تازہ ترین

آئینہ ٹوٹ گیا

افسانہ

تاریخ    21 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


شاہینہ یوسف
ہماری خوشیوںکو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔آئے دن نہ جانے یہاں کے حُسن کو کون سا آسیب کھائے جا رہا ہے۔ایک آدمی دیو ہیکل سا دوسرے سے مخاطب ہوکر کہہ رہا تھا۔ارے بھائی ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں اور آگے چل رہے ہیں، اب اس سے بڑھ کر زندگی گزارنے کے لیے اور کیا ہونا چاہیے۔دراصل کل گلی میں جس دس سالہ بچی کی لاش برہنگی کی حالت میں برآمد ہوئی اُس کے ساتھ پیش آئے واقعہ نے میرے ذہن کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ پہلا آدمی پھر سے کہنے لگا۔تب سے میں بے حد پریشان ہوں۔ان دونوں اشخاص کی گفتگو سے کچھ لمحہ کے لیے قرۃ اور آئینہ بھی اس مسئلے پر غور وخوض کرنے لگے لیکن کچھ ہی مدت کے بعد یہ دونوں اپنی ہی دنیا میں پھر سے مست ہوگئیں۔ارے دیکھو کیسی لڑکیاں ہیں؟ ۔اپنا اپنا ضمیر۔۔ خیر چھوڑو۔قہقہ لگا کر آئینہ اور قرۃ وہاں سے رفو چکر ہوگئیں۔قرۃ اور آئینہ بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ساتھ اسکول جانا، ساتھ کھانا پینا ایک ہی رنگ کے کپڑے پہننا،یہاں تک کہ ان کی شکل و صورت بھی کسی قدر ایک جیسی تھی۔کبھی کبھی قرۃ اس سے کہتی کہ آئینہ اگر تو لڑکا ہوتی تو بخدا میں تجھ سے ہی شادی کرتی۔ جب یہ دونوں سہیلیاں پہلی بار ایک دوسرے کے روبرو ہوئیں تھیں تب اسکول کا پہلا دن تھا۔دراصل اسکول کا پہلا اور آخری دن ایک جیسا ہوتا ہے۔ پہلے دن اسکول نہ جانے کے لئے ایک بچہ اشک بہاتا ہے۔اسی طرح آخری دن اسکول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکلنے کے فعل پر وہ آنسوں بہاتا ہے۔تم ایسا نہ کرو؟ آنسوں نا بہاؤ‘قرۃ کے یہ الفاظ آئینہ کے ذہن میں اب تک نقش پا تھے۔
آج تم کن خیالوں میں ڈوب کرمجھے نظر انداز کر رہی ہو۔آئینہ نے سخت لہجے میں قرۃ سے سوال کیا۔ارے نہیں ۔۔۔وہ میں ۔۔۔۔وہ میں کل کے امتحان کو لے کر تھوڑی پریشان تھی۔سوچو قرۃ اگر ہم کبھی ایک دوسرے سے الگ ہوئے تو تم کیا کرو گی ؟ میں اپنی زندگی کا آئینہ توڑ دوں گی اور کبھی آئینہ نہیں دیکھوں گی۔دونوں قہقہ مار کر چل پڑیں۔ارے راستہ آگیا۔اب ہم دونوں الگ ہوگئے کل تک کے لیے۔آئینہ کے گول چہرے ،نیلی آنکھوں میں اداسی اس طرح پیوست ہوگئی جیسے یہ دونوں سہیلیاں سچ مچ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئیں۔
دوسرے روز قرۃ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اسکول جانے سے قاصر رہی۔ارے فون بج رہا ہے۔ندیم کہاں ہو تم؟ماں کے یہ الفاظ سن کر قرۃ نے بھی چہرے سے رضائی ہٹا کر ندیم کو آواز دی۔۔۔ کہاں ہو ندیم ؟ جی دیدی آرہا ہوں۔دراصل میں کل اسکول میں منعقد ہونے والے پروگرام کی تیاری میں مصروف تھا۔یہ وہی پروگرا م ہے نا جو تین سالوں سے ملتوی ہو رہا ہے۔۔۔ قرۃ نے پوچھا۔ ہاں ہاں دیدی بالکل وہی ہے۔ٹیچر کہہ رہی تھی کہ اگر اس بار اللہ نے چاہا تو یہ پروگرام اس سال ضرور منعقد ہوگا۔۔۔۔۔ہا ہا ۔۔کیا ہوا دیدی ۔مطلب ہمارا چاہنا ہی اتنا کافی نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ ہمارے فیصلے میں رب کی رضا بھی شامل ہو۔۔۔۔