی جائے۔اولذکر خاموشی تو اظہار کا ہی ایک طریقہ ہے لیکن آخرلذکر میںخاموش رہنے کی چھوٹ اُسی حد تک ہے جب تک آپ کی خاموشی سے حق اور ناحق کے درمیان فرق کم نہ ہو اور ایک دوسرے کے قریب نہ پہنچیں، یعنی ان کے پلڑوں میں زیادہ فرق نہ رہے۔بے شک کبھی کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ حق کی کھل کروکالت ضررپہنچاسکتی ہے، ایسے حالات میں بھی خاموشی ہی بہترین طریقہ ہے ،لیکن وہ خاموشی اختیار کرنے میں عقل کا عمل دخل بڑھ جاتا ہے تاکہ انسان اپنا وقار بھی نہ کھوئے اور اُس کے مقام کو بھی زک نہ پہنچے، نیز اُس کے ساتھ اُس کے معاشرے نے جو توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، یا جو فی الواقع اُس کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں، کو بھی ٹھیس نہ پہنچے۔یہ عقل بنیادی طور پر سوچنے سمجھنے اور علم حاصل کرنے کی صلاحیت کا نام ہے مگر اس کابہت گہرا تعلق ارادے اور عمل سے ہے۔ انسان جس قدر بھی عقل کی باتوں کو اپنے عمل میں ڈھالے گا اسی قدر اس کی یہ صلاحیت قوی تر ہوتی جائے گی۔فکری فلسفے میں عقل کا تعلق ایک طرف تو حصولِ علم سے ہے اور دوسری طرف عمل سے۔اس طرح علم اور عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، ایک لازم تو دوسرا ملزوم ہے۔
فلسفے میں اُلجھے بغیر دیکھا جائے تو انسانیت کے درجات حاصل کرنا کچھ زیادہ دشوار بھی نہیں ہے۔ ان کو ہم اپنے اپنے پیشے کا دیانتدارانہ استعمال کرکے بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔انسان اپنے پیشے کے دائرے میں رہ کر سرگرمیاں انجام دے تو وہ دیانتدار کہلاتا ہے اور دیانتداری ایک اعلیٰ و ارفع صفت ہے۔دیانتداری سے اپنا کام انجام دینا ایک بہت بڑی بات ہے۔اس دیانتداری کا دامن ہمیں اپنی نجی زندگی میں بھی تھامے رکھنا چاہئے ۔ ایک دوسرے کے ساتھ معاملات انجام دینے کا وقت ہو یا سماج میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا، دیانتداری کا رویہ اختیار کرنے سے ہی ایک فلاحی انسانی سماج کی تعمیر ہوتی ہے۔