ہوٹل

افسانہ

تاریخ    7 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
وکیل دسویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد والدین کی مرضی کے خلاف شہر چلا گیا ۔جہاں اس کے ماموں نے اس کو ایک ہوٹل پر کام دلایا ۔ہوٹل کا مالک خود غرض اور تنگ نظر تھا ۔وہ وکیل کو صبح چار بجے جگاتا اور پانی جمع کرنے کا حکم  دے کر سو جاتا ۔وکیل آنکھیں مروڑ مروڑ کر پانی کی بڑی بڑی ٹنکیاں بھر کے رکھتا اور صبح کی چائے تیار کرکے اپنے مالک کو جگاتا تاکہ گاہک آنے سے پہلے وہ گدی پر بیٹھ جاتا ۔باورچی ساڑھے سات بجے کھانا پکانے کے لئے آتا۔وکیل سارے برتن دھو کر رکھتا ۔میزیں صاف کرتا اور سوچتا رہتا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔اس کو گھر میں سب کچھ ملتا تھا ۔کھانے کو بھر پور چاول ،پینے کو چائے اور روٹی، وہ بھی اس کی مرضی  اور مقدار کے مطابق۔ہوٹل میں اس کو زیادہ سے زیادہ ایک پیالی چائے ملتی ہے وہ بھی تین چوتھائی حصے تک۔ ۔ کھانے کو آدھی پلیٹ چاول اور تھوڑی سبزی ۔اگر کبھی چاول تھوڑے زیادہ پروستا تو ہوٹل مالک ڈانٹتا اور پلیٹ سے چاول واپس ڈالنے کو کہتا اور ساتھ میں دو تین گالیاں بھی بکتا ۔باپ نے وکیل سے کہا تھا کہ وہ پڑھائی کرکے اپنا مستقبل روشن کرے ۔ابھی وہ نادان ہے اس لئے دنیا کے داؤ پیچ سے واقف نہیں ہے لیکن وکیل نے ایک نہ مانی ۔وہ باپ کی مدد کرنا چاہتا تھا ۔گھر میں چھوٹے بھائی بہن بھی تھے اور باپ مزدوری کرتے کرتے کمزور ہوگیا تھا ۔ ہوٹل والے کے ناروا سلوک نے وکیل کی زندگی کو جہنم بنایا تھا۔اس ظلم و ستم نے وکیل کے اندر ایک انقلاب برپا کردیا اور اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس  گھر جا کر خوب پڑھ لکھ کر باپ کا نام روشن کرے گا ۔اس طرح مزدوری کرنے سے وہ پیسے تو کمائے گا لیکن وہ مزدور ہی رہے گا ۔نہ گھر والوں کی خواہش پوری ہوگی اور نہ ہی ان کے خواب پورے ہونگے ۔وکیل نے ماموں کو اپنی دکھ بھری کہانی سنائی کہ کس طرح ہوٹل کا مالک اس کو دکھ دے رہا تھا ۔ماموں نے اس کو واپس گھر بھیجا ۔گھر پہنچتے ہی ماں نے وکیل کو گلے لگا کر کہا کہ باپ کی طرح مزدور کیوں بننا چاہتا ہے ۔دونوں ماں بیٹوں نے بہت رویا ۔اس کے بعد وکیل نے خوب محنت کی اور ڈاکٹر بن گیا ۔باپ کا سینہ چوڑا ہوگیا ۔اس کے چہرے سے جھریاں غائب ہو گئیں ۔ماں کے ہاتھوں میں پڑے چھالے بھی دور ہوگئے ۔گھر کے حالات بہتر ہوگئے ۔بھائی بہن اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے لگے ۔سب خوشی سے جھوم رہے تھے ۔لیکن وکیل کو ہوٹل کا وہ مالک جس نے اس کو اذیتیں دی تھیں بار بار یاد آتا تھا ۔وہ ہوٹلوں پر جا کر اکثر دیکھتا تھا کہ کہیں اس کے جیسا کوئی لڑکا ظلم و ستم کا شکار تو نہیں ہے ۔آج وہ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماج سیوک بھی ہے جو بچوں کی مزدوری کے خلاف لڑ رہا ہے اور ان ذہین بچوں کی مدد بھی کرتا ہے جو غربت کی وجہ سے اپنی صلاحیت کا بھرپور استعمال نہیں کر پاتے ۔
نور آباد کولگام،موبائل نمبر؛ 9906598163
 

تازہ ترین