جاؤ جاؤ مجھے باتوں میں نہ اُلجھاؤ۔دیکھو کس کا فون بج رہا ہے۔دیدی اُس نے تو فون رکھ دیا۔۔۔ندیم یہیں سے فون ملاؤ کیوں کہ کوئی کئی بار فون کر رہا تھا،شاید کسی کو کوئی کام ہوگاکیوں کہ فضول میں کوئی اتنے فون نہیں کرتا۔ٹھیک ہے دیدی جیسا آپ کا حکم ۔ْ ۔ندیم نے واپس فون کر کے پوچھا کون ہو؟جی میں ہوں ندیم ۔ ۔جی آئینہ دیدی بولئے۔ قرۃ دیدی سے کہنا مجھے فون کریں۔ ٹھیک ہے میں اُن سے کہہ دوں گا۔دراصل دیدی کی طبیعت ناسازگار تھی تبھی اُنہوں نے فون نہیں اٹھایا۔کیا بات ہے اُن کو ،وہ د راصل اُن کو بخار ہے ،چلو ممی کو میرا پیار دے دینا اور دیدی کو یاد سے فون کرنے کو کہنا۔اچھا دیدی اللہ حافظ۔کس کا فون ہے قرۃ نے فون رکھتے ہی ندیم سے پوچھا۔وہ آئینہ دیدی کا فون تھا ۔انہوں نے آپ کو فون کرنے کو کہا ہے۔ ٹھیک ہے میں کروں گی۔
ممی یہ کن کے بچے رو رہے ہیں۔میں خود باہر جاکے دیکھ لیتی ہوں۔۔۔۔قرۃ جوں ہی باہر نکلی تو اسے پڑوسیوں کی باتیں سنائی دیں۔۔۔۔یہ آخری سو رپے ہیں۔ہمسائیوں کے گھر سے آوازیں آنے لگی۔اس سے پہلے حامد کیسے بھی کر کے گھر کا خرچہ چلا لیتا تھا۔لیکن جب سے وہ گھر سے اچانک رفو چکر ہو گیا ، گھر کا چراغ ہی جیسے بجھ گیا۔اماں ابو کہاں گئے،ان پڑوسیوں کی ننھی جان ماں سے مخاطب ہو کر بولی۔آپ کہتی ہیں نا کہ گھر میں بتائے بغیر کہیں نہیں جانا چاہیے،پھر ابو کیوں بغیر بتائے چلے گئے۔کیا نصیحت کی باتیں صرف چھوٹوں پر ہی لاگو ہوتی ہیں ۔۔۔اس ننھی جان کے الفاظ سن کر میرے منہ میں جیسے زبان نہ رہی۔۔۔۔سارے بچوں کے پاس نئی نئی چیزیں ،نئے نئے کھلونے ہوتے ہیں ۔ہمارے پاس کیوں نہیں ہیں امی؟۔۔۔ارے اتنے سارے سوالات ۔اس ننھی بچی کی والدہ نے اتنے سارے سوالات کا صرف یہ چھوٹا سا جواب دیا ۔میں نے اپنے قدم آگے بڑھائے کیوں کہ مجھ سے اتنی تلخ حقیقتیں برداشت نہیں ہو رہی تھی۔میں بھی فضول میں باہر نکلی۔ اُلٹامیرے ذہن میں کئی اور طرح کے سوالات نے جنم لیا۔ان بچوں کی ماں صرف اور صرف پینتیس سال کی تھی۔اس عمر میں تو ایک عورت کو سمیٹنے کے لیے مرد سے بڑا ہتھیار کوئی نہیں ہوتا،لیکن ۔۔۔۔لیکن یہ کیسے بغیر اپنے ہمسفر کے اس کٹھن دہلیز کو پار کرتی ہوگی،خدا یا رحم۔کیا ہوا قرۃ تمہارے چہرے پر بارہ کیوں بجے ہے ؟کچھ نہیں اماں وہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا تبھی،چلو سوجاؤ شام تک بہتر ہوجاؤگی۔
صبح بیدار ہو کر قرۃ اسکول جانے کے لیے تیار ہوگئی تو حسبِ معمول اسکول سے پہلے آخری پندرہ منٹ وہ ٹی وی دیکھنے بیٹھ گئی۔ چینل تبدیل کرتے کرتے اُس کی آنکھیں اور کان دونوں اس خبر پر دھرے کے دھرے رہ گئے’’یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جاتی ہے کہ ماڈل پبلک اسکول کی گاڑی پر آج نامعلوم افراد نے گرینیڈ پھینکا جس کی وجہ سے دس بچے موقعے پر ہی جان بحق ہوگئے اور باقی پندہ بچے زخمی ہوگئے جنہیں مقامی اسپتا ل لے جایا گیا۔‘‘ کاش میری آئینہ فوت شدہ بچوں کی لسٹ میں نہ آتی ،قرۃکے دل سے یہ آواز بے ساختہ نکل گئی،لیکن کہاں ہر وقت انسان کی مرضی چلتی ہے ۔کچھ فیصلے اللہ کی مرضی کے محتاج ہوتے ہیں۔چاہنے میں اور ہونے میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔امی آپ یہاں آئے۔