آنکھ مچولی

افسانہ

تاریخ    7 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


تحلیل احمد ملک
" تمام ایسے قیدیوں کو پیش کیا جائے جن پہ لوگوں پر احسان کرنے کا بھوت سوار ہے۔۔!"، جج صاحب نے بھری عدالت میں حکم سنایا۔ چند لمحے بعد تین قیدی پیش کئے گئے۔ پہلی کا نام تھا بجلی ،دوسرے کا نام تھا فور جی اور تیسرے کا ترقی۔
جج نے حکم دیا کہ معلوم کیا جائے کہ ان تینوں میں ابھی سب سے زیادہ لوگوں کو کس کی ضرورت ہے۔ جانچ پڑتال کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ بجلی کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔
بجلی کو جج سامنے پیش کیا گیا۔
"اس کے خلاف کونسا مقدمہ درج ہے ۔۔۔؟"
"جناب سرما کے بغیر یہ تمام موسموں میں کشمیر کے گھروں کو خوشی خوشی روشن کرنے کے لیے تیار رہتی ہے مگر۔۔۔۔"
 "مگر کیا۔۔۔۔؟"
" جناب موسم سرما میں جب لوگوں کو اسکی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو آنکھ مچولی کھیلتی ہے ۔۔۔لوگوں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو صرف اس کی وجہ سے۔۔!"
"ملزم بجلی! کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتی ہے۔۔؟"
"جناب یہ بات تو سچ ہے کہ موسم سرما میں میں چوبیس گھنٹے نہیں چلتی ہوں ۔۔۔مگر جناب اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے۔ جونہی تمام دفاتر موسم سرما کی آمد سے پہلے ہی سرمائی دارالحکومت جموں منتقل ہو جاتے ہیں تو، اسی دم، اسی وقت سرکاری ملازم اپنے کام میں سستی برتنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔رشوت خوری عام ہوجاتی ہے۔۔۔ لوگ مجھ پر زیادہ لوڈ ڈالتے ہیں تو میری نس نس پھٹنے لگتی ہے اور نتیجتاً ان کو خود اپنی ہی کرتوت کی وجہ سے گپ اندھیرے میں رہنا پڑتا ہے اور پھر سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔ بس یہی کہنا تھا جج صاحب۔۔"
بجلی کی صفائی سن کر جج متاثر ہو گیا اور اس کو بجلی کی بات  سو فیصد سچی لگی اور اس کو باعزت بری کردیا۔
���
لہوند شوپیان کشمیر،موبائل؛9697402129

تازہ ترین