تازہ ترین

نیا ریلوے اسٹیشن

افسانہ

تاریخ    14 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


وردہ فاطمہ
اسلم! اسلم! ۔۔۔۔۔گھر کے کام کاج میں مصروف 'سارہ اپنے بیٹے اسلم کو آواز لگا رہی تھی۔ اسلم! اسلم! ۔۔۔۔۔جب اسلم نے جواب نہ دیا تو سارہ اسلم کے کمرے کی اور بڑھنے لگی۔ ابھی وہ جانے ہی والی تھی کہ کچن کی کھڑکی سے اسے سڑک پر لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ اسی مجمعے میں اسلم بھی تھا۔ مجمع دیکھ کر سارا سوچنے لگی کی آخر کیا ماجرا ہے؟ گاؤں کے تمام لوگ کیوں جمع ہو گئے ہیں؟ وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ اسلم نے دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوتے ہی سارہ نے اس سے باہر جمع بھیڑ کا سبب پوچھا۔ جس کے جواب میں اسلم نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ماں کو بولا، "امّی آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں؟ یہ ہمارے گاؤں کے لئے خوش خبری ہے کہ ہمارے گاؤں میں نئے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا افتتاح ہونے والا ہے۔ اب ہمارے گاؤں سے بھی ریل چلے گی جس سے لوگوں کو کافی سہولت میّسر ہو گی۔ نوجوان بھی اپنے کام کاج و روزگار کے لئے بآسانی گاؤں سے باہر جا سکتے ہیں۔ سرپنچ  صاحب بھی یہی خوش جبری سنا رہے تھے اور بول رہے تھے کہ سوموار کے روز ڈپٹی کمشنر صاحب گاؤں آ کر ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا کام کا افتتاح کریں گے۔ نئے ریلوے اسٹیشن کی خبر سن کر سارہ پر خوشی و تسکین کے بجائے پریشانی اور خوف کا عالم طاری ہوا۔ یہ خبر  جیسے اُس کے تمام دکھ، درد سمیٹ کراسے اندر ہی اندر چور کرتی جا رہی تھی۔ وہ کچھ نہ بول سکی اور اسلم کو چائے دے کر اپنے کمرے کی اور چلی گئی۔ وہاں موجود الماری  سے اس نے ایک تصویر نکالی اور اس تصویر سے چمٹ گئی۔ اس تصویر میں تو جیسے سارہ کی نصف دنیا بستی تھی۔ وہ اسے کافی وقت تک دیکھتی رہی، گلے لگاتی اور پیار کرتی رہی۔ اُدھر پورے گاؤں میں مسرت کا سماں تھا۔ لوگوں میں جوش و خروش تھا اور سوموار کے انتظار میں تھے۔ اسلم کو بھی نئے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کا بے حد انتظار تھا۔ بچّے، بزرگ، جوان سب اسی گہما گہمی میں تھے۔ اتوار کے روز ہی گاؤں میں شامیانہ لگایا گیا۔ کوئی شامیانہ کھڑا کرنے میں لگا ہوا تھا، تو کوئی سڑک پر چونہ ڈال رہا تھا۔ بچّے اپنی معصوم مسکان سے گاؤں کی فضا کی زینت بڑھا رہے تھے۔ وہ ریل گاڑی چھُک چھُک چھُک کے گیت گا رہے تھے۔ 
پراگراف۲ ؛ آخر سوموار کی صبح آگئی۔ اسلم مسجد میں فجر کی نماز ادا کرکے گھر آگیا۔ سارہ نے اُسے نمکین چائے اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی روٹی دے دی، جس میں ماں کی ممتا، اس کا پیار اور چھپا ہوا درد مخلوط تھا۔ اسلم نمکین چائے کی چسکیاںلیتے ہوئے نئے ریلوے اسٹیشن کے خیالوں میں مگن تھا۔ چائے نوش کرنے کے کچھ ہی وقت بعد اس نے سارہ سے کہا کہ امّی میں باہر جا رہا ہوں تاکہ گاؤں والوں کی مدد کروں۔ ڈی۔ سی صاحب بھی دوپہر سے پہلے تشریف آور ہونگے۔ سارا نے دل پر پتھر رکھ کر سر ہلاتے ہوئے اپنے لختِ جگر کو جانے کی اجازت دی۔ بجزسارا کے پورا گاؤں خوش تھا۔ سبھی لوگوں کو ڈی۔ سی صاحب کی آمد بے حد انتظار تھا۔ دوپہر سے پہلے ہی گائوں کی سڑک پر گاڑیوں کی آمد ورفت ہوئی۔ ڈی۔ سی صاحب آگئے تو لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کے کام کے افتتاح کا منظر دیکھنے سارہ گاؤں جمع ہو گیا ۔ سارہ بھی اپنی اوڑھنی کے اندر ایک تصویر کو سینے سے لگائے ہوئے یہ منظر دور سے دیکھ رہی تھی لیکن اس میں جوش و خروش نمایاں نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر تسکین کے بدلے دُکھ کی پرچھائیاں تھیں۔ اس کا دل ریلوے اسٹیشن کا نام سنتے ہی جیسے دھڑکنا بند کر دیتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ممتا اور جسم میں درد کا عکس نظر آ رہا تھا۔ گاؤں کی اسی گہما گہمی اور سارہ کے رنج و غم کے عالم میں ڈی۔ سی صاحب نے نئے ریلوے اسٹیشن کا کا سنگ بنیاد رکھا اور گاؤں والوں کو اس ریلوے اسٹیشن سےمیّسر ہونے والی سہولیات و فوائد سے بھی آشنا کیا۔ لوگ بھی ڈی۔ سی صاحب کا شکریہ ادا کر رہے تھے اور ریلوے اسٹیشن کی جلد از جلد تکمیل کی بھی گزارش کر رہے تھے۔ ڈی۔ سی صاحب کے رخصت ہوتے ہی لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیاد دینے لگے۔ سب لوگ خوش نظر آ رہے تھے بجز سارہ کے۔ لوگ خوشی کے اس ماحول میں غرق کہ سرپنچ صاحب کی نظر سارہ پر پڑی، جو پریشان نظر آرہی تھی۔ اس کے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ سارہ کیا معاملہ ہے۔؟ تم کیوں پریشان نظر آ رہی ہو۔آج تو ہمارے گاؤں کے لئے خوشی کا دن ہے لیکن تمہارے چہرے پر مایوسی کی لکریں کیوں ہیں؟
خیریت تو ہے نا؟ سارہ کو اس حالت میں دیکھ کر گاؤں والے بھی اُس کی اور بڑھنے لگے۔ اسی اثناء اسلم بھی آ گیا۔ ماں کو اس حالت میں دیکھ کر وہ بھی حیران و پریشان ہوا ۔ وہ اُس سے اسکی  غمزدہ حالت کا سبب پوچھنے لگااور کہنے لگا کہ امّی کیا بات ہے؟ آپ ٹھیک تو ہیں نا؟ آپ کیوں اتنی زیادہ پریشان لگ رہی ہیں؟ اسلم کا یہ پوچھنا ہی تھا کہ سارہ کے برداشت کا بند ٹوٹ گیا۔ وہ اسلم کو اپنے سینے سے لگا کر زار و قطار رونے لگی۔ تمام گاؤں والے ان کے گرد جمع ہوگئے۔ وہ سارہ سے اس کے درد کی وجہ پوچھنے لگے۔ آخرکار سارہ نے ہمّت جُٹائی اور بولی، کہ گاؤں کی سڑک نے مجھ سے میرا بڑا بیٹا اکرم چھین لیا جو کہ روزگار کے لئے گاؤں سے باہر گیا ہے۔ اُس روز بھی سوموار کا دن تھا۔ وہ مجھ سے یہ کہہ کر روانہ ہوا کہ امّی میں ہر دو مہینے کے بعد آپ سے ملنے آیا کروں گا لیکن آج چھ سال بعد بھی وہ مجھ سے ملنے نہیں آیا۔ اسلئے مجھے ڈر ہے کہ "کہیں اسی طرح گاؤں کا نیا ریلوے اسٹیشن مجھ سے میرے بیٹے اسلم کو بھی نہ چھین لے"۔ میں اب اور تنہائی اور اپنے دوسرے لختت جگر سےجدائ برداشت نہیں کر سکتی۔ میں  نہیں چاہتی ہوں کہ میری موت کے وقت میرے لخت جگر مجھ سے دور ہوں۔ یہ الفاظ کہتے ہی اس نے اپنی اوڑھنی کے اندر رکھی تصویر نکالی۔ یہ تصویر اس کے بڑے بیٹے اکرم کی تھی۔ تصویر کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں سے انتظار، ممتا اور درد کے آنسوں بہنے لگے۔ اس کے آنسوں اس کی بے بسی کی دردناک کہانی سنا رہے تھے۔یہ سنا دیکھ کر سارے گاؤں والے خاموش کھڑے ہوگئے۔ آخر کون ماں کے پیار اور اس کی جدائی کا درد جھٹلا سکتا تھا۔ 
پراگراف۳ ؛ اسلم کو امّی کا درد جان کر نہایت رنج ہوا۔ وہ ایک دم ماں کے گلے لگ گیا اور کہنے لگا کہ امّی میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ گاؤں کے ریلوے اسٹیشن کو آپکا اسلم آپ سے چھیننے نہیں دونگا۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا اور میں آپ کو اس بات کا بھی یقین دلاتا ہوں کہ گاؤں کے نئے ریلوے اسٹیشن کے ذریعے ہی میں آپکو اکرم بھا ئی سے بھی ملواؤنگا۔ یہ سن کر سارہ کی رگیں پھڑکنے لگیں اور اسکی جان میں جان سی آگئی۔۔ اس کا درد کچھ ہلکا سا ہو گیا۔اس کی تاریک زندگی میں امید کی کرن روشن ہوئی اور وہ اسلم کے ساتھ  ساتھ گاؤں کے تمام بچّوں کو دعا ئیں دینے لگی۔ گاؤں کی فضا پر چھایا انتظار اور ممتا کا درد اب اُمید اور سبق میں تبدیل ہو گیا۔گاؤں کی فضا میں جیسے یہ الفاظ گونج رہے تھے کہ
’’علم تو حاصل کرو، چاہے چین بھی کیوں نہ جانا پڑے‘‘
لیکن والدین سے اتنی جدائی نہ اختیار کرو، کہ ان کی موت کا بھی نہ پتہ چلے"
���
طالبہ سکواسٹ _کشمیر (واڑورہ) 
ای میل؛wardahfatima716@gmail.com