کیا ہوا قرۃ ۔۔۔وہ آپ خبر سنیے دیکھئے کیا ہوا ہے۔خبر سنتے ہی ماں کا جواب آیا۔۔بیٹا صبر کرو آئینہ ٹھیک ہوگی۔ماں اگر آئینہ کو کچھ ہوا تو میرا کیا بنے گا۔۔۔۔میرا کیا بنے گا۔ارے بیٹا ایسا نہیں کہتے۔۔۔اتنے میں قرۃ کی نظر زمین پر پڑی ایک لاش پر پڑی جس کی کلائی سفید چادر سے ذرا باہر آگئی تھی۔اس ہاتھ پر وہی دھاگا تھا جو قرۃ نے اپنی دوستی کی نشانی کے طور پر پچھلے سال آئینہ کی کلائی پر باندھا تھا۔اتنے میں کسی نے اس لاش کو اٹھا نے کی کوشش کی۔ جوں ہی اس سے اٹھایا گیا اس کے چہرے سے سفید چادر از خود نیچے سرک گئی ۔قرۃ لاش دیکھ کے حواس باختہ ہوگئی کیوں کہ اب اُس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔وہ چیخنے چلانے لگی ،مگر بے سود۔ اگر چیخنے چلانے سے حقیقت تبدیل ہوجاتی تو شاید آج دنیا میں اتنے سارے ہنستے چہرے نہ ملتے۔قرۃ بغیر وقت ضائع کئے اُس مقام کو پہنچی جہاں یہ حادثہ پیش آیا تھا۔وہاں آئینہ کا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے وہ قرۃ سے پوچھ رہی ہوکہ آخر میرا کیا قصور تھا،مجھے کیوںمارا گیا،مجھے اپنی سہیلی اور اپنے اپنوں سے کیوں دور کیا گیا۔
یہ منظر دیکھ کر قرۃ عالمِ بے ہوشی میں چلی گئی۔چار بجے آنکھ کھلنے کے بعد آئینہ نے اپنے ارد گرد اپنے اپنوں کو پایا ۔وہ بغیر کسی سے کچھ کہے دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ماں اس کے پیچھے پیچھے گئی۔ارے قرۃ کہاں جا رہی ہو ،کچھ چاہیے تو مجھے بتاؤ میں لا کے دوں گی۔قرۃ نے ایک بڑا سا پتھر ہاتھ میں اٹھایا اور اپنے کمرے میں لگا ہوا آئینہ توڑ دیااور ساتھ یہ یہ جملہ دہرایا’’آئینہ ٹوٹ گیا‘‘کیا ہوا قرۃ۔۔۔ماں یہ آئینہ مجھے ہر وقت آئینہ کی یاد دلائے گا۔۔۔۔۔۔اب ۔۔ اب میں اُسی کے پاس جاتی لیکن کاش یہ سب میرے اختیار میں ہوتا ۔قرۃ کی نظر کمرے سے باہر پڑی تو وہی دو آدمی جن کی حالت پہ آئینہ اور قرۃ کبھی قہقے لگا کر گزر گئے تھے۔آج یہ دونوں آدمی اس کی حالت پر بلند بلند قہقے لگا رہے تھے۔۔۔ماں دیکھو ان کو ۔۔ان کو ہمارے گھر سے نکالو ۔۔کون ہے بیٹا یہاں تو کوئی نہیں ہے۔۔نہیں ماں آپ دیکھو وہ دیوار کے پاس۔۔۔نہیں بچہ وہاں کوئی نہیں ہے۔واپس اپنے بستر پر جا کر قرۃ کو لگا کہ وہ اب ان آدمیوں سے پیچھا چھڑائی گی لیکن جوں ہی وہ بستر پر لیٹنے لگی اُسے وہی دو آدمی بلند قہقہے مارتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔وہ انہیں وہاں سے دور بھگانا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا ہر گز نہ کر پا رہی تھی۔۔۔ماں دیکھو یہ یہاں بھی آگئے ۔۔۔کون بیٹا وہی ماں وہی دو آدمی ۔۔۔۔ارے بیٹا یہاں کوئی نہیں ہیں۔قرۃ نے اپنی آنکھیں اور اپنے کان بند کرنے چاہے لیکن پھر بھی اُس سے سکون میسر نہ ہوا۔ وہ سو کر حقیقت سے دور بھاگنا چاہتی تھی لیکن اُسی سے نیند بھی نہیں آرہی تھی ۔اچانک وہ بیڈ سے گر پڑی اور ہمیشہ کے لیے ایسی نیند میں چلی گئی جہاں جا کر شاید وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان آدمیوں سے پیچھا چھڑاتی ۔
���
ریسیرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر
ای میل؛shaheenayusuf44@gmail.com