تازہ ترین

صنفِ نازک اور خاموشی!

خیالِ من

تاریخ    11 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


اے مجید وانی
صنف ِ نازک یعنی عورت ذات ،جو ماں کے روپ میںمحبت اور شفقت کا ایک وسیع و عریض سمندر ہے،بہن کی شکل میں اپنی جان تک لُٹانے والی شٔے ہے اور بیوی کی صورت میں حیا داری اور وفاشعاری کی ایک مثال بھی ہے۔اُسی کے کوکھ سے جنم لیا ہے انسانیت کی کایا پلٹنے والے اولولعزم پیغمبروں نے،زمین پر حق و صداقت پھیلانے والے صالح بندوں نے،انصاف پرور اور رحمدل شہنشاہوں نے،اُسی کی کوکھ میں پرورش پائی چنگیز خان،ہلاکواور ہٹلرجیسے انسانیت کے قاتلوں نے،اُسی کے کوکھ سے صلاح الدین ایوبی ،نورالدین زنگی اور محمد بن قاسم جیسے وطن پرست بھی پیدا ہوئے اور اُسی کی کوکھ میں پروان چڑھے جعفر و صادق جیسے وطن فروش بھی۔اُسی کوکھ نے پیدا کیا قدرت کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے والے سائنسدانوں کو ،اُسی کوکھ نے جنم دیا تسلیمہ نصرین اور سلمان رُشدی جیسے شیطان صفت انسانوں کو۔اگرچہ دو متضاد طبیعتیں اور دو مختلف ذہن اِسی کوکھ کی پیدا وار ہیں لیکن اس بات میں بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ خود یہ صنف ِ نازک صبرورضا اور حُسن و جمال کی پیکر ،عدل و انصاف کا مجسمہ اور پیار و محبت کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ بھی ہے۔
فطرت کی ساری رنگینیاں عورت کے وجود کے بغیر ناقِص اور نامکمل ہیں،اس ذات کے بغیر زندگی بالکل ویران اور بے کیف ہے۔یہی ذات کائنات کا اصل حُسن ہے،جنس مخالف کے لئے یہ ذات مایۂ تسکین اور سرمایۂ راحت ہے،اسی ذات کے دَم سے بزمِ کائنات کی شمع روشن ہے۔عورت ہی انسانی تمدن کا مرکز اور محور ہے اور باغِ انسانیت کی زینت ہے۔یہ ذات نہ ہو تو پورا معاشرہ اور سارا تمدن منتشر اور پراگندہ ہوجائے گا اور پوری انسانی تہذیب اُجڑ کر رہ جائے گی۔اسی ذات کے دم سے زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے،اِسی کے وجود سے زندگی کے خوبصورت نغمے پھوٹتے ہیں اور مُردہ دِلوں میں زندگی کے لئے ایک نیا جوش اور نئے ولولے بیدار ہوتے ہیں۔عورت ہی کی بدولت مرد ہر لمحے مصروف رہتا ہے جس کے نتیجے میں تہذیب و تمدن کے نئے میدان کھلتے ہیں اور نئی نئی منزلیں سامنے آتی ہیں مگر ! اتنے سارے اوصاف سے آراستہ قدرت کے اس گرانقدر وجود اور حسین شاہکار کو ایک چیز سے زبردست نفرت ہے ،اور وہ ہے ’’خاموشی‘‘۔
خاموش رہنا اس ذات کی فطرت ہی نہیں ہے،چُپ چاپ رہنے سے ایک عورت کو اپنی سوتن سے بھی زیادہ چِڑ ہے۔یہ بولتی رہے گی اور بنا مطلب کے ہی بولتی جائے گی،سامنے کوئی ہو نہ ہو ،وہ دَر و دیوار سے باتیں کرے گی اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو کھلے آسمان کے نیچے اگر بولنے کو کچھ بھی نہ ہوتو گنگناتی رہے گی۔صنف ِ نازک میں موجود اس صفت کے تعلق سے بچپن میں اپنے ایک بزرگ دوست سے سُنی ایک کہانی یاد آرہی ہے کہ زمانہ قدیم کے ایک زیرک اور چالاک بادشاہ نے اپنے مُلک میں یہ ڈھنڈورا پِٹوایا کہ جو بھی شخص اُس کو کوئی ایسی بات بتائے گا جو بالکل ناممکن ہو تو اُس شخص کو بادشاہ اپنی نصف سلطنت کے علاوہ اپنی حسین وجمیل بیٹی بھی نکاح میں دے گا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط رکھ دی کہ صحیح جواب نہ دینے والے کا سَر قلم کیا جائے گا ۔