تازہ ترین

کُھلے دروازے کا کرب

افسانہ

تاریخ    7 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


راجہ یوسف
 ’’ سنومیری بات گرہ باندھ کر رکھ لو۔  وہ آئیں گی اور ضرور آئیں گی ۔ اس سال نہیں تو اگلے سال بڑھیا ضرور مرجائے گی ۔ وہ مرنے سے پہلے بیٹیوں کو بلائے گی۔  لیکن تم لوگ مستعدی کے ساتھ کھڑی رہنا۔ انہیں ایک قدم بھی آگے نہیں آنے دینا ۔  چاہے ان کا گریبان پکڑ کر یا بالوں سے کھینچ کر ان کو گھسیٹ کر باہر لے جاناپڑے ۔  وہ مری ہوئی ماں کا منہ نہ دیکھ پائیں،  نہ اسے چھو پائیںاورتم لوگ وہی کرو گی جس کا میں اشارہ کروں گی ، تم لوگوں کو میں نے کبھی  بہوئیں نہیں سمجھا ہے ۔  بیٹیوں کی طرح رکھا ہے تم دونوں کو۔  اس لیے وہی کرناجو میں کہوں گی۔‘‘
بھائی صاحب خود ہلکے پیٹ کا آدمی تھا۔ اس نے خود ہی سارے رشتہ داروں میں بات پھیلائی تھی ،خود ہی اپنی بیوی اور بہو بیٹوں کو اپنی بہنوں کے خلاف اکسایا تھا۔ گھر میں ایک طرح سے  محاذ کھول رکھا ۔ اب  پورا گھر اس کی بہنوں کے خلاف ہوچکا تھا۔  بقولِ  اس کے ،  وہ  تصور  بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کی بہنیں ہی اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیں گی ۔۔۔
بھائی صاحب بد دماغ تو  پہلے سے ہی تھا۔کس کی جرات  تھی کہ  اس کے سامنے آئے یا اس سے آنکھ ملا کر بات کر ے ۔ گھر میں سارے لوگ اس کے حکم کے غلام تھے کوئی سر اٹھا کر بات نہیں کر سکتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے باپ میں بھی اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ بیٹے کی نا کی نا کرے۔  ماں کی تو بات ہی نہیں تھی ، گھر میں ماں باپ کے علاوہ  اس کی بیوی ، دو بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی بھی تھا۔۔۔۔ لیکن سبھی لوگ اس کے سامنے دبے دبے سے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کی بیوی کی بھی اس کے سامنے کچھ نہیں چلتی نہیں تھی۔ وہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتا تھا۔ باپ بھی مہینے کی تنخواہ بیٹے کے ہاتھ پر رکھ دیتا تھا۔  وہ بالکل بھی مجاز نہیں تھا کہ کبھی اپنی مرضی سے کوئی چیز خریدلائے  یا کبھی شوق سے  اپنی بیوی یا بیٹیوں کے لئے ہی کوئی تحفہ ہی خرید لائے۔ جانے یہ سب کیوں ہوا اور کیسے ہوا تھا؟ پہلے پہل تو گھر کے سارے اخراجات باپ ہی دیکھتا تھا۔گھر میں کس کو کیا چاہئے یا کھانے کے لئے کیا بنے ؟ یہ سب باپ کی مرضی سے ہی ہوتا تھا۔ دراصل  جب بھائی صاحب کی نوکری لگ گئی اور وہ تنخواہ سے زیادہ بالائی آمدنی گھر لانے لگا  تو باپ نے خود ہی ہتھیار ڈال دیئے ۔ وہ بیٹے کے سامنے  خود کو  بونا  ظاہر کرنے لگا۔  اس نے  دیکھتے ہی دیکھتے اپنے اختیارات کم کر دیئے اور بھائی صاحب کو با اختیار بنا دیا۔بھائی صاحب نے پورے گھر میں  اپنی  مرضی کے قانون لاگو کر دیئے۔ کس کی کتنی اہمیت ہوگی  یہ بھی وہ طے کرنے لگا اور کس کی کتنی وقعت رہے گی ، اس کی مرضی ۔  بہنوں کی شادی بھی  اس نے جہیزسے بچنے کے لئے  غریب گھرانوں میں کر دی ۔ وہ مزدور لوگ تھے۔ دن بھر جو مزدوری کرکے کماتے تھے وہی شام کو کھاتے تھے۔ مشکل سے ہی گزارہ ہوتا تھا۔ بھائی صاحب کا ماننا تھا کہ بہنوں بیٹیوں کی شادی غریب گھروں میں کردو  تو  داماد ساری عمر  محتاج رہتے ہیں ۔ کبھی سسرال والوں پر رعب نہیں جماڑ پاتے ہیں ۔ چھوٹے بھائی کی  شادی بھی  اس نے اپنی مرضی سے کر دی اور جائیداد میں کانٹ چھانٹ کرکے تھوڑا سا حصہ نکال کراس کو دیا اورخود سے الگ کر دیا۔  یہ حرکت ماں کو بہت بری لگی تھی  لیکن وہ کوئی احتجاج نہیں کر سکی۔ ویسے بھی بھائی صاحب کبھی کبھار ہی ماں کو منہ لگاتا تھا، کبھی تو مہینوں بات نہیں کرتا تھا۔  ایک بار پورے چار سال تک ماںسے کوئی بات نہ کی۔  اصل  میں اسے ماں اچھی نہیں لگتی تھی کیونکہ بقول اس کے ماں کو چھوٹا بیٹا اور دونوں بیٹیاں زیادہ پیاری تھیں ۔ باپ نے بیٹے کی کسی حرکت پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بہنوں کی شادی اور چھوٹے بھائی کو گھر سے بے دخل کرنے کے بعد آہستہ آہستہ  اس میں بھی کئی بدلائو آنے لگے ۔ وہ  اب ماں باپ سے کھنچا کھنچا سا رہنے لگا اور اپنے بیوی  بچوں کے زیادہ  قریب ہوگیا۔ اب اس کی ہر ہاں میں اس کی بیوی کی ہاں بھی شامل رہنے لگی تھی ۔ اب  بھائی صاحب سے زیادہ اس کی بیوی گھر میں حکم چلانے لگی تھی۔ ماں با پ بوڑھے ہو رہے تھے۔ گھر میں اب ان کی کوئی  اہمیت نہیں تھی ، ان کی کو ئی عزت بھی نہیں کرتا تھا ۔  بس پوتے کچھ کچھ خیال رکھ لیتے  تھے ۔ ان کی دوائی انہیں مل جاتی تھی۔ اس کے باوجود  باپ اتنا بیمار ہوا کہ اسے اسپتال میں داخل کرنا پڑا ۔ باپ جتنے دن اسپتال میں رہا وہ دروازے کو تکتا رہا۔ حالانکہ اسپتال میں خدمت کے لئے اس کی بیٹیاں اس کے پاس کھڑی تھیں  لیکن اس کا چہیتا بیٹا ایک بار بھی اسپتال نہیں آیا ۔کیونکہ وہ بیوی کے ساتھ گھر کی چیزیں سنبھال کر رکھنے میں لگا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ باپ اسپتال سے زندہ نہیں لوٹے گا۔ اس کی میت گھر آجائے گی تو چیزیں ساری تتر بتر ہوجائیں گی۔  ماں یہ سب خاموشی سے دیکھتی اور خون کے آنسوں روتی۔ اس نے کئی بار اسپتال جانے کی ضد کی تھی لیکن اسے یہ کہہ کر چپ کرایا گیا کہ اگر تجھے بھی کچھ ہوا تو پھر دو دو لاشیں ایک ساتھ کون سنبھالے گا؟ آخر دوچار دن بیٹے کی راہ تکتے تکتے  باپ نے آنکھیں موندلیں۔ گھر میں میت سے زیادہ مہمانوں کے استقبال کی فکر تھی ۔بڑا سا شامیانہ  مہنگے قالینوں سے مزین اورگائو تکیوں سے سجا سجایا  تھا۔ وازہ  وان  اور زعفرانی قہوے کی خوشبوماحول کو معطر کر بنا رہی تھی۔ اس نے فوری طور پر باپ کی فوٹو اخبارات اور سوشل میڈیا پر شئیرکر دی تھی جس کی وجہ سے تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا تھا ۔  مہمانوں کی آمد نے چوتھے تک بھائی صاحب کی کمر دہری کر دی لیکن جاتے جاتے مہمانوں کے دلوں میں اس کے لئے بہت زیادہ قدر اور احترام تھا۔  وہ سبھی ایسے لائق بیٹے کی تمناکرتے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ ۔۔تعریف  جب ہونہار بیٹے کی ہو تی ہے  تب بیٹیوں کی بات کون کرتا ہے؟ ان کی آنکھوں سے بہتے آنسوکون پونچھتا ہے  ۔ بیٹیاں تو ہوتی ہی ہیں اسی لئے کہ وہ باپ کی میت پر  سینہ کوبی کریں اور دل کھول کر رو لیں ۔۔۔ہائے یہ کوئی ان سے  پوچھے جن کی بیٹیاں نہیں ہوتیں ۔
ہفتے دس دن میں مہمانوں کا آنا جانا بند ہوگیا ۔ بیٹیاں رو دھو کر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلی گئیں۔ باپ کی پنشن ماں کے نام منتقل ہوگئی۔ بھائی صاحب نے اپنے بیٹے کو دادی کے ساتھ لگا کر رکھ دیاکہ وہ دادی کو بینک لے جایا کرے اور وہاں سے پنشن لے کر آئے۔ پوتا بینک سے ہی دادی کا پنشن لے لیتا تھا۔دادی خاموشی سے  اس کے ساتھ جاتی اور خاموشی سے خالی ہاتھ واپس آجاتی اور پھر کسی سے  بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں چلی جاتی۔  ویسے بھی  شوہر کے مرنے کے بعدوہ کچھ زیادہ ہی ڈری سہمی رہنے لگی تھی۔ شوہر کے زمانے میں وہ صرف بیٹے سے ڈرتی تھی لیکن اب وہ بہو سے بھی خوفزدہ رہنے لگی تھی۔
آخر بھائی صاحب خود بھی ریٹائر ہوکر آگیا لیکن ریٹائر ہونے تک اس نے خوب پیسہ بنایاتھا۔ ویسے باپ کا چھوڑا ترکہ بھی کچھ کم نہ تھا اور اپنی کمائی سے اس نے  اس میں دگنا اضافہ بھی کر لیا تھا ۔  اپنے بیٹوں کی شادی کرنے تک ان کے لئے  پیسے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی پراپرٹی بھی بنا کررکھ لی تھی۔ اپنے رشتے داروں میں وہ  اب صاحبِ حیثیت آدمی تھا لیکن کسی کو کچھ دینا اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔ ویسے بھی بھائی صاحب کو غریب لوگ ہی  اچھے نہیں لگتے تھے، چاہے وہ کتنے ہی  قریبی کیوں نہ ہوں۔  اس کا کہنا تھا کہ غریب رشتہ دار ہمیشہ مانگنے ہی آتے ہیں۔۔۔ اس کی بہنیں جب بھی  میکے آتیں خاموش ہی رہتیں اور بھانجے بھانجیاں بھی  نانی کے گھر میں دبے دبے  رہتے ۔  بہنویو ں کی  توجرأت ہی نہیں تھی کہ وہ سسرال میں حق سے  بات کرسکیں ۔ باپ کے مرنے کے بعد بیٹیوں کو ماں کی زیادہ فکر رہنے لگی تھی ۔ اس لئے  خیر و عافیت پوچھنے کے لئے وہ ہر دو تین دن کے بعد ماں سے ملنے آجا یا کرتی تھیں ، جو بھائی صاحب کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ جب  اس کا اظہار اس نے اپنی بیوی اور بہوئوں کے سامنے کیا تو وہ اور  شیر ہوگئیں ۔ بہنیں ماں سے ملنے آئیں  تو  بھابی نے پہلے دبے  دبے الفاظ میں نصیحت کی ۔ پھر ایک دن کھل کر کہہ بھی دیا۔
 ’’تم لوگ یہاں بار بار کیوں آتی ہو ؟ کیا ہم پر بھروسہ نہیں  یا یہ سمجھتی ہو کہ تمہارے بعد ہم تمہاری ماں کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ؟َ‘‘ دونوں بہنیں بھونچکا  ہوکر رہ گئیں  لیکن وہ پھر بھی ماں کے پاس آتی رہیں،اگر چہ یہاں ان کے ساتھ کوئی بھی فرد عزت سے بات نہیں کرتا تھا۔ نہ کوئی انہیں چائے  یا کھانے کے لئے پوچھتا تھا۔ وہ  بس ماں کے پاس بیٹھتیں۔ وہ ان کے آنسو پونچھتی  یا وہ ماں کے آنسو پونچھتیں  اور چلی جاتیں۔ بڑی بہن کی دو جوان بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا تھا جبکہ چھوٹی بہن کے تین بیٹے تھے۔ بچوں نے بھی اب نا نیہال آنا بند کر دیا تھا کیونکہ وہ جب بھی یہاں آئے بے عزت ہوکر روتے روتے گھر واپس گئے۔ مامی کسی چیز کو چھونے نہیں دیتی۔کوئی بچہ اگر غلطی سے ٹی وی کا ریموٹ بھی اٹھالیتا تو مامی ہاتھ مروڑ کر واپس لے لیتیں اور حقارت سے کہتیں 
’’ کیا کرتے ہو۔ اتنا قیمتی ایل سی ڈی ہے ۔خراب ہوگیا تو پھر تمہارا باپ کہاں سے  دے گا؟ بے چارے کو کھانے کے لالے پڑے ہیں۔ ‘‘ جب سے نانیہال میں دو بہوئیں آئیں تب سے تو ان کی  بیٹیوں پر نظر بھی رکھی جانے لگی کہ کہیں کوئی چیز چرا ہی نہ لیں ۔ بہوئوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ ان کو اپنے کمروں میں آنے مت دینا۔ ان کا ہاتھ خراب ہے ۔
ان ہی حالات میں بڑی بہن سروا کا شوہر کچھ بیمار رہنے لگا ۔ وہ کام پر بھی نہیں جا پاتا تھا۔تنگ دستی بڑھنے لگی تو ایک دن ماں کی خیریت پوچھنے کے بعد وہ بھائی کے پاس گئی اور کہنے لگی ۔
’’ بھائی صاحب میرا شوہر بہت بیمار ہے ۔ نہ اس کی دوائی کے لئے پیسے ہیں اور نہ گھر میں کھانے کا سامان ہے ۔ اگر کچھ پیسے دے دیتے ۔۔۔۔‘‘
’’ دیکھو سروا۔ دو دن تین دن کے بعد تم ماں سے ملنے کے بہانے یہاں آجاتی ہو۔ ہم چائے پلاتے ہیں اور کبھی کھانا بھی کھلاتے ہیں ۔ یہ سوچ کر کہ تم ہماری غریب رشتہ دار ہو۔ورنہ ہم کو کیا پڑی؟‘ بھائی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی  بھابی بول اٹھی  جیسے  وہ جواب دینے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھی تھی ۔
 ’’ یہ کیا کہہ رہی ہو تم ‘‘ بھائی صاحب نے بیوی کو تیز نظروں سے دیکھ کر کہا۔
’’ تم چپ ہی رہو جی ۔ میں نے مانا تمہاری ہی رشتہ دار ہے۔ ہماری تو کچھ نہیں لگتی ۔ ہم اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر اس کو کیوں دیں ۔ خیرات ہی لینی ہے تو کسی اور در سے  مانگ لے۔ ہمیں معاف کرو ۔‘‘
 ’’ بھابی ۔۔۔۔‘‘ سروا نے تیز لہجے سے کہا
 ’’ میں یہاں بھیک مانگنے نہیں آئی ہوں اور یہ کیا لگا رکھا ہے تم نے ۔ رشتہ دار ۔۔۔ رشتہ دار ۔۔۔  یہ میرا بھائی ہے۔‘‘
 ’’بھائی ہے تو کیا گھر ،جائیداد پوٹلی باندھ کر تجھے دے دے۔ یا زمین زراعت  تیرے نام کر دے۔‘‘
 ’’کیوں نہ دے ۔ یہ میرے باپ کا گھر ہے ۔ میرے باپ کی زمین ہے ۔ یہ  میرا گھر ہے ۔ ہاں پہلے میرا گھر ۔ پھر تمہارا ۔ یہاں جو کچھ ہے
 تیرے باپ کا نہیں ہے ۔ بلکہ میرے باپ کا ہے۔ ‘‘
 ’’سروا ۔۔۔ ‘‘ بھائی  صاحب کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔ وہ زور سے چیخا اور ہاتھ بھی بلند کر لیا۔
 ’’ حد ہوگئی بھائی صاحب ۔۔۔ بس اب حد ہوگئی ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر سروا میکے سے باہر آگئی اور کئی دن تک روتی رہی۔
اب تو واقعی حد ہوگئی تھی۔ گھر میں کہرام مچا تھا، جیسے آسمان سر پر ٹوٹ پڑا ہو۔  بھائی صاحب کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی بے زبان بہنیں اس حد تک گر سکتی ہیں۔شوہر کی بیماری کابہانہ بناکر بھائی سے پیسے مانگیں گی ۔انکار کرنے پر باپ کی جائداد میں اپنا حصہ مانگنے لگیں گی  ۔۔ ۔   
’’ آج سے میرا اور میری بہنوں کا رشتہ ختم ۔ نہ وہ میری کچھ لگتی ہیں اور نہ میں ان کا کچھ لگتا ہوں۔ نہ وہ میرے گھر میں قدم رکھیں گی اور نہ کبھی میں ان کے گھر جائوں گا۔ ہمارا ان سے کوئی سروکار نہیں رہے گا۔ ‘‘ غصے میں جانے بھائی صاحب کیاکیا اول فول بک رہا تھا۔ اس کی بیوی نے موقع غنیمت جان کر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر دیا  ۔ اپنی بہووں کو تاکید کرکے رکھ دی ۔
’’جس دن بڑھیا مر جائے گی ۔ اس کی مکار بیٹیاں رو نے دھونے کے لئے آجائیں گی تو  انہیں گھر کے اندر آنے نہیں دینا ۔ بلکہ چلّا چلّا کر لوگوں کے سامنے ان کو ذلیل کر نا۔سب کو بتا دینایہ وہ بہنیںہیں جنہوں نے بھائیوں سے حصہ مانگا۔ آج یہ کس منہ سے ماں کی میت پر رونے آگئی ہیں۔‘‘
بات پڑوسیوں سے ہوکر دور کے رشتہ داروں تک پہنچ گئی تو سب تھو تھو کرنے لگے ۔ 
’’ بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں کیا ۔۔۔ توبہ توبہ ۔‘‘ 
دونوں بہنوں نے سنا تو ہکا بکا ہو کر رہ گئیں۔ وہ بہت زیادہ خوفزدہ  ہوگئی تھیں۔ کیا ہم اب ماں سے مل بھی نہیں پائیں گے ۔ ماں سے بات نہیں کر سکیں گے اور  اگر سچ میں ماں مرگئی توووو۔۔۔  تو کیا ہم ماں کا منہ بھی نہیں دیکھ پائیں گے۔ ۔۔  وہ ڈری سہمی  بھائی صاحب کے گھر پہنچ گئیں۔ اس کے پیر پکڑ لئے۔ بھابی کے سامنے خالی دامن پھیلایا۔ ان کے بیٹوں اور بہووں کی منت سماجت کی۔ آنسوئوں سے ان سب کے پائوں تر کئے۔ آخر بڑی مشکل سے بھائی صاحب کا دل نرم پڑ گیا۔۔۔ کورے کاغذ پر دونوں بہنوں کے انگوٹھے لگوالئے ۔۔۔ تب جاکر ماں کے کمرے میں جانے کی اجازت  ملی۔وہ آنکھیں صاف کرتی  ماں کے کمرے کے دروازے پر ٹھہر گئیںتاکہ ماں کو لگے کہ اس کی  بیٹیاں خوش ہیں ،وہ روئی نہیں ہیںلیکن انہیں کیا معلوم  تھاکہ ماں کی آنکھیں جو کھلے دروازے کو تک رہی ہیں وہ ان کی راہ تکتے تکتے کب کی بے نور ہو چکی ہیں۔ اور کھلے دروازے کا کرب  اس کی آنکھوں میں ساکت ہو چکا ہے۔
 
���
اسلا م آباد،کشمیر، فون نمبر9419734234