تازہ ترین

استقامت

اللہ کی راہ میں مستقل مزاجی سے چلنے کا نام ہے

تاریخ    12 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


ندیم احمد میر،کولگام
اُمت کے موجودہ حالات پر غور کرنے کے بعد جو سب سے بڑی کمی اور خامی مجھے نظر آئی وہ یہ ہے کہ یہ ملّت اپنے کسی بھی معاملے میں ’’استقامت‘‘ کا مظاہرہ کرنے سے قاصردکھائی دے رہی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ مختلف پیرایوں سے مسلمانوں کو استقامت پر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورہ ھود آیات ۱۱۲ تا ۱۱۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’پس اے نبی ؐ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ٹھیک ٹھیک اور راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور بندگی کی حد سے تجاوزنہ کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔‘‘
’’استقامت‘‘ کا لفظی معنی سیدھا کھڑا رہنے کے ہیں جس میں کسی طرف ذرا سا جھکائو نہ ہو۔ اور وہ جھکائو دین کے کسی بھی شعبے میں نہ ہونا چاہیے۔ عقائد، عبادات، معاملات، تجارت، سیاست، ثقافت، تمدن، تہذیب، اخلاق، کسبِ معاش، خاندانی نظام، غرض ہر معاملے میں اعتدال سے بھٹک کر ایک انسان جھکائو کا شکار نہ ہو جائے۔ مذکورہ آیت میں تمام مسلمانوں کو ہر کام میں ہر حال میں استقامت پر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ استقامت اختیار کرنے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جگہ جگہ تاکید فرمائی ہے۔ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے اسلام کے معاملے میں کوئی ایسی جامع بات بتلادیجئے کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے، آپ نے فرمایا’’اللہ پر ایمان لائو اور پھر اس پر مستقیم رہو۔‘‘(رواہ مسلم، از قرطبی)
عثمان بن حاضر ازدیؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ترجمان القران حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے ، آپ نے فرمایا’’ تم تقویٰ اور خوفِ خدا کو لازم پکڑو اور استقامت کو بھی ، جسکا طریقہ یہ ہے کہ دین کے معاملے میں شریعت کی اتباع کرو، اپنی طرف سے کوئی بدعت ایجاد نہ کرو۔( رواہ الدارمی فی مسندہ، از قرطبی)
اس دُنیا میں سے سب زیادہ دُشوار کام استقامت ہی ہے اسی لئے صوفیاء نے فرمایا ہے کہ استقامت کا مقام کرامت سے بالا تر ہے، یعنی جو شخص دین کے کاموں میں استقامت اختیار کئے ہوئے ہے، اگر چہ عمر بھر اُس سے کوئی کرامت صادر نہ ہو ، وہ اعلیٰ درجہ کا ولی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ پورے قرآن میں رسول ﷺْ پر اس آیت سے زیادہ سخت اور شاق کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، اور فرمایا کہ جب صحابہ کرامؓ نے ایک مرتبہ رسول ﷺْ کی لِحیئہ مبارک میں کچھ سفید بال دیکھ کر بطور حسرت افسوس کے ساتھ عرض کیا کہ اب تیزی سے بڑھاپا آپؐ کی طرف آ رہا ہے تو فرمایا کہ مجھے سورہ ہود نے بوڑھا کر دیا۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ مذکورہ آیت ہی اُس کا سبب ہے۔
تفسیر قرطبی میں ابو علی سری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے خواب میں رسول کریم ﷺْ کی زیارت کی تو عرض کیا کہ کیا آپ نے ایسا فرمایا کہ مجھے سورہ ہود نے بوڑھا کر دیا؟آپؐ نے فرمایا۔۔۔ہاں ! انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اس سورت میں جو انبیاء علیہم السّلام کے واقعات اور انکی قوموں کے عذاب کا ذکر ہے اس نے آپ کو بوڑھا کیا؟ تو فرمایا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد نے فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ!
