تازہ ترین

عبد اللہ…یعنی اللہ کا بندہ

نصیحت آموز

تاریخ    29 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ریاض فردوسی
 مومن اللہ سے بڑا شدید محبت کرتے ہیں۔(المائدۃ: 54) ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مومن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے مال اور اس کی اولاداور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائو۔ (بخاری شریف۔حدیث۔ 12 ۔مسلم شریف۔ 44)اور یہ واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنا دین کا سب سے اہم حصہ ہے۔اور جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے اور نہ تنگی اور اس کے درمیان کی معتدل راہ اختیار کرتے ہیں.(سورہ۔فرقان۔آیت۔67)اور قرابتداروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑاؤ۔ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔(سورہ بنی اسرائیل۔ 26، 27)
درحقیقت فضول خرچی، رب کریم کی ناشکری اور اس کی بے انتہانعمت کی ناقدری ہے، کیوں کہ اپنے مال و اسباب کو فضولیات میں بے دردی کے ساتھ خرچ کرنے والا، اللہ کی مرضی کو فراموش کرکے اپنے نفس امارہ کامطیع اور فرماں بردارہوتا ہے۔
عیاشی، اور قمار بازی، اور شراب نوشی، اور یار باشی، اور میلوں ٹھیلوں، اور شادی بیاہ میں بے دریغ روپیہ خرچ کریں اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی شان دکھانے کے لیے غذا مکان، لباس اور تزئین و آرائش پر دولت لٹائیں۔ اور نہ ان کی کیفیت یہ ہے کہ ایک زر پرست آدمی کی طرح پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھیں، نہ خود کھائیں، نہ بال بچوں کی ضروریات اپنی استطاعت کے مطابق پوری کریں، اور نہ کسی راہ خیر میں خوش دلی کے ساتھ کچھ دیں۔ عرب میں یہ دونوں قسم کے نمونے کثرت سے پائے جاتے تھے۔ اور آج یہ برائی مسلم معاشرے میں پروان چڑھ چکی ہے۔ایک طرف وہ لوگ تھے جو خوب دل کھول کر خرچ کرتے ہیں، مگر ان کے ہر خرچ کا مقصود یا تو ذاتی عیش و عشرت ہے، یا برادری میں ناک اونچی رکھنا اور اپنی فیاضی و دولت مندی کے ڈنکے بجوانا۔ دوسری طرف وہ بخیل جن کی کنجوسی مشہورہے۔ اعتدال کی روش بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے اور ان کم لوگوں میں اس وقت سب سے زیادہ نمایاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تھے۔ اس موقع پر یہ جان لینا چاہیے کہ اسراف کیا چیز ہے اور بخل کیا چیز۔ اسلامی نقطہ نظر سے اسراف تین چیزوں کا نام ہے۔ ایک، ناجائز کاموں میں دولت صرف کرنا، خواہ وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرے، جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر جانا، خواہ اس لحاظ سے کہ آدمی اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرے، یا اس لحاظ سے کہ آدمی کو جو دولت اس کی ضرورت سے بہت زیادہ مل گئی ہو اسے وہ اپنے ہی عیش اور ٹھاٹ باٹ میں صرف کرتا چلا جائے۔ تیسرے، نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا، مگر اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا اور نمائش کے لیے اس کے برعکس بخل کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ آدمی اپنی اور اپنے بال بچوں کی ضروریات پر اپنی مقدرت اور حیثیت کے مطابق خرچ نہ کرے۔ دوسرے یہ کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس کے ہاتھ سے پیسہ نہ نکلے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال کی راہ اسلام کی راہ ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: من فقہ الرجل قصدہ فی معیشتہ، اپنی معیشت میں توسط اختیار کرنا آدمی کے فقیہ (دانا) ہونے کی علامتوں میں سے ہے (احمد و طبرنی، بروایت ابی الدرداء)۔ 
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہونگے۔(سورہ۔البقرہ۔آیت۔262)ہم توتمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔(سورہ۔دہر۔آیت۔9)
