تازہ ترین

جنوری میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد سے سیاحتی صنعت پر لگا گرہن چھٹنے لگا

جنوری کی برفباری اورڈل جھیل کا منجمدہونا اہم سبب،کورونا پابندیوں میں نرمی نے کلیدی رول ادا کیا

تاریخ    28 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// وادی میں دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں بھاری برفباری ہونے اور کورونا وائرس سے ملک میں لوگوں کی سیر و تفریح پر قدغن لگنے کے نتیجے میں بیرون ریاستوں کے سیاحوں کو کشمیر آنے کا موقعہ مل گیا ہے۔ٹورازم حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں قریب 7ماہ تک لاک ڈائون رہا جس کے دوران بیرون ریاستوں کے لوگ کسی بھی جگہ نہیں جاسکے نیز انکے سالانہ ٹور پیکیجز بھی دھرے کے دھرے رہ گئے۔ انکا کہنا ہے کہ لاک ڈائون میں کمی کرنے کیساتھ ہی بیرون ریاستوں کے سیاحوں نے وادی کی طرف رخ کردیا اور یوں کورونا وائرس ایک طرح سے سیاحت سے جڑے افراد کیلئے مثبت بھی ثابت ہوا۔ اسکے علاوہ برفباری اور جھل ڈل منجمند ہونے کی کشکش بھی سیاحوں کو یہاں لے آئی۔ اچھی خاصی تعداد میں واردی وارد ہوئے اور گذشتہ برسوں کے مقابلے میں ان میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے۔پچھلے کئی برسوں کے بعد پہلی بار موسم سرما میں اس قدر سیاحوں کی بھاری تعداد دیکھی گئی۔
گزشتہ3برسوں میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ جب ماہ جنوری میں سیلانیوں کی بڑی تعداد وادی آکر قدرتی مناظر سے محظوظ ہو رہی ہے۔5اگست2019کے بعد وادی میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ تھم گیا جبکہ گزشتہ برس مارچ میں کوویڈ کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا۔محکمہ سیاحت کے اعدادو شمار پر اگر یقین کیا جائے تو گزشتہ برس2020کے جنوری میں مجموعی طور پر وادی وارد ہونے والے سیلانیوں کی تعداد4863تھی،جن میں1071غیر ملکی اور3792غیر ریاستی شامل تھے،تاہم محکمہ کو امید ہے کہ امسال جنوری میں گزشتہ برس کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا کیونکہ سیاحوں کی بڑی تعداد رواں ماہ کے دوران وارد ہوئی ،جن میں غیر ملکی سیلانیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔ سیاحوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شاہراہ آفاق گلمرگ میں سیلانیوں کیلئے رہائشی ہوٹلوں کی تعداد کم پڑ رہی ہے،جبکہ سونہ مرگ اورپہلگام میں بھی سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ سیلانیوں کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر اس صنعت سے جڑے ہوئے لوگوں کی مایوسی کم ہو رہی ہے،اور انہیں امید ہے کہ سیاحتی صنعت میں سیلانیوں کی آمد سے جان میں جان آجائے گی۔امسال بالی ووڈ فلم انڈسٹری اور شمالی ہند کی فلم انڈسٹری سے بھی کئی فلمساز اپنا عملہ لیکر وادی وارد ہوئے اور یہاں اپنے پروجیکٹوں کی عکس بندی کی۔ہاوس بوٹ و ہوٹل مالکان کے علاوہ شکارا اور دست کاریوں سے جڑے لوگوں کو امید ہے کہ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کیا امکان نظر آرہا ہے۔
ٹرول(سفری) ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیر کے صدر فاروق احمد کٹھو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ گلمرگ میں مارچ تک تمام ہوٹلوں میں پیشگی بکنگ کی گئی ہے،جبکہ گرمیوں کے موسم میں بھی وادی آنے والے سیلانیبڑی تعداد میں رابطہ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد ہے اور انہیں امید ہے کہ جب یہ سفری ایڈوائزری ختم ہوگی تو  غیر ملکی سیاح بھی وادی کی جانب رخ کرینگے۔فاروق احمد نے تاہم کہا کہ ہوٹل مالکان کو چاہیے کہ وہ ٹرول ایجنٹوں کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ وہ اچانک اور غیر متوقع طور پر ہوٹل کے کمروں  کے کرایہ میں اضافہ کر رہے ہیں،جس کے نتیجے میں کافی لوگوں نے وادی سے دوری اختیاری کی ہے۔کشمیر شکارا ایسو سی ایشن کے صدر حاجی ولی محمد نے بتایا کہ2 برسوں کے بعد سیاحتی سرگرمیوں میں کچھ حد تک اضافہ ہو رہا ہے،جو کہ اگر تسلی بخش نہیں ہے تاہم ایک امید بڑھ گئی ہے کہ سیاحتی صنعت اپنی پٹری پر واپس پہنچ آئے گی۔ ہاوس بوٹ اونرس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد یعقوب دون کا کہنا ہے کہ2برسوں سے ہاوس بوٹ مالکان بے روزگار ہیں،جس کی وجہ سے وہ اپنے ہاوس بوٹوں کی مرمت بھی نہیں کر پائے تاہم سیلانیوں کی تعداد میں اضافے سے وہ کچھ حد تک مطمئن ہوگئے ہیں کہ جو گرہن اس صنعت کو لگا تھا وہ اب جلد دور ہوجائے گا۔ ڈائریکٹر سیاحت ڈاکٹر جی این ایتو کو اس بات کی امید ہے کہ سیلانیوں کی تعداد میں آنے والے وقت میں اضافہ ہوگا۔ڈاکٹرا یتو نے کہا’’ محکمہ سیاحت بیرون ریاستوں،جہاں سے سیلانیوں کی اچھی تعداد وارد کشمیر ہوتی ہے،جن میں احمد آباد،حیدر آباد،ممبئی اور دیگر ریاستیں شامل ہیں،میں روڑ شو کریگا اور وہاں کے سیاحوں کو وادی کی خوبصورتی کی جانب مائل کریں گی‘‘ انکا کہنا تھا کہ محکمہ ثقافتی مہم جوئی اور کھیل کود سیاحت کو فروغ دینے کیلئے نقشہ راہ تیار کرر ہی ہے،جبکہ سیاحتی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے فلم انڈسٹری کے30کے قریب فلم سازوں کو بھی وادی آنے کیلئے دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس بات کو اجاگر کیا جاسکے کہ وادی سیاحوں کیلئے محفوظ ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی میں گزشتہ2برسوں سے سیلانیوں کی تعداد میں کافی کمی واقع ہوئی ہے،جس کے نتیجے میں اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ سیاحت کے اعداد وشمار کے مطابق سال2020میں41ہزار267سیلانیوں نے وادی کی خوبصورتی کا لطف اٹھایا جس میں37ہزار370غیر ریاستی اور3ہزار897غیر ملکی سیاح شامل تھے۔ سال2015میں مجموعی طور پر9لاکھ27ہزار815جبکہ سال2016میں12لاکھ74ہزار596اورسال2017میں11لاکھ96ہزار67سیاح وادی وارد ہوئے۔سال2018میں مجموعی طور پر8لاکھ41ہزار173اورسال2019میں4لاکھ66ہزار599سیلانیوں نے وادی کے خوبصورت نظاروں کا لطف اٹھایا۔