حکم استقامت کے بعد اس آیت میں لفظ لَا تَطْٖغَوْا اور دوسری آیت میں لَا تَرْکَنُوْا آیا ہے۔ حضرت حسن بصریؒ نے ان دونوں آیتوں کے دو لفظوں کے متعلق فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پورے دین کو دو حرفِ لَا کے اندر جمع کر دیا ہے، ایک پہلی آیت میں لَا تَطْٖغَوْا اور دوسری آیت میں لَا تَرْکَنُوْا ، پہلے لفظ میں حدودِ شرعیہ سے نکلنے کی اور دوسرے لفظ میں بُرے لوگوں کی صحبت کی ممانعت ہے اور یہی سارے دین کا خلاصہ ہے۔
مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ ان دو لفظوں کے متعلق اس طرح رقمطراز ہیں:’ لَا تَطْٖغَوْا ‘، یہ لفظ مصدر ’طغیان‘ سے بنا ہے، اس کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں جو ضد ہے استقامت کی، آیت میں استقامت کا حکم مثبت انداز میں صادر فرمانے پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ اُسکے منفی پہلو کی ممانعت بھی صراحتًہ ذکر کر دی کہ عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق وغیرہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ حدود سے باہر نہ نکلو کہ یہ ہر فساد اور دینی اور دنیوی خرابی کا راستہ ہے۔
لَا تَرْکَنُوْکا مصدر’’ کون‘‘ ہے جسکے معنی کسی طرف خفیف سے میلان اور جھکائو اور اس پر اعتماد و رضا کے ہیں، اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ ظلم وجور میں خود مبتلا ہونے کو تو دین و دُنیا کی تباہی سبھی جانتے ہیں مگر ظالموں کی طرف ادنیٰ سا جھکائو اور میلان ، اُن سے راضی ہونا، اُن پر اعتماد کرنا بھی انسان کو اُسی بربادی کے کنارے لگا دیتا ہے۔(معارف القرآن،جلد ۴، ص ۶۷۲)
اس جھکائو اور میلان سے کیا مُراد ہے؟ اس کے متعلق صحابہ و تابعین کے چند اقوال منقول ہیں:حضرت قتادہؒ نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ ظالموں سے دوستی نہ کر و ان کا کہنا نہ مانو، ابن جُریج  ؒنے فرمایا کہ ظالموں کی طرف کسی طرح کا بھی میلان نہ رکھو، ابو العالیہؒ نے فرمایا کہ ان کے اعمال و افعال کو پسند نہ کرو۔(قرطبی)۔سدّیؒ نے فرمایا کہ ظالموں سے مُدافعت نہ کرو یعنی ان کے بُرے اعمال پر سکوت یا رضا کا اظہار نہ کرو، عکرمہؒ نے فرمایا کہ ظالموں کی صحبت میں نہ بیٹھو، قاضی بیضاویؒ نے فرمایاکہ شکل و صورت اور فیشن(Fashion) اور رہن سہن کے طریقوں میں ان کا اتّباع کرنا یہ سب اسی ممانعت میں داخل ہے۔ امام اوزارعیؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی شخص اُس عالم سے زیادہ مبغوض نہیں جو اپنی دنیوی مفاد کی خاطر کسی ظالم سے ملنے کے لئے جائے(مظہری)۔
بات کو مزید تقویت دلانے کے لئے سورۃ آل عمران آیت ۲۸ ملاحظہ ہو اس میں ارشاد ربّانی ہے: ’’مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور یارو مدد گار ہر گز نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لئے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کر جائو۔ مگر اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔‘‘