دور دراز مُلکوں سے شہزادے ،امیر اور رئیس لوگ شاہی دربار میں آتے گئے اور اپنے سَر کٹواتے گئے کیونکہ اُن کی بتائی ہوئی ہر ناممکن بات کو چالاک بادشاہ ممکن ثابت کرتا رہا ۔دن گذرتے گئے اور لوگ ایک ساتھ بادشاہت اور حُسن پانے کی لالچ میں اپنی جانیں گنواتے رہے لیکن بادشاہ کو کوئی مطمئن نہ کرسکا ۔آخر ایک دن شاہی محل کے باہر والے دروازے پر کچھ شور سا سُنائی دیا ،معلوم ہوا کہ دربان اُس شکستہ حال گنجے نوجوان کو محل میں داخل ہونے سے روک رہا تھا جو بادشاہ کے سوال کا جواب لے کر آیا تھا۔یہ بات جب بادشاہ تک پہنچ گئی تو اُس نے گنجے کو باعزت دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا ۔ایک مفلوک الحال گنجے انسان کو دیکھ کر بادشاہ اُس سے مخاطب ہوکر بولا:’’اے نوجوان ! کیوں اپنی جوانی کے پیچھے پڑے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ کتنے جاہ و حشمت والے خوبصورت شہزادوں نے میرے سوال کا جواب نہ د ے کر اپنی جانیں گنوائی ہیں؟جائو واپس لوٹ جا،تمہاری جوانی پر ترس کھاکر میں تجھے زندہ رہنے کا پھر ایک موقع دیتا ہوں۔‘‘بادشاہ کا یہ متکبرانہ مزاج گنجے کو پسند نہ آیا اور وہ بھی بھرے دربار میں برجستہ بولا:’’اے دانا و بینا شہنشاہ!ویسے بھی میں اپنے آپ کو اس زمین پر ایک بوجھ تصور کررہا ہوں اور اپنی زندگی سے اُکتا چکا ہوں ،میری موت سے تمہاری اس عظیم الشان سلطنت میں کیا فرق پڑے گا ۔‘‘گنجے کے اس برجستہ جواب پر بادشاہ ذرا غصے سے بولا :’’اگر تم مرنا ہی چاہتے ہو تو بولو ،میرے سوال کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟‘‘پُر سکون دربار میں گنجا اپنی کڑک دار آواز میں بولا:’’عالم پناہ! میں نے ایک خالی کمرے میں دو عورتوں کو بالکل چُپ چاپ بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ گنجے کا یہ جواب سُن کر بادشاہ اپنے تخت پر کھڑا ہوکر پاگلوں کی طرح زور زور سے چِلانے لگا ،’’ناممکن، بالکل ناممکن‘‘۔اس طرح ایک گنجے نے ثابت کردیا کہ عورت ذات کو ’’خاموشی‘‘سے ازلی دشمنی ہے۔
پتہ نہیں زمین پر آدم کی سمجھ میں نہ آنے والی اس تخلیق کی زبان میں خالقِ کائنات نے ایسی کون سی (Cell)فِٹ کردی ہے کہ یہ رائونڈ دِی کلاک(Round the Clock)بولتی رہتی ہے۔صنف ِ نازک کے چھوٹے سے مُنہ میں اتنی لمبی زبان سے جہاں مرد بے چارہ پریشان ہے وہیں ایک سائنسدان بھی حیران ہے کہ آخر ایسا کون سا جُز عورت کی زبان میں موجود ہے جو اُسے لگاتا بولنے رہنے پر اُکسارہا ہے۔غلاموں کی اس بستی کا ایک عام غلام بھی جہاں عورت کی اس زبان درازی پر زور دار احتجاج کرسکتا ہے لیکن بے چارے کو اندر ہی اندر یہ فکِر کھائے جارہی ہے کہ اگر ہماری کسی شادی بیاہ کی تقریب میں عورت موجود نہ ہو تو گائے گا کون؟اور اگر وہ کسی تعزیتی مجلس سے غیر حاضر ہوتو روئے گا کون؟۔۔۔۔۔۔۔
احمد نگر سرینگر ۔ رابطہ9697334305