تازہ ترین

عورت کا مقامِ حیات رنگ و بو میں

فکر و فہم

تاریخ    11 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


عفیفہ فاروق
وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں 
ایسی ہستی جو کبھی ماں بنکر جنت اپنے قدموں میں سجاتی ہے ،توکبھی بیٹی بن کر اپنے باپ کی عزت بن جاتی ہے ،کبھی بہن بن کے اپنے بھائ کی رازدار کا فرض نبھاتی ہےتو کبھی ہمسفر بن کے مرد کے ہر دُکھ سُکھ میں اُس کا ساتھ دیتی ہے ۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ذی عزت افراد خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں ۔اور کیوں نہیں روےٰ زمین پر نوعِ انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔لہٰزا خواتین کی اہمیت سے انکار کا تو کوئ جواز ہی نہیں۔عورت ہر روپ اور سررشتہ عزت ،وقار کی علامت ،وفاداری اور ایثار کا پیکر سمجھی جاتی ہے۔ 
مگر لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ اکیسوی صدی میں بھی ہم اس  صنف نازُک کا صحیح مقام اور رتبہ عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے بہت سارے سیمناروں اور اسکیموں کا افتتاح کرتے ہیں لیکن پھر بھی ناکام ہے ۔آج بھی ہمارے معاشرے میں عورت کو وہ نہیں ملتا جس کی وہ اصل حقدار ہے۔آج بھی عورتیں کئ مقامات پہ جنسی استحصال کا شکار بن جاتی ہیں ۔موجودہ دور یکسانیت کا دور مانا جاتا ہے ۔عورتیں ہر شعبے میں مردوں سے بہتر کارکردگی دِکھا رہی ہے۔مگر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج بھی کئ خواتین مرد کی وحشی پن کی ذد میں آرہی ہے اور یہ کوئ جزباتی خیال نہیں بلکہ ایک حقیقت اور کڈوا سچ ہے جوہم سب جان کر بھی نظرانداز کر رہے ہیں۔ ہ 
ہماری قوم اتنی تنگ نظر ہوگئ ہے کہ عورت کی جان بخش کر اسے پڑھا کر اور اسے روزگار دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان پر کوئ احسان کیا ہے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر عورت نہ ہوتی تو نوکری دینے کے لیے تعینات آفسران نے بھی ایک عورت سے ہی جنم لیا ہے اور اسی کی گود میں پرورش پائ ہے ہمارے گھروں کی حالت دیکھیے اگر کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہو جاے تو گھر کے تمام افراد اس عورت پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے زہر ملا دیا ہو ۔مگر جب اسی گھر میں یہی عورت کوئ لزیز پکوان پکاتی ہے تو کسی کے دہن سے پیار کے دو حرف بھی نہیں نکلتے۔بجاےٰ اس کے کہ وہ اس عورت کے کام کو سراہتے ،وہ اس کے ہر کام میں نقص نکالنا اپنا فرض سمجھتےہیں ۔ 
دنیا کا ایسا کوئ مزہب نہ ہوگا جس نے عورت کے رتبے کی بڑھائ نہ کی ہو ۔ہمارے دینِ اسلام میں عورت کو جو درجہ ملا ہے اس کے بارے میں جتنا بولا جایے کم ہے ۔قرآن پاک میں تو عورت کے نام سے اک پوری سورۃ نازل کی گئ ہے۔ہمارے پیارے نبی اکرم ؐ نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس صنف کو وہ رتبہ دیا تھا جو انہیں مردوں کے برابر ہی نہیں بلکہ ان سے بھی افضل بنا دیتا ہے ۔غرض عورت ہی مرد کے جنت جانے کا باعث بن جاتی ہے۔اگرچہ اللہ تعالی نے مرد کو جسمانی طاقت سے نوازا ہے مگر ساتھ ہی اس نے عورت کو صبر جیسی قیمتی چیز عطا کی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کی کوئ عورت کو کمزور سمجھ کر اس کے صبر کا امتحان لے ۔کیونکہ اگر عورت کرنے پہ اتر آےٰ تو پوری دنیا سے لڑ سکتی ہے۔ 
اختصاراً یہ کہا جا سکتا کہ عورت کے درجے اور کردار کی بڑھائ کرنے میں اگر ہم لکھنے بہٹھ جاییں تو پوری زندگی اسی میں گزر جاے گی مگر اس صنف کی تعریفیں ختم نہیں ہوں گی۔اسی لیے ہمیں چاہییے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی شعوری اور غیر شعوری زیادتیوں پر غور کرے تاکہ زمینی اور حقیقی سطح پر حالات بہتر ہو سکے۔قوموں کی تعمیر میں عورت کا کردار ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے دنیا میں موجود ابادی بلالحاظ جنس و صنف کو یہ بات بااور کرنی چاہے کہ عورت کے وجود کے بغیر مکمل دنیا کا تصورنامکمل ہے لحاظہ ان باتوں کاخیال رکھکر بیٹی کی پرورش کی جانی چاہے اور بیوی کی صورت میں اس سے شوہر سے تمام حقوق مل جانے چاہے۔۔۔
(طالبہ علم ،سبقس کوچنگ سینٹر۔ساکنہ :رکھ حاجن بانڑی پورہ )