مولانا مودودیؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیںـ:’’ یعنی کہیں انسانوں کا خوف تم پر اتنا نہ چھا جائے کہ خدا کا خوف دل سے نکل جائے۔ انسان حد سے حدتمہاری دُنیا بگاڑ سکتے ہیں مگر خدا تمہیں ہمیشگی کا عذاب دے سکتا ہے۔ لہذا اپنے بچائو کے لئے اگر بدرجہ مجبوری کبھی کفار کے ساتھ تقیّہ کرنا پڑے تو وہ بس اس حد تک ہونا چاہیے کہ اسلام کے مشن اور اسلامی جماعت کے مفاد اور کسی مسلمان کی جان و مال کو نقصان پہنچائے بغیر تم اپنی جان و مال کا تحفّظ کر لو۔ لیکن خبر دار ، کفر اور کفار کی کوئی ایسی خدمت تمہارے ہاتھوں انجام نہ ہونے پائے جس سے اسلام کے مقابلے میں کفر کو فروغ حاصل ہونے اور مسلمانوں پر کفار کے غالب آجانے کا امکان ہو۔ خوب سمجھ لو کہ اگر اپنے آپ کو بچانے کے لئے تم نے اللہ کے دین کو یا اہل ایمان کی جماعت کو یا کسی ایک فرد مومن کو بھی نقصان پہنچایا، یا خدا کے باغیوں کی کوئی حقیقی خدمت انجام دی تو اللہ کے محاسبے سے ہر گز نہ بچ سکو گے۔ جاناتم کو بہر حال اسی کے پاس ہے۔‘‘(تلخیص تفہیم القرآن، ص ۱۰۱)
ڈاکٹر نذیر احمد نے استقامت کے بارے میں ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۱ کو سر گود ھا میں ایک ضلعی تربیت گاہ میں ایک تقریر میں فرمایا ہے:’’استقامت کوئی معمولی بات نہیں جو فورًا پیدا ہو جائے کہ جس کے نتیجے میں فرشتے نازل ہوں اور دولتِ اطمینان دیں۔ جب اس کے لیے کوشش کی جاتی ہے تو سب سے پہلے نفس آگے بڑھتا ہے۔ علائق دنیا گھیر لیتے ہیں۔ راہ کی مشکلات جلدی سے پیٹھ پھیر لینے کا مشورہ دیتی ہیں لیکن داعی حق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر ایسی استقامت پیدا کرے کہ آدمی اللہ کی راہ میں مستقل مزاجی سے چلے۔ جب تک جسم کے اندر قوت ہے ٹانگوں میں زور ہے، تو پوری قوت سے چلے ٹانگیں جواب دے جائیں تو گھسٹتارہے۔ یہ بھی نہ ہو تو حسرت بھری نگاہوں سے دوسروں کو منزل کی طرف اشارہ دیتا رہے۔ اور یہ آرزو رہے کہ دوسروں کی رہنمائی کرے۔ ‘‘
بقول حضرت شیخ سعدی ؒ ؎
جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے
آخر پر میں ابتلاء و آزمائش سے گز رنے والے ہر فرد کے لیے اما م احمد بن حنبل ؒکا ایک سبق آموز واقعہ پیش ِ خدمت کرتا ہوں تاکہ ہمارے اندر بھی پہاڑ جیسی استقامت پیدا ہو جائیے۔ واقعہ اس طرح ہے:اما م احمد بن حنبلؒ کو جیل میں ایک چور ملا، کہنے لگا: ’’میں چور ہوں، مجھ پر اتنی مار پڑی ہے کہ جسم کا کوئی حصہ نہیں بچا ہے۔ اس کے باوجود جب میں رہا ہو کر جیل کے گیٹ سے ہو کر گزرتا ہوں تو وہیں سوچ لیتا ہوں کہ مجھے کہاں چوری کرنا اوع کہانقب لگانا ہے۔ غیر اخلاقی کام میں یہ میری استقامت اور عزم و حوصلہ ہے، جبکہ آپ تو حق کے علم بردار ہیں، آپ کو میرے مقابلے میں زیادہ استقامت کا ثبوت دینا چاہیے۔‘‘
امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: ’’ وہ میرا استاذ ہے، جب بھی بے صبری یا مایوسی کی کیفیت طاری ہو تی ہے تو اس کے جملے یاد آجاتے ہیں۔‘‘
