جل شکتی محکمہ کے کئی شعبوں کی بلدیاتی اداروں کو منتقلی

لالچوک میں ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ،فیصلہ واپس لینے کی مانگ

تاریخ    19 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// جل شکتی محکمہ کے کئی ایک شعبوں کی خدمات کوکو بلدیاتی اداروں کو منتقل کرنے کے خلاف ملازمین نے سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے سرکار کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔سرینگر میں محکمہ کے ہیڈ آفس واقع ایکسچینج روڑ پر جمعرات کو ملازمین نے واٹر ورکس کارڈی نیشن کمیٹی کے جھنڈے تلے احتجاج کرتے ہوئے سرکار کو اپنا فیصلہ واپس لینے کامطالبہ کیا۔مظاہرین نے نعرہ بازی کی جبکہ انہوں نے کتبوں پر سرکار کے اس فیصلے کے خلاف نعرے درج کئے تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں محکمہ کے مستقل ملازمین کے علاوہ عارضی ملازمین اور اراضی وقف کرنے والے ڈیلی ویجروں نے بھی شرکت کی اور سرکاری فیصلے کو واپس لینے پر زور دیا۔ عارضی ملازمین کی یونین کے صدر سجاد احمد پرے نے اس موقعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک قدیم محکمہ کی بنیاد کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین سرکار کے فیصلے سے ہک بکا ہے کیونکہ اس فیصلے سے محکمہ کے تمام ملازمین کا مستقبل تاریک بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں مستقل ملازمین کی سینیارٹی متاثر ہوگی اور سروس ضوابط کے تحت وہ مراعات سے محروم ہوجائیں گے۔پرے نے کہا کہ ان ملازمین نے نامساعد صورتحال کے علاوہ کویڈ کے دوران بھی صف اول پر کام کیا اور لوگوں کی خدمت کی۔ سجاد پرے نے کہا کہ ملازمین جل شکتی کو یقین تھا کہ سرکار انکی حوصلہ افزائی کرے گی تاہم یہ فیصلہ ملازمین کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔انہوں نے فوری طور پر سرکار کو یہ فیصلہ واپس لینے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیر تک سرکار نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا تو ملازمین جل شکتی ایک موثر اور بااثر پروگرام دینگے۔
 

تازہ ترین