کوااور کبوتر

افسانہ

تاریخ    31 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
احساس کا خاموش سمندر پھراضطراب کی سونامی کی زد پر آگیا۔سونامی کی شور انگیزلہروں سے سوچ کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔لمحہ لمحہ کرب ریز کیفیت میں دوڑنے لگا۔پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ سے داخلی جہاںکا سکون درہم برہم ہورہاتھا۔اضطراب کا یہ سلسلہ کیوں اسی کے دماغ کو نچوڑ رہاتھا‘وہ بھی کبھی کبھی سوچتا رہتا لیکن کچھ سوچ نہیں پاتا۔ اس سب کے باوجود اُسے یہ کرب ریز کیفیت پسند تھی اگرچہ اس کرب کی وجہ سے اسے کافی کچھ سہنا بھی پڑتا ‘بیوی کے طعنے ۔۔۔رشتہ داروں کی بے رخی ۔۔۔دوستوں کے طنز۔۔۔لیکن پھر بھی وہ اپنی سوچ پر مطمئن تھا۔اس کی روح کوزیادہ تر گلابی رنگ عمارت کے رنگین شرارے ہی مضطرب کر دیتے تھے۔گلابی رنگ کی بلندعمارت کے رنگین ماحول میں لوگوں کے رنگا رنگ خواب گشت کرتے رہتے کیونکہ عمارت کا یہ گلابی رنگ لوگوں کے خوابوں کی وہ  سنہری علامت تھی جسے وہ پورے اعتماد کے ساتھ ماہرین فن کو سونپ دیتے تھے لیکن لوگوں کے اعتماد کا خواب صرف خواب ہی بن کر رہ جاتا ۔ کیونکہ عمارت کے اندر کوؤں کے سینکڑوں گھونسلے موجود تھے جو بلا کسی کراہت کے کچرے میں چونچ مارمار کر خواب کو سراب کی صورت دینے میں لگے رہتے۔۔عمارت کابلند قامت دروازہ پار کرتے ہی کوے اور کبوتر کی پھڑپھڑاہٹ شروع ہوجاتی ۔وہ شاندار آفس میں داخل ہوا اورکرسی پر بیٹھ کرسامنے پڑے ڈسک ٹاپ کو آن کرکے ارمانوں کے خوبصورت خاکوںمیں رنگ بھرنے لگا ۔وہ بڑے اطمینان کے ساتھ مناسب رنگوں کو چن رہا تھا کہ حاکمیت اور سیاست کی سریلی آواز کے سُرڈسٹرب کرنے لگے۔جب سُرسے سُر مل گئے تو حاکمیت کی آواز کانوں سے ٹکرائی:
’’طرفدار‘ذرا خاکوں کا ڈئزائن دکھانا۔‘‘
’’سر‘رنگ بھر کے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔بلا رنگ کے۔۔۔‘‘باس کے ہونٹ مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہلنے لگے۔’’ منسٹر صاحب دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
    پرنٹ پر کلک کرتے ہی وہ سوچنے لگا کہ انسان کے بدلے مشین کتنی وفادار ہے کہ اپنا کام کمانڈکے مطابق ہی انجام دیتی ہے اگر اس کے اندر بھی انسانی دماغ ہوتا تو پتہ نہیں یہ اپنی پسند کے کیا کیا گل کھلاتی۔ پرنٹر سے خاکوں کا ڈیزائن نکالتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپنے لگے ۔کاپی باس کے ٹیبل پرچھوڑ تے ہی اسے گھٹن سی محسوس ہوئی اور وہ کمرے سے نکل کر باہر کاری ڈورمیں چہل قدمی کرنے لگا۔چہل قدمی کرتے کرتے اس کے کان پھڑپھڑاہٹ سے بجنے لگے۔وہ بے چینی کے عالم میں کینٹین کی طرف چل پڑا۔ کینٹین کا وسیع ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ وہ بھی ایک کونے میں کرسی پر بیٹھ گیا۔اس نے ہال پر ایک سرسری نظر دوڑائی۔سامنے دیوار پر بڑے سائز کا ایل سی ڈی ٹنگاہوا تھا۔اسکرین پر آرٹ گیلری کی نمائش چل رہی تھی۔ہر کوئی کاری گر اپنے اپنے ڈیزائن کی خوبصورت پبلسٹی کررہا تھا۔ایک کاری گر اپنے ڈیزائن کی پبلسٹی کرتے ہوئے بڑے جوش سے کہہ اٹھا:
’’علم وہ نور ہے جس سے اندھیرا بھگایا جاتا ہے۔اس لئے ہمارا ڈیزائن یہ ہے کہ اس نور کو پھیلانے والوں کی مشعل کو اور بھی روشن کریں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہوجائے۔اب ڈیزائنگ کے رنگوں  میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوگی بلکہ قابل معماروں کو ہی کام سونپا جائیگا۔‘‘
ڈیزائنگ کے رنگوں کا ذکر سنتے ہی اس کا دھیان آفس کی سرسراہٹ کی طرف چلا گیا جہاں کوے کبوتروںکو ہانک ہانک کر بھگا رہے تھے۔اس کے اندر عجیب قسم کی بے چینی پیدا ہوگئی اور کان پھر پھڑپھڑاہٹ سے بج اٹھے ۔ وہ ابھی اسی حالت میں تھا کہ ویٹر کے مؤدبانہ لہجے نے اسے چونکا دیا:
’’سر‘کیا چاہئے‘چائے کافی یا کانتی کباب۔‘‘
’’نہیں ‘صرف چائے۔‘‘وہ ویٹر کے منہ کو تکتے ہوئے بول پڑا۔’’اچھا ایک بات سنو۔۔۔۔!کیاتمہیں بھی کوئی شور سنائی دیتا ہے؟‘‘
’’شور۔۔۔۔؟‘‘ویٹر مسکراتے ہوئے بول پڑا۔’’یہاں تو خاموشی ہے صرف ایل سی ڈی پر چل رہے پروگرام کا شور ہے جس سے کم ہی لوگ تنگ آجاتے ہیں باقی سب لوگ توبڑے سکون سے کھاپی رہے ہیں۔‘‘
  اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔اب چائے لاؤ کہتے کہتے وہ اپنی بات پر افسوس کرنے لگاکہ اس نے کیوں ویٹر سے شور کے بارے میں پوچھا۔ پتہ نہیں وہ کیا سوچ رہا ہوگا۔تھوڑی دیر کے بعد ویٹر نے چائے بھرا گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔چائے پینے کے بعد وہ دوبارہ آفس میں چلا گیا۔ وہاں خالی کرسیوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ اس نے ٹائم دیکھ کر ڈسک ٹاپ آف کردیا اور گلابی عمارت کی سیڑھیاں اترتے اترتے مین گیٹ تک جاپہنچا۔اسکوٹر پر چڑھ کر وہ بازار کی جانب چل پڑا۔بازار میں بڑی گہما گہمی کے باجود اسے شور ہی شور سنائی دے رہاتھا۔اس نے اسکوٹر میڈیکل شاپ کے سامنے روکا اور دکان کے اندر چلاگیا۔ سیلز مین کے سامنے نسخہ ڈال کر دوائی کے لئے پوچھ بیٹھا ۔ سیلز مین شاید جان پہچان والا تھا۔ اس نے بڑی گرم جوشی سے پہلے خیرخبر پوچھی اور اس کے بعد نسخے پرنظر ڈال کر بڑی اپنائیت سے کہا کہ اگر آپ میرا مانو گے تو اس کمپنی کے بدلے میں دوسری کمپنی کی دوائی دونگا۔
’’دوسری کمپنی کی دوائی۔‘‘وہ بھی یوں ہی پوچھ بیٹھا۔’’کیا اس کمپنی کی دوائی موجود نہیں ہے؟‘‘
’’وہ بھی ہے۔۔۔لیکن۔۔۔‘‘
’’لیکن۔۔۔کیا۔۔۔؟‘‘
’’یہ اصل میں کاروباری معاملہ ہے۔ڈاکٹر وں کے بھی اپنے معاملات ہوتے ہیں۔‘‘
’’اب اس میں ڈاکٹروں کا اور کیا معاملہ ہے۔‘‘وہ تھوڑساحیران ہوکر بول پڑا۔’’ ان کو تو پیشنٹ کا چیک اپ کرکے نسخہ لکھنا ہوتا ہے ۔باقی کاروباری معاملہ تو آپ کا ہے لیکن کاروبار سے زیادہ یہ انسانی جان کا مسئلہ ہے ۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے۔‘‘سیلز مین سر ہلاتے ہوئے بول پڑا۔’’مگر اب یہ انسانی مسئلے کے بدلے کاروباری معاملہ ہی بنتا جارہا ہے۔وہ بھی اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ آپ کے ساتھ اچھے مراسم ہیں‘نہیں تو آج کل کون انسانیت کی پروا کرتا ہے۔‘‘
سیلز مین کی گول مول باتیںسن کر وہ تھوڑا بہت سمجھ گیا اور اس نے سیلز مین کے مشورے پر ہی عمل کرنا مناسب سمجھا۔ دوائی خرید کر وہ اسکوٹر پر پھرسے سوار ہوالیکن اس دوران گلابی عمارت کی سرسراہٹ ‘بازار کا شور اور میڈیکل شاپ کی کاروباری باتیںدماغ پر ہتھوڑے چلا رہی تھیں۔ دوران سفر اسے اپنے ایک قریبی ساتھی کی کال آئی ۔کال رسیو کرکے وہ سیدھانفسیاتی سنٹر پہنچ گیا۔سنٹر میں داخل ہو تے ہی وہ دوست کے چیمبر میں چلا گیا۔یہ دونوں یونیورسٹی تک تعلیمی سفرکے ساتھی رہ چکے تھے۔ یہ توبعد میں خود گلابی عمارت میں ملازم ہوالیکن اس کے ساتھی نے نفسیات کی ڈگری حاصل کرکے نفسیاتی سنٹر میں ماہر نفسیات کاعہدہ سنھبال لیا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد دونوں ایک دوسر ے کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہوگئے ۔دوران گفتگو جونہی اسے اپنے ذہنی انتشار کے اظہار کرنے کاخیال آیا تو گھڑی نے راونڈ کرنے کا الآرم بجا دیا۔دوست نے اسے بھی وارڈس کی طرف چلنے کو کہا تاکہ ملاقات کا سلسلہ بے مزہ نہ ہوجائے ۔دونوں سنٹر کے وارڈس کی طرف چل پڑے۔چونکہ اس کا دوست کافی عرصے سے سینٹر میں تعینات تھا اس لئے اسے تقریباََہر پیشنٹ کی جانکاری حاصل تھی ۔سینٹر میںمریضوںکی آہوں اور سسکیوں سے حشرآفریں سماں چھایا ہواتھا۔ایک خوب رونوجوان  باربار اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے مارتے ہاے افسوس ہائے افسوس کررہا تھا ۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس نوجوان کو انجینئر بننے کا شوق تھا لیکن یورپ میں ایک دھماکے کے بعد وہاں کی پولیس نے اس کے خوابوں کو چکنا چور کرکے وآپس بھیج دیا۔ایک اور نوجوان زنجیروں میں بندھا ہوا تھا ۔وہ باربار زخمی شیر کی طرح زنجیر سے رہائی کی کوشش کررہا تھا۔یہ لیکچرر بننے کا خواب سجائے ہوئے تھا اور اسی خواب کو پورا کرنے کے لئے پی ۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری بھی کرڈالی لیکن انٹرویوکے بعد لسٹ میںاپنا نام نہ پا کر پاگل ہوگیا کیونکہ وہاں پر زیادہ تر سفارشی گھوڑوں نے ہی میدان مار لیا تھا۔ایک اور بزرگ گم سم بیٹھا تھا لیکن اس کا سفید ریش آنسوؤں سے تر تھا ۔یہ سسکیاں لیتے لیتے گھروالوں کو یاد کر رہا تھا جو ڈرون حملے میں گھر سمیت زمین بوس ہوگئے تھے۔اس طرح دوسرے لوگوں کی اندوہناک صورت حال دیکھ کر اس پر وحشت سی طاری ہوگئی۔ان ہیبت ناک مناظر سے پھڑپھڑاہت کا تصادم پھر سے شروع ہوا۔ایک اور آدمی کی حالت کچھ زیادہ ہی وحشت ناک تھی۔وہ انسان کو دیکھ کر بھوت بھوت چلا رہا تھا۔
   دوست نے اس کے چہرے کا حال دیکھ کر چیمبر کی راہ لی اور چیمبر میں بیٹھ کر پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگا :
’’ ہمیں تو روز اسی قسم کی ہیبت ناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔خیر پانی پی لو اب اس بارے میں سوچنے سے کیا فائدہ ؟انسان تو حیوان بن چکا ہے۔ نہ انساینت اور نہ ہی آدمیت کا تصور باقی رہاہے ‘ صرف اپنے اپنے شکار کی تلاش ہی زیر نظر رہتی ہے۔ ‘‘
  وہ پانی پی کر تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا رہا اورپھر پوچھ بیٹھا کہ دوسرے لوگوں کی حالت زار تو سمجھ آگئی  لیکن بھوت بھوت چلانے والے کا قصہ کچھ سمجھ نہیں آیا۔
’’اچھا‘وہ بھی بتاتا ہوں‘‘دوست نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔’’یہ جدید دور کا وہ انسان ہے جس کے سرپرایمانداری کا بھوت سوار تھا۔یہ جہاں بھی جاتا تھا تو اسے دیکھتے ہی بھوت بھوت کی سرگوشیاں شروع ہوجاتی تھیں۔سماج کے طنز نے اسے نفسیاتی طور پر اتنا ڈسٹرپ کردیا کہ وہ واقعی خود کوبھوت ہی سمجھ بیٹھا اور اس حالت کو پہنچ گیا۔‘‘
بھوت والے قصے نے اس کے اوپر بے چینی سی طاری کردی اور وہ گفتگو مختصر کرکے گھرکی جانب نکل پڑا۔ دن ڈھل چکا تھا۔معمول کے برعکس جب وہ گھر میں دیر سے پہنچا تو پہلے بی بی کی ڈانٹ سننی پڑی اور چائے وغیرہ پینے کے بعد پھروہی سوال کہ منے کی فیس کا کچھ انتظام ہوا کہ نہیں۔منا کو انجینئری کا شوق تھا، جس کیلئے کئی لاکھ ڈونیشن کی ضرورت تھی‘لیکن اس کی تنخواہ سے یہ اہم کام پورانہیں ہوسکتا تھا۔ویسے تویہ ایک ایسے شیش محل کا نگینہ تھا کہ جہاں پرصرف مول بڑھانے کے ہی جوہری آتے تھے لیکن وہ نگینے کا سودا گرنہیں بننا چاہتا تھا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد جب وہ بیڈ پر لیٹ گیا تو باس کی کال موصول ہوئی۔
’’طرفدار‘ کل آفس ذرا ٹائم سے پہلے پہنچنا۔وہ خاکہ رنگ بھر کرموصول ہواہے۔‘‘
’’لیکن سر وہ اینٹی کرپشن کا جو چھاپہ پڑا تھا؟‘‘
’’آپ بھی کس دنیا میں رہتے ہو ‘ان کے ساتھ بھی معاملہ طے ہوا۔‘‘
’’معاملہ طے ہوا۔۔۔۔؟‘‘
’’ہاں‘اب پریشانی کی کوئی بات نہیں ‘ا ور ہاںآپ کے بچے کاجو ایڈمیشن والا معاملہ ہے نا‘جس کے بارے میں تم نے کہا تھا۔ اس کی فکر مت کرنا۔‘‘
کال کٹ ہونے کے بعداس پر بے چینی کی سی کیفیت پھر طاری ہوگئی۔وہ سوچنے لگا کہ اب ہرکام  ۔۔۔کام کی طرح کیوں نہیں ہوجاتا ہے بلکہ ہر کام معاملہ کیوں بن جاتا ہے اور پھر معاملہ طے ہوجاتا ہے۔یہ سوچتے سوچتے کرب کا کیڑا ذہن کو کورنے لگا۔ گلابی عمارت کا رنگین ماحول‘ میڈیکل شاپ کا معاملہ‘ مارکیٹ کی ہنگامہ خیزی‘ نفسیاتی سینٹر کا حشر ناک سماں۔۔۔۔اور اب باس کی آفر۔آفر کا خیال آتے ہی اسے بچے کی انجینئری کا ڈونیشن یاد آیا۔ تھوڑی دیر کے لئے وہ آنکھیں بند کرکے کچھ سوچتا رہا لیکن آنکھیں کھلتے ہی اسے گلابی عمارت کے کچرے کی بدبو سی محسوس ہوئی اور وہ سوچنے لگا کہ اب میرے نام کا بھی ایک کچرا دان بنے گا۔آدھی رات تک وہ کچرے کی بدبو کو خوشبو میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتارہا لیکن یہ کام اسے گوبرمیں گھی ملانے جیسافن محسوس ہوتا رہا۔ا ن ہی الجھنوں میں کروٹیں بدل بدل کر باقی رات بھی گزر گئی۔ صبح ہوتے ہی اسے بھوت کا سایہ کمرے میں منڈلاتا ہوا محسوس ہوا۔اس کے اندرسے پھڑپھڑاہت کا جان لیوا شور شروع ہوا ۔شور کے ساتھ ہی اسے یوں لگا کہ جیسے بھوت کا سایہ رفتہ رفتہ اسے اپنے گھیرے میں لے رہا ہے ۔تنگ ہورہے گھیرے کی کسک نے پھڑپھڑاہٹ کی گردش کو اورتیزکردیااورتیز گردش کے کرب ریزشورسے کوا اور کبوتر کان کے پردے پھاڑ کر پُھر سے اڑ گئے۔
 
���
وڈی پورہ، ہندوارہ کشمیر
موبائل نمبر؛7006544358

تازہ ترین