تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    12 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال : موجودہ سماج میں نوجوان نسل خاص طور پراور بڑی عمر کے بہت سارے افراد طرح طرح کی نشہ آور چیزوں کی لَت میں مبتلا ہیں۔منشیات کے استعمال کی پھیلتی ہوئی اس خطرناک وَباء کے نتائج کیا ہونگے ؟یہ واضح ہے کہ منشیات کے مسلسل پھیلائو سے بے شمار گھر تباہ ہوچکے ہیں۔بیشتر نوجوان اب تعلیم ،صحت اور روز گار سے بھی لاتعلق ہوچکے ہیںجبکہ سُدھار کی اُمید بھی معدوم ہورہی ہے۔
براہِ کرم اس کے متعلق تفصیلی جواب سے مشکور و ممنون فرمایئے۔
امتیاز احمد میر۔سرینگر

منشیات کی پھیلتی وبا :  سماجی بیداری کے لئے ہمہ گیر مہم چلانے کی ضرورت

محلہ جاتی سطح پر اینٹی ڈرگ فورم تشکیل دیئے جائیں

جواب : منشیات میں ہر وہ کھانے ،پینے ،سونگھنے اور انجگشن کے ذریعہ جسم میں داخل کرنے کی چیزیں شامل ہیں ،جن کی وجہ سے جسم میں ایک خاص قسم کا ہیجان پیدا ہو اور دماغ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم اور صرف ایک سرور و مستی اور بے خودی کی حالت طاری ہو۔اسی کیفیت کو نشہ کی کیفیت کہتے ہیں ،جس کی وجہ سے دماغ مخمور ہوجاتا ہے ۔دورِ نبوت میں نشہ آور چیزصرف ایک ہی شٔے تھی اور وہ شراب تھی، جوکھجور،انگور ،گندم اورجَو وغیرہ سے بنائی جاتی تھی اور بکثرت استعمال ہوتی تھی ۔بعد کے زمانوں میں اس میں مزید طریقے استعمال کرکے اور زمین سے اُگنے والی قسم قسم کی نباتات سے منشیات پیدا ہونے لگیں ،اور یہ ہر دور میں بڑھتی گئیں۔چنانچہ آج افیون،بھنگ،چرس ،گانجا اور مختلف  اقسام کی وہ ادویات جن میں الکحل  اور دیگر نشہ آور کیمیا ہوتے ہیں ،بطورِ منشیات استعمال ہوتی ہیں،جن میں کچھ چیزیں بطورِ ٹبلیٹ اور کچھ سونگھنے و چوسنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
دین ِ اسلام نے ان تمام قسم کی منشیات کے لئے ایک ہی اصول مقرر کیا ہے جو پیغمبر اسلام حضرتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔یہ حدیث بخاری ،مسلم،ترمذی ،ابو داؤد وغیرہ تمام کتابوں میں موجود ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے:کہ تمام وہ چیزیں جو سُکر پیدا کریں ،وہ حرام ہیں۔سُکر کے معنیٰ نشہ ہے ،ہر وہ چیز جو دماغی حالت کو اس درجہ متغیر کردے کہ انسان اُن دماغی احساسات کو کھو دے جو شعور ،تمیز اور فہم و بصیرت کی بنیاد ہیں ،تو وہ تمام چیزیں جو شراب کی طرح نشہ پیدا کرنے والی ہیں ۔یہ تمام چیزیں اُسی طرح حرام ہیں جیسے خود شراب۔
اس سلسلے میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ایسے افراد پر لعنت فرمائی ہے جو شراب سے جُڑے ہوئے ہوں۔چنانچہ شراب کشید کرنے والا، پِلانے والا،شراب بیچنے والا،شراب انڈیلنے والاوغیرہ سب پر لعنت ہے۔(ترمذی)
شراب کے علاوہ آج جتنی بھی نشہ آور چیزیں معاشرے میں استعمال ہورہی ہیں ان سب کے متعلق یہی حکم ہے کہ ان تمام منشیات کو مہیا کرنے والے،اس کا خام مال فراہم کرنے والے ، پیکنگ کرنے والے ،بیچنے والے،ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے،پینے والے،پلانے والے،ان تمام پر لعنت ہے،وہ ملعون بھی ہیں اور مجرم بھی۔ان منشیات کی وجہ سے جو اخلاقی ،جسمانی ،معاشرتی ،معاشی اور سماجی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ،وہ قسم قسم کی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے ،یقینا ہمارے معاشرے میں منشیات کی کثرت ہے اور یہ مسلسل بڑھتی جارہی ہے،اس کے نتیجے میں پوری نوجوان نسل کا مستقبل یقینا بُرباد ہوگا اور صورتِ حال بہت تشویش ناک ہے ۔مزید کہ فکر مندی اور انسداد کی کوشش بہت کم ہے۔اس کے لئے جامع انسدادی تدابیر اختیار کی جائیں تو اس کا کسی درجہ میں پھیلائو رُک جائے گا ۔ورنہ پوری نسل چرسی اور مدہوشی کی مریض ہوگی۔
وہ چند تدابیر یہ ہیں:
۱۔مساجد کے ائمہ اور خطباء منشیات کو اپنا موضوع بنائیں ،منشیات کے نقصانات کو تفصیل سے بیان کرکے پھر والدین کو اپیل کریں کہ وہ اپنے بچوں کو سخت نگرانی کے ماحول میں رکھیںاور نوجوانوں سے اپیل کریں کہ وہ اپنی حفاظت کریں ،یہ بیانات مسلسل ہونے چاہئیں۔
۲ ۔ محلوں میں اور قریہ جات میں انسداد منشیات فورم (Anti Drugs Form)تشکیل دیں ۔یہ فورم نوجوانوں پر مشتمل ہو اور اس کے دو ہدف بنائیں۔متاثرہ شدہ افراد کی کونسلنگ ہو اور حکمت و محبت سے اُن کو اس وباء سے نکلنے کی ترغیب دی جائے اور یہ کام مسلسل ہو۔دوسرا ہدف یہ کہ جو لوگ منشیات مہیا کرنے کا کام کرتے ہیں ،اُن سے انسانیت کی بِنا پر اخلاق اور دیندار ی کے احساسات سے اس جُرم سے پرہیز کرنے کی ترغیب دی جائے اور ایسے افراد پر فورم کے نوجوان مسلسل نگرانی رکھیںتا کہ وہ یہ کاروبار نہ کرپائیں۔
۳ ۔ میڈیا کے ذریعے ایک مہم شروع کی جائے ۔یہ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا، دونوں کے ذریعے منشیات کے متعلق بہت موثر انداز میں اس کے نقصانات کی خرابیاں سامنے لائی جائیں۔اس کے لئے اہل ِ قلم اور مفید کلِپ بنانے والے حضرات اس کو اپنا ایجنڈا بنائیں ،اس پر کالم لکھے جائیں۔منشیات سے تباہ شدہ افراد اور خاندانوں کی رپورٹیں شائع کی جائیں مگر اُن کے نام اور مقام کو اُچھالنے کی کوشش نہ کی جائے۔
۴ ۔سکولوں ِکالجوں ، ٹیوشن سینٹروں میںمختصر پروگرام کئے جائیں اس کے لئے ان تعلیمی اداروں کی انتظامیہ خود متحرک ہو اور علماء ڈاکٹروں کے اشتراک سے طلباء اور نسلِ نو کے سامنے منشیات کے نقصانات کی تفاصیل سامنے لائی جائے۔
۵۔ ایک مفید مگر مختصر لٹریچر جس میں منشیات کی خرابیوں کی تفصیل ہو اور دو طبقوں کو خصوصا ً مخاطب بنایا جائے ۔منشیات مہیا کرنے والے افراد اور منشیات میں مبتلا افراد،فراہم کرنے والے اور استعمال کرنے والے اگر ان دو طبقوں تک مفید لٹریچر پہنچ جائے تو بہت کچھ اصلاح کے امکانات ممکن ہیں۔

سوال :۔ نما ز ظہر سے پہلے جو چار رکعت سنت ادا کی جاتی ہے یا یہ لازماً ضروری ہے۔ قران و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیے۔ جن حدیثوں میں چار سنتیں بیان ہوئی ہوں وہ بیان کریں؟
بلال احمد بجبہاڑہ

 ظہر میں سنتوں کی تعداد

جواب : ۔نماز ظہر میں فرض سے پہلے چار رکعت سنت موکدہ ہیں ۔ اس کے متعلق چند احادیث یہ ہیں۔ حضرت عائشہ ؓکا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ ظہر سے پہلے چار رکعت سنتیںنہیں چھوڑا کرتے تھے۔ بخاری۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد دو رکعت ادا فرماتے تھے۔ ترمذی۔ حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد چار رکعات کی پابندی کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جہنم کو حرام کریں گے۔ ترمذی، ابو دائود۔
ایک حدیث میں ظہر سے پہلے چار رکعات سنت چار رکعات تہجد کے برابر ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ 
ان احادیث کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں جن سے ان سنتوں کی فضلیت اور تاکید معلوم ہوتی ہے یہ احادیث ترمذی، ابو دائود، ابن ماجہ میں ہیں۔

سوال:اگر زوجہ کو میکے یا کسی اور رشتہ دار کے گھر جانا ہو تو وہ شوہر کے بجائے ساس سسر سے اجازت لیتی ہے اور ساس سسر بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان سے ہی اجازت لے۔ کبھی کبھار شوہر کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اجازت دینے کا حق شوہر کو ہے یا ساس سسر کو؟
منصور احمد 

بڑوں کے پاس لحاظ سے گھر کا نظام محبت پر قائم ہوتا ہے

جواب: زوجہ کا اصل رشتہ اپنے شوہر کے ساتھ ہوتا ہے اور شوہر کے ہی توسط سے اس کا رشتہ ساس سسر کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس رشتہ میں بنیادی حقوق زوجین کے ہوتے ہیں اور دونوں ان حقوق کے پورا کرنے کے مکلف ہیں۔ اس لئے اگر زوجہ کو میکے جانا ہو تو شوہر سے اجازت لینا اُس کا فریضہ ہے۔ اس لئے کہ میکے جانے پر اصل حق تلفی اگر ہوسکتی ہے تو وہ شوہر کی ہوگی۔ اس لئے اجازت بھی اُسی سے لینا ضروری ہے۔
ہمارے معاشرے میں والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اجازت دینے کا حق اُن کو ہے نہ کہ بیٹے کو۔ یہ سمجھنا درست نہیں ہے۔ اگر بیٹے کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو کہ اس کی زوجہ ساس سسر سے اجازت لینے کی روش اپنائے تو پھر زوجہ کو ساس سسر سے اجازت لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر بیٹے کو اس پر اعتراض ہو تو پھر والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بہو کو تلقین کریں کہ اگر شوہر کی رضامندی ہو تو ہماری طرف سے بھی اجازت ہے۔ دراصل اس معاملے میں وسعت ظرفی اپنانے کی ضرورت ہے۔ زوجہ شوہر کو بھی اعتماد میں لے کر اُس کی رضامندی کے بعد گھر کے بڑوں ساس سسر سے ان کے بڑے پن کا لحاظ رکھ کر رخصت لے اس طرح گھر کا نظام اعتماد اور محبت پر قائم رہے گا۔

سوال:۔ ہم نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کرکے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر پھر کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی حکم ہے یا اس میں کوئی اجر و ثواب ہے جواب سے ممنون فرمائیں؟
محسن نبی، شیوپورہ

وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھنا حدیث سے ثابت

جواب: وضو کے بعد کلمہ شہادت ضرور پڑھنا چاہئے، یہ احادیث سے ثابت ہے۔ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھانا بھی ثابت ہے۔ اس لئے نگاہ آسمان کی طرف اٹھانا بھی درست ہے۔خصوصاً جب کھلے آسمان کے نیچے وضو کیا جائے تو اُس وقت کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے سراوپر کرکے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائی جائے بس اسی پر اکتفاء کیا جائے۔ شہادت کی انگلی اوپر کی طرف کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