نہ تو ان کے لیے اس بات کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کا اجر ضائع ہو جائے گا اور نہ کبھی یہ نوبت آئے گی کہ وہ اپنے اس خرچ پر پشیمان ہوں۔ضروری نہیں ہے کہ غریب کو کھانا کھلاتے ہوئے زبان ہی سے یہ بات کہی جائے۔ دل میں بھی یہ بات کہی جا سکتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کی بھی وہی حیثیت ہے جو زبان سے کہنے کی ہے۔ لیکن زبان سے یہ بات کہنے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ جس کی مدد کی جائے اس کو یہ اطمینان دلا دیا جائے کہ ہم اس سے کسی قسم کا شکریہ یا بدلہ نہیں چاہتے، تاکہ وہ بے فکر ہو کر کھائے۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی مدح و تعریف کرتا ہے جو خیرات و صدقات کرتے ہیں اور پھر جسے دیتے ہیں اس پر احسان نہیں جتاتے اور نہ اپنی زبان سے یا اپنے کسی فعل سے اس شخص کو کوئی نقصان پہنچاتے ہیں، ان سے ایسے جزائے خیر کا وعدہ فرماتا ہے کہ ان کا اجر و ثواب رب دو عالم کے ذمہ ہے۔ ان پر قیامت کے دن کوئی ہول اور خوف و خطر نہ ہوگا اور نہ دنیا اور بال بچے چھوٹ جانے کا انہیں کوئی غم و رنج ہوگا، اس لئے کہ وہاں پہنچ کر اس سے بہتر چیزیں انہیں مل چکی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ کلمہ خیر زبان سے نکالنا، کسی مسلمان بھائی کیلئے دعا کرنا، درگزر کرنا، خطاوار کو معاف کر دینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کی تہہ میں ایذاء دہی ہو، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی صدقہ نیک کام سے افضل نہیں۔ کیا تم نے فرمان باری (قول معروف الخ) نہیں سنا؟ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بینیاز ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ حلیم اور بردبار ہے۔ اللہ تم پر زندگی کے اسباب و وسائل کا بے حساب فیضان کر رہا ہے اور تمہارے قصوروں کے باوجود تمہیں بار بار بخشتا ہے۔
مسند احمد میں درج ہے کہ،ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے. ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر ''یاکریم یاکریم'' کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کی طرف جاتا تو پڑھتا  یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا  یاکریم،، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے یاکریم پڑھتے۔اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے!اے حسین قد والے! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم  ﷺکی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی ﷺ کو پہچانتا ہے؟عرض کیا: نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟۔عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ ﷺنے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔وہ حضور اکرم ﷺکے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ  ﷺنے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئے اور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لوں گا۔آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لے گا؟اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لے گا تو میں اسکی بخشش کا حساب لوں گا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟اگر اس نے میری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لوں گا۔اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لوں گا۔حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوگا۔(مسند احمد بن حنبلؒ)
 محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)، اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت، آپس میں رحمدل ہیں۔ تم ان کو اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں رکوع وسجود میں سرگرم پاؤ گے۔ ان کا امتیاز ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے۔ ان کی یہ تمثیل تورات میں ہے اور انجیل میں ان کی تمثیل یوں ہے کہ جیسے کھیتی ہو جس نے نکالی اپنی سوئی، پھر اس کو سہارا دیا، پھر وہ سخت ہوئی، پھر وہ اپنے تنہ پر کھڑی ہوگئی کسانوں کے دلوں کو موہتی ہوئی، تاکہ کافرون کے دل ان سے جلائے۔ اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، مغفرت اور ایک اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے۔(سورہ الفتح۔آیت۔29)
آج ہماری تمام طاقتیں اپنے مسلم بھائیوں کے لئے ہیں،تمام چالاکیاںاپنے بھائی کے لئے اور اغیار کے لئے نرم خو اعلی ظرف،اپنے بھائی کی تمام برائی دکھائی دیتی ہے،لیکن غیروں کے بڑے سے بڑے عیب سے ہم پردہ پوشی کر لیتے ہیں ۔اگر اللہ نے ہمیں مکان یا دکان یا مال ودولت سے نوازا ہے(وہ بھی ہماری آزمائش کے لیے) اور ہمارے ماتحت کوئی مسلم غلام یا کرایہ دار یا ملازم ہے تو ہم نہ جانے کیوں اس پر بے جا سختی کرتے ہیں،اور وہ غریب اور نادار شخص بھی اپنی خداری اور ایمانداری کاثبوت نہیں فراہم کرتا ہے۔پوری قوم کا شیرازہ بکھر چکا ہے ہم اخلاقی پستی کاشکار ہو چکے ہیں،ہمارے قول وفعل میں تضاد ہے۔
 آہ! کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے !
اب بھی وقت ہے دشمن پوری طاقت کے ساتھ بربادی کی تیاری کر رہا ہے۔بھائیوں اللہ کے لیے بیدار ہوجاؤ۔ایک ہو جاؤ۔دلوں سے ایک دوسرے کی نفرت ختم کرو، مر کر ہمیں مٹی میں ملنا ہے پھر اس جسم کا، اس طاقت کا کیا غرور کرنا؟،فانی دولت،فانی دنیاکے لئے کیا تکبر میں لپٹے رہنا؟ جس مکان میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے اس کی کیا پرواہ کرنا؟عجیب بات ہے ہم اللہ سے رزق مانگتے ہیں،روزی روٹی مانگتے ہیں،جس کا اس نے وعدہ کیا ہے لیکن جنت کی طلب نہیں کرتے جس کے لیے اللہ نے عمل صالح اور دیگر عوامل کی شرائط عائد کردی ہے۔؟واہ رے مسلمان رزق کا خیال ہے رزاق کا خیال نہیں؟حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ظالم شخص غریبوں پر ظلم کرتا رتھا اور ان کی لکڑیاں سستے داموں خریدتا اور انہیں آگے زیادہ منافع پر فروخت کردیتا رتھا۔ایک دن ایک نیک شخص کا گزر اس کے پاس سے ہوا تو اس نے کہا کہ تو ہر کسی کو ڈستا ہے کیا تو سانپ ہے؟تو وہ الوہے جو جہاں بیٹھتا ہے وہاں ویرانی کر دیتا ہے۔اگر تیرا مخلوق پر زور ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تیرا زور اللہ عزوجل پر بھی چل جائے۔
زمین والوں پر ظلم نہ کر کہ تیرے خلاف کسی کی دعا عرش تک پہنچ جائے۔اس بدبخت کو یہ نصیحت اچھی نہ لگی اور اس نے اس نیک شخص کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔دولت کی لالچ نے اسے گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔پھر ایک رات اس کی لکڑیوں کو آگ لگ گئی اور سب کچھ جل کر راکھ بن گیا۔اب وہ نرم بستر کی بجائے گرم راکھ پر بیٹھا کرتا تھا۔ایک دن وہی نیک شخص وہا ں سے پھر گزرا اس نے اس ظالم کو کسی سے بات کرتے ہوئے سنا کہ پتہ نہیں آگ کہاں سے آئی اور اس نے میرا تمام ذخیرہ جلا کر راکھ کردیا۔اس نیک شخص نے اس کی بات سنی تو کہا کہ یہ غریبوں کے دلوں کا دھواں تھا۔زخمی اور پریشان دل کی آہ سے ڈر اور کسی کو غمزدہ نہ کرو کیونکہ پریشان دل کی آہ سارے جہان کو پریشان کردیتی ہے۔
خسرو کے محراب پر لکھا ہوا تھا کہ تو سینکڑوں سال بھی حکومت کرلے پھر تو جب بھی خاک میں ملے گا مخلوق ہمارے سروں پر چلے گی اور جس طرح یہ حکومت ہمارے ہاتھ آئی اسی طرح دوسروں کے ہاتھوں میں بھی چل جائے گی۔حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ طاقت مل جانے پر یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر کمزور کو دبا دو بلکہ طاقت وقوت ملنے پر تمہیں کمزوروں کی مدد کرنی چاہیے۔
مظلوم کی دعا اللہ عزوجل عرش پر سنتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔اللہ عزوجل کی پکڑ سے ڈرو کہ جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو کوئی چھڑوا نہیں سکتا۔بے شک اللہ عزوجل نے ظالموں کی رسی دراز کی ہے مگر جب وہ اس رسی کو کھینچتا ہے تو پھر اس کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا۔
ایک عاشق حق تعالیٰ سے اس طرح کلام کرتا ہے جس طرح کوئی اپنے محبوب سے کرتا ہے۔پس اگر جذبِ شوق نہ پایا جائے تو اللہ عزوجل کے خاص بندے کی بھی ایسی باتیں کرنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے۔جبکہ مردِحق کاکام بندوں کو حق سے واصل کرانا ہے نہ کہ جدا کرانا۔ہر شخص کو اس کی توفیق کے مطابق استعدادحاصل ہوتی ہے۔(حکایت ِ رومی)
رابطہ۔9968012976